شیر آگیا، شیر آگیا – By: Muhammad Tahseen

Posted on January 31, 2015



شیر آگیا، شیر آگیا
____________________
By: Muhammad Tahseen
ایک گڈریا اپنی بکریاں چراتے ایک گاؤں کے پاس سے گذرا تو اسے شرارت سوجھی۔ اس نے شور مچانا شروع کردیا کے بچاؤ شیر آگیا، بچاؤ شیر آگیا۔ گاؤں کے لوگ اپنی اپنی لاٹھیاں اور ڈنڈے اٹھائے اس کی طرف دوڑے۔ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کوئی شیر نہیں اور گڈریا ان پر ہنس رہا ہے۔ اگلے دن پھر اس نے ایسا ہی کیا اور چِلانے لگا کے سچ مچ شیر نے حملہ کردیا ہے مجھے بچاؤ۔ لوگ پھر اس کی مدد کے لیے آئے اور پھر اس کے مذاق پر اسے برا بھلا کہتے لوٹ گئے۔ تیسرے دن ایک شیر نے سچ مچ بکریوں کے ریوڑ پر حملہ کردیا اور ساری بکریوں کو چیر پھاڑ دیا۔ گڈریا چِلاتا رہا لیکن کوئی اپنے گھر سے اس کی مدد کو نا نکلا۔ یوں گڈریے کو اپنے جھوٹ کی سزا مل گئی۔
پاکستان میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہوگا جس نے یہ کہانی پڑھی یا سنی نہ ہو چاہے وہ کبھی سکول گیا ہو یا سکول کی شکل تک نہ دیکھی ہو لیکن اس کہانی سے ضرور واقف ہوگا۔ یہ کہانی مجھے کل اچانک اس وقت یاد آئی جب الطاف “بھائی” اپنے کارکنوں سے “خطاب” فرما رہے تھے۔ آپ سوچ رہے ہونگے کے الطاف “بھائی” کے خطاب کا اس کہانی سے کیا تعلق؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کچھ تعلق تو بنتا ہے۔ اس خطاب سے پہلے الطاف بھائی نے اعلان کیا کہ میں پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرچکا ہوں اور یہ خطاب میرا آخری خطاب ہوگا۔ ظاہر ہے لوگوں کی ایک کافی بڑی تعداد ان سے عقیدت و محبت رکھتی ہے اس لیے لوگ جوق در جوق ان کا خطاب سننے کے لیے اُمڈ آئے۔
لیکن الطاف بھائی کی طرف سے پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا یہ کوئی پہلا اعلان نہیں تھا۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا زیادہ نہیں تو درجن بھر بار تو میں بھی یہ اعلان سن چکا ہوں۔ لیکن ہر بار یہی ہوتا ہے کہ لوگ کھنچے چلے آتے ہیں، الطاف بھائی کے حق میں زبردست قسم کی نعرہ بازی کرتے ہیں، ان کی منت سماجت اور درخواست کرتے ہیں کہ بھائی پلیز آپ ہمیں نہ چھوڑیں۔ الطاف بھائی ہر بار ان کی “درخواست” منظور کرلیتے ہیں۔ لیکن پھر چند دنوں بعد یہی کاروائی دہرائی جاتی ہے۔ اب یہ تو الطاف بھائی ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ وہ گڈریے کی طرح لوگوں کے ساتھ دل لگی کرتے ہیں یا واقعی انہیں قیادت چھوڑنی ہوتی ہے۔ یہی ہے وہ مشابہت جو گڈریے کے چلانے اور الطاف بھائی کے قیادت چھوڑنے کے اعلان میں ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے کل مجھے یہ کہانی یاد آئی۔ لیکن جو کچھ گڈریے کے ساتھ ہوا اِس کہانی میں ہمیشہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
گڈریے کے صرف دو بار مذاق کرنے کے بعد لوگوں کا گڈریے پر سے اعتبار اٹھ گیا اور وہ تیسری بار اس کی بات کا اعتبار کرنے پر تیار نا ہوئے اور وہ شیر کا شکار بن گیا۔ سنا ہے دیہات کے لوگ سادہ لوح ہوتے ہیں وہ بہت جلد ہی کسی پر اعتبار کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ کہانی تو دہائیوں پرانی ہے اس دور میں ٹی-وی انٹرنیٹ تو چھوڑیں ریڈیو تک نہیں ہوتا تھا تو اس وقت دیہات کے لوگوں کی سادگی کا کیا عالم ہوگا لیکن اس قدر سادگی میں بھی وہ تیسری بار گڈریے کا یقین کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ دوسری طرف پاکستان کا سب سے بڑا اور میڑروپولیٹن سٹی کراچی ہے۔ جہاں کے لوگوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ پڑھے لکھے ہیں اور باقی ملک کے مقابلے میں زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں لیکن وہ ہر کچھ روز کے بعد رات کے وقت اپنے اپنے نعرے لیے نائن زیرو کے باہر جمع ہوجاتے ہیں۔
جس طرح گڈریے والی کہانی ہر پاکستانی نے سنی ہے اسی طرح یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ کراچی میں کن کن پارٹیوں کے مسلح ونگ ہیں اور کون لوگ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ اور سپریم کورٹ کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ نے تو نام لے کر سب کچھ عیاں کردیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی اتنا اندھا اعتعقاد اور محبت؟ یہ جانتے ہوئے بھی کے اسی آپس کی مارا ماری میں کل کسی نامعلوم فرد کی اندھی گولی مجھے یا میرے گھر کے کسی فرد کو بھی لگ سکتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہڑتال سے میرا ہی نقصان ہوتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سکول و کالج بند ہونے اور بار بار امتحانات ملتوی ہونے سے ہمارے بچوں کا ہی مستقبل تاریک ہورہا ہے، اس قدر اندھی عقیدت؟ دوسری طرف اگر ملکی سطح پر دیکھا جائے تو وہی دو چار گھسے پِٹے لوگ، گھسی پِٹی اور رٹی ڑٹائی تقاریر کے ساتھ الیکشن کے دنوں میں نمودار ہوتے ہیں۔ وعدے اور ارادے کرتے ہیں، قسمیں اٹھاتے ہیں , کبھی مذہب کی بنیاد پر تو کبھی لسانیت کی بنیاد پر، کبھی صوبائیت کی بنیاد پر تو کبھی برادری کی بنیاد پر اور ہم ایک بار پھر ان کا اعتبار کرلیتے ہیں۔
منتخب ہونے کے کچھ دن بعد ہی وہ فرماتے ہیں کہ وہ باتیں وہ وعدے وہ دعوے اور وہ قسمیں تو جوشِ خطابت کے باعث سرزد ہوگئی تھیں۔ ہم پھر اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے اگلے الیکشن کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار پھر الیکشن کے دنوں میں بقول حسن نثار یہ مرلے مرلے کے منہ والے نمودار ہوتے ہیں۔ پھر “شیر آگیا, شیرآگیا” کے نعرے لگتے ہیں۔ لوگ پھر اس گاؤں کے لوگوں کی طرح دوڑے چلے آتے ہیں۔ گاؤں کے سادہ لوح لوگوں نے تو دوبار اعتبار کیا تھا ہم ستر سال سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ گڈریے زیادہ ہوشیار ہیں یا ہم پاکستانی ان گاؤں کے لوگوں سے بھی زیادہ سادہ لوح ہیں؟ یا شاید ان بکریوں کی طرح ہیں جو اپنے ہی چرواہے کے جھوٹ کا شکار ہوگئیں. فیصلہ آپ خود کرلیں۔
(محمد تحسین)

https://www.facebook.com/MuhammadTahseen