By:Muhammad Tahseen خُدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

Posted on January 21, 2015



خُدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
________________________________
By:Muhammad Tahseen
پٹرول کرائسس کے ساتویں دن اسحٰق ڈار صاحب نے عوام کو بیوقوف سمجھنے کی روایت برقرار کھتے ہوئے فرمایا ہے کہ پٹرول بحران ہمارے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ دوسری طرف منسٹر آف پٹرولیم فرماتے ہیں کہ ڈیمانڈ میں اضافے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔ اگر ان دونوں اشخاص کے بیانات کو ملایا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ عوام نے ہی زیادہ پٹرول خرید کر حکومت کے خلاف ”سازش“ کی ہے۔ لیکن وہ زیادہ خریدا ہوا پٹرول آخر گیا کہاں کہ لوگ اپنے گھر کی خواتین کو بھی پٹرول کی تلاش میں سڑکوں پر لے آئے ہیں۔
محترم میاں محمد نواز شریف صاحب نے حسبِ سابق اپنی ”خاندانی روایت“ برقرار رکھتے ہوئے ”نوٹس“ لے لیا ہے۔ اور ایک عدد مزید کمیٹی قائم فرمادی گئ ہے۔ اسحاق ڈار صاحب بھی اس کمیٹی کا حصہ ہونگے جو پہلے ہی چھیاسی کمیٹیوں میں موجود ہیں۔ کمیٹی اور کمیشن کا مطلب تو آپ جانتے ہی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے ملک میں کافی لوگ ”کمیٹیاں“ ڈالتے ہیں اور ”کمیشن“ بھی کافی مقدار میں کھایا جاتا ہے۔
نواز شریف صاحب، اسحٰق ڈار صاحب اور شاہد خاقان عباسی صاحب کے ہوتے ہوئے کسی کو سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ تیسری بار وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف صاحب کی کوالیفیکیشن بس اتنی ہی ہے کہ وہ پاکستان کے چوتھے امیر ترین شخص ہیں۔ جس کو چاہے خرید سکتے ہیں اور اگر کوئی بِکنے کو تیار نہ ہو تو پھر چھوٹے میاں صاحب اور رانا ثنا اللہ تو موجود ہی ہیں وہ ”ڈیل“ کرلیں گے۔ اس کوالیفیکیشن کے عللاوہ تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ وہ چند فارمل سے جملے بھی خود سے نہیں بول سکتے جب تک کے انھیں لکھ کر نا دے دیئے جائیں۔ اسحٰق ڈار صاحب جو ہمارے ملک کے وزیرِ خزانہ ہیں انھوں نے پچھلے سال اپنے ٹیکس ریٹرنز میں دکھایا کہ انھوں نے دبئی میں مقیم اپنے بیٹے کو ”قرضہِ حسنہ “کے طور پر پینتالیس کروڑ روپیہ دیئے ہیں اور ”ماشااللہ“ ان کے قرض دار بیٹے دبئی کے بزنس ٹائیکون ہیں۔ جس ملک کا وزیرِ خزانہ ٹیکس بچانے کے لیے اس طرح کی حرکات کرے اور جھوٹ بولے تو پھر بس اللہ کا شکر ہی ادا کرنا چاہیے کہ ہم کم از کم جی تو رہے ہیں۔
اور شاہد خاقان عباسی وہ ”ہنر مند“ شخص ہیں جنہوں ١٩٩٧ سے ١٩٩٩ کے درمیان چیرمین پی-آئی-اے کی حیثیت سے ”خدمات“ انجام دیتے ہوئے ایر بلیو کے نام سے اپنی ایر لائن قائم کرلی۔ لہٰذا اس حد تک ”تجربہ کار“ ٹیم کے ہوتے ہوئے کیا کوئی سازش کرسکتا ہے؟ اور یہی ہے وہ ”تجربہ کار“ ٹیم جس کا محترم میاں محمد نواز شریف صاحب اپنی ہر تقریر میں ذکر فرماتے تھے۔ لیکن سلام ہے پاکستان کے عوام کو جو سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان پر اندھا اعتقاد اور اعتماد رکھتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ پاکستانی قوم ہر لحاظ سے اسی قابل ہے کہ اس دور میں جب انسان چاند اور مریخ پر بسنے کی تیاریوں میں ہے ہم لوگ انتہائی بنیادی انسانی ضروریات کے لیے بھی مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کوئی گھر کی خواتین کو بوتلیں تھمائے پٹرول پمپس پر لے آیا ہے اور کوئی خود ہی برقع اوڑھے پٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہاں مجھے حسن نثار صاحب کی ایک بات یاد آگئی جو فرماتے تھے کہ اگر پاکستانی قوم اب بھی نہ سمجھی تو پھر ان کی چیخیں مریخ پر سنائی دیں گی۔
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ۔ ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خود تبدیل نہ کرے“
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(محمد تحسین)