سرور انڈے فروش سے سرور دی لائن ہارٹڈ تک – محمد تحسین

Posted on January 30, 2015



سرور انڈے فروش سے سرور دی لائن ہارٹڈ تک
_________________________________
By:Muhammad Tahseen
“سابق” گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور جو ایک سیلف میڈ انسان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں. جنہوں نے اپنی آدھی عمر غربت میں گذاری وہ ایک ایسی جگہ سے سالہا سال کی گورننس کا تجربہ لے کر آئے تھے جہاں جمہوریت نے جنم لیا۔ اپنے بیک گراؤنڈ اور اس تجربہ کی بنیاد پر وہ بخوبی جانتے تھے کہ پاکستان کی پچانوے فیصد آبادی کے حقیقی اور بنیادی مسائل کیا ہیں۔ لیکن وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اس ملک میں کسی بھی ایسے بندے کی کوئی جگہ نہیں جو حقیقی معنوں میں ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر ہو یا وہ ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہو۔ اس ملک میں اگر جگہ ہے تو وہ صرف رشتہ داروں، برادری کے لوگوں اور قریبی “وفادار” دوستوں کی۔ چاہے بین الاقوامی مقابلے میں نادرا کے لیےجیتنے والا طارق ملک ہو یا سکاٹ لینڈ کے لوگوں کا شیردل چوہدری سرور ، جو بھی یہاں حکم عدولی کرے گا یا کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرے گا اس کا انجام استعفٰی یا معزولی ہی ہوگا۔
گورنر سرور فیصل آباد پاکستان سے غربت کی حالت میں برطانیہ گئے۔جیسے بہت سے پاکستانی بہتر روزگار کی تلاش میں وہاں جاتے ہیں۔ انہوں نے بھی پاکستانیوں کی ایک اکثریت کی طرح وہاں بطور سیلزمین اپنا کریئر شروع کیا۔ پھر اس کے بعد چھوٹی سطح پر انڈوں کا کاروبار شروع کیا جس کی وجہ سے وہ سرور انڈے فروش کے نام سے بھی مشہور ہوئے۔ آہستہ آہستہ کاروبار کو بھی بڑھاتے رہے اور وہاں کی لوکل لیول کی پولیٹکس میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ چونکہ برطانیہ میں شرح تعلیم لگ بھگ سو فیصد ہے اس لیے وہاں کے لوگ بھی اپنے لیے اچھی قیادت چننے کے اہل ہیں۔ وہ لوگ ذات بردادری، دھن دولت، رشتہ تعلق داری, بدمعاشی وغنڈہ گردی کی بنا پر یا محض ٹیوب ویل کے کنکشن یا بجلی کے میٹر لگوانے کے لیے ووٹ نہیں دیتے بلکہ اپنے ملک کا مفاد دیکھتے ہیں اور نا ہی وہاں غربت کا یہ عالم ہے کہ پانچ سوروپے یا ایک بریانی کی پلیٹ پر اپنا ووٹ بیچ دیں۔ آپ مانیں یا مانیں میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو یہاں ایک مخصوص سیاستدان کو اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ یہ بھی ان کی طرح اپنے نام کے ساتھ “میاں” لگاتے ہیں۔ اس لیے گورنر سرور جیسے لوگوں کی یہاں کیا دال گلنی تھی۔
سو گورنر سرور نے ایک ایسے معاشرے میں خود کو منوایا اور اپنے کاروبار میں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی ترقی کی۔ سب سے پہلے انھوں نے ١٩٨٧ میں ایک مزدور کونسلر کی حیثیت سے گلاسکو سٹی کونسل میں انتخاب لڑا۔ اپنی قابلیت سے صرف دس سال کے عرصے میں ١٩٩٨ میں وہ گلاسکو میں برطانیہ کے پہلے مسلم ایم-پی منتخب ہوئے۔ وہ پہلے ایشین تھے جو گلاسکو کے کسی حلقے سے ایم – پی منتخب ہوئے تھے۔ اور انھیں برطانیہ میں پہلا شخص ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا۔ اس کے بعد وہ متعدد بار ایم – پی منتخب ہوتے رہے اور برطانیہ کی سیاست میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ٢٠٠٦ میں وہ اس مہم کا حصہ تھے جو ٹونی بلیئر کی خارجہ پالیسی کے خلاف شروع ہوئی۔ گلاسکو کے لوگ انھیں سرور – دی لائن ہارٹڈ (Sarwar The Lion Hearted) کے نام سے پکارتے ہیں۔
لیکن برطانیہ کا یہی شیر جب اپنا سارا تجربہ، صلاحیت اور کام کرنے کا جذبہ لے کر پاکستان آیا تو یہاں کے “شیروں” نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ انھیں پتہ تھا کہ جمہوریت کا دوسرا نام بلدیاتی انتخابات ہیں وہ اس کے لیے کوشش کرتے رہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے کیوں کہ اگر پاکستان میں حقیقی جمہوریت آگئی تھی پھر موجودہ بادشاہت ختم ہو جائے گی، اختیارات چند خاندانوں یا چند سو لوگوں کی بجائے عوام کے پاس ہونگے۔ چنانچہ یہ “جمہوری بادشاہ” کبھی یہ سب برداشت نہیں کر سکیں گے۔ ان کے کاروبار، لوٹ مار، ماردھاڑ، اقرباپروی سب کچھ اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ اگر کبھی پاکستان میں حقیقی جمہوریت آئی تو یہ لوگ پاکستان میں نظر نہیں آئیں گے۔ بقول رؤف کلاسرہ پاکستان ان کے لیے ایک چراہ گاہ ہے۔ جہاں سے یہ چرتے ہیں اور پھر بیرونِ ملک اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
(محمد تحسین)