کافر کافر میں بھی کافر- محمد تحسین

Posted on January 22, 2015



کافر کافر میں بھی کافر
___________________
By: Muhammad Tahseen

انتہائی دکھی دل کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ وہ آقا جو بروزِ محشر اُمتی اُمتی پکار رہے ہوں گے، وہ آقا جو ہمارے لیے اتنا روتے تھے کہ اللہ تعالٰی کو تسلی دینے کے لیے جبرائیل امین کو بھیجنا پڑتا تھا۔ وہ آقا جو اتنی شفقت فرمانے والے تھے کہ ہمیں اپنا بھائی کہا ۔ لیکن ہمارا کردار کیا ہے کہ ہمارے نزدیک ہر دوسرا فرقہ یا فقہ گمراہی پر ہے۔ کوئی کسی کو مشرک کہہ رہا ہے تو کوئی کافر، کوئی بدعتی کہہ رہا ہے تو کوئی منکر۔ ایک فقہ دوسرے فقہ کو دکھانے اور دل جلانے کے لیے جلوس نکال رہا ہے تو دوسرا جوابی جلوس اور ریلیاں نکال رہا ہے, ناموسِ رسالت کے لیے احتجاج ہوتا ہے تو وہ بھی ہر فرقے کا الگ، نفرت آمیز خطبات دیے جارہے ہیں, دلوں میں کدورتیں اور نفرتیں بھریں ہیں۔ مسجد و منبر سے جہنمی ہونے کے فتوے صادر ہو رہے ہیں۔ ایک کلمہ گو دوسرے کلمہ گو قتل کرنے کے درپے ہے۔ ہم نے امت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ کیا ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہمارے فرقہ کے حوالے سے پکاریں گے؟ کیا وہ اللہ کے حضور شفاعت کی دعا کسی فرقہ کا نام لے کر کریں گے؟
چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دانست میں صحیح ہے اور دوسرا گمراہی پر ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں صحیح ہوں تو پھر میرا عمل کیا ہونا چاہیے؟ اپنی الگ مسجد بنا کر اس پر مسلک کا نام تحریر کردوں اور دوسرے مسلمانوں کی انٹری بین کردوں؟ دوسرے سے نفرت کرنے لگوں؟ اسے غیر مسلم سمجھوں؟ اس سے مصافحہ بھی نا کروں؟ اس کے سلام کا جواب بھی نہ دوں؟ وہ میرے فقہ کی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اس سے مسجد دھلواؤں؟ میرے فقہ کا کوئی شخص کسی اور فقہ کی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اسے تجدیدِ نکاح کا کہوں؟ دوسرے فقہ کے علماء کے کارٹون بناؤں؟ مختلف مواقع کی تصاویر اور ویڈیوز ایڈٹ کرکے ان کی تضحیک کروں اور انھیں گمراہ ثابت کرنے کی کوشش کروں؟ طعنہ زنی کروں؟ جملے کسوں؟ اشارہ بازی کروں؟ دوسرے کے عقائد کا مذاق اُڑاؤں؟ دوسروں کو حقیر اور خود کو بڑا بلند سمجھوں؟ اسے گنہگار اور خود کو پارسا تصور کروں؟ نفرت اور کدورت میں اس حد تک بڑھ جاؤں کے اسے قتل کرکے خود کو جنت کا حقدار سمجھنے لگوں؟
یا پھر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کروں۔ اسے کھانا کھلاؤں، اس سے مصافحہ کروں، اس کی دعوت قبول کروں، اسے گلے لگاؤں، اس کی عیادت کروں، اس کے لیے دعا کروں، اسے پیار سے سمجھاؤں، اس کی دلجوئی کروں، اس سے بہترین اخلاق کے ساتھ پیش آؤں۔ کیا ہمیں نہیں پتہ کے زکوٰہ کا ایک مصرف مولف القلوب بھی ہے؟ اور وہ بھی کس کی؟ کافروں کی جو سرے سے کلمہ کو مانتے ہی۔ یعنی کے ان کی دلجوئی کرنے، ان کا دل نرم کرنے کے لیے زکٰوہ کا پیسہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو جہل جیسے مشرکین کے سردار کو ایمان لانے کے کی اتنی دعوت دیتے تھے کہ ایک بار ابو جہل کہنے لگا یا محمد اب بس کرو میں تمہارے اللہ کے سامنے گواہی دے دوں گا کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا تھا۔
عبداللہ بن ابی جیسے منافق کا نمازہ جنازہ پڑھا رہے ہیں، اپنی چادر اسے کفن کے لیے عطا فرمارہے ہیں، اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتار رہے ہیں، پھر فرماتے ہیں کہ اسے قبر سے نکالو اور پھر اپنا لعبِ دہن اس کے منہ میں ڈالتے ہیں کہ شاید اسی کے طفیل اللہ اس کی بخشش فرمادے۔ فرماتے ہیں اللہ نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر آپ ستر مرتبہ بھی اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے تو میں اس کو معاف نہیں کروں گا اور اگر اللہ یہ فرماتا کے اگر آپ ستر مرتبہ پڑھیں گے تو میں معاف کردوں گا تو میں ستر مرتبہ اس کا جنازہ پڑھ دیتا۔ ایک یہودی کا جنازہ جاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو رونے لگتے ہیں کہ کاش یہ مسلمان ہوکر مرتا۔ ہر روز کوڑا پھینکنے والی عورت بیمار ہوتی ہے تو عیادت کے لیے جاتے ہیں، یہودی عورت کھانے کی دعوت دیتی ہے تو دعوت قبول فرماتے ہیں، پتھر مار مار کر لہوں لہان کردینے والوں کے لیے بددعا نہیں فرماتے، سب سے پیارے چچا حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبانے والی ہندہ کو معاف فرمادیتے ہیں۔
ایک بار انتہائی زیادہ گستاخی پر عبداللہ بن ابی کے بیٹے جو ایک صحابی ہیں عرض کرتے ہیں کہ مجھے اجازت دیجیے میں اپنے باپ کا سر قلم کردوں۔ آپ فرماتے ہیں نہیں میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ بیٹھے والوں کو گردنیں مارنے کا حکم دیتا ہے۔ تلوار کے نیچے کلمہ پڑھنے والے مشرک کو قتل کردینے پر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہُ کی شرزنش فرمارہے ہیں کہ کیا تو نے اس کے دل میں جھانک کر دیکھ لیا تھا؟ آپ فرماتے ہیں ہر نبی سے زیادہ مجھے ستایا گیا ہے لیکن جب فاتح مکہ کی حیثیت سے شہر میں داخل ہورہے ہیں تو انہیں ستانے والے لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرما رہے ہیں۔ اللہ نے خود آپ کو رحمتہ العالمین بنایا اور لفظ اخلاق کی تو آپ مجسم تصویر ہیں۔ لیکن ذرا ان الفاظ پر غور فرمائیے کہ اللہ تعالٰی پھر بھی فرما رہا ہے۔ “اے نبی نرم خو ہوجائیے۔”
ذرا سوچیں کہ جس طرح مسلمان اسلام کے نام پر ایک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہیں تو کیا کوئی غیر مسلم اسلام لانے کے بارے میں سوچ بھی سکے گا؟ جس طرح ہم ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں تو کون غیر مسلم اس دائرے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا؟ چلیں غیر مسلم تو چھوڑیں کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ انھیں نفرتوں کے پرچار کی وجہ سے خود مسلمان بھی اسلام سے دور ہوتے جارہے ہیں؟ ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ اگر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر ہم سے منہ پھیر لیا کہ تم نے بھی میری امت کو ٹکڑوں میں باٹنے میں حصہ لیا، تمہاری وجہ سے کوئی شخص میرے دین سے دور ہوا۔ چلیں تھوڑی دیر کے لیے اپنے گریبان میں جھانک لیں کہ کیسے پھیلے گا اسلام اور کیسے ہوگی انسانیت کی اصلاح۔ جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی یا جیسے ہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟
اور تم سب مل کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن)
دیکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (خطبہ حجتہ الوداع)
کُچھ مسجد کے باہر کافر
کُچھ مسجد کے اندر کافر
مُسلم مُلک میں اکثر کافر
کافر کافر میں بھی کافر
کافر کافر تُو بھی کافر۔۔۔ ۔!!!
(محمد تحسین)