گو عمران گو لیکن کیوں؟ – محمّد تحسین

Posted on January 17, 2015



گو عمران گو لیکن کیوں؟
—————————-
Muhammad Tahseen

چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بالکونی میں بیٹھا میں کافی دیر سے کچھ سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن سمجھ نہیں پا رہا اگر آپ سمجھ سکیں تو مجھے بھی سمجھا دیں۔ پشاور واقعے کے فورا بعد عمران خان پشارو پہنچے جبکہ پوری طرح سکول کو کلیر بھی نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے ہسپتال میں زخمی بچوں کی عیادت کی۔ پشاور سانحے کی شام کو انھوں نے ایک سو چھبیس دن سے جاری جائز احتجاج اور دھرنا ایک لمحے میں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ پھر کچھ دن بعد وہ دوبارہ پشاور گئے اور کچھ شہید بچوں کے ورثا سے ملاقات کی۔ اسی دوران انتہائی اختلافات کے باوجود بھی انھوں نے دہشت گردی کے خلاف بلائی گئے ہر اجلاس اور کانفرنس میں شرکت کی۔ اور ایک ایسے وزیرِاعظم کے ساتھ بیٹھتے رہے جسے وہ اور ملک کی ایک اکثریت جعلی وزیرِ اعظم سمجھتی ہے۔ حکومت اور آرمی کی طرف سے اٹھائے گئے ہر قدم یا متوقع اقدامات کی غیر مشروط حمایت کی۔ کچھ دہشت گرد گروپوں سے جو مذکرات کرنا چاہتے تھے سے مذکرات کرنے کے اپنے پرانے موقف سے بھی پیچھے ہٹ گئے۔ کل پرویز رشید عرف گوئیبلز فرمارہے تھے کہ عمران خان نے پشاور سانحہ پر سیاست کرنے کی کوشش کی تو اس سب میں سیاست کہاں ہے؟ اس کے برعکس سیاست تو خود گوئیبلز رشید اور ان کی پارٹی نے کرنے کی کوشش کی کہ عمران خان کے خلاف احتجاج کے بعد دیگر درباریوں کے ہمراہ فورا عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی۔ جبکہ بارہ جنوری کو بجائے آرمی چیف کے وزیرِ اعظم کو وہاں موجود ہونا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس ان کی صاحبزادی اور نون لیگ یوتھ ونگ کی سربراہ مریم صفدر صاحبہ نے اپنی بیٹی کو پڑھنے کے لیے لاہور کے ایک سکول سے ہٹوا کر بیرونِ ملک بھیج دیا۔ یہاں میں یاد دلا دوں کہ شہر لاہور ایک ایسے صوبہ میں واقع ہے جہاں تقریبا تیس سال سے نون لیگ کی حکومت ہے۔

پھر جب بارہ جنوری کو آرمی پبلک سکول پشاور دوبارہ کھلا تو وہ اسی دن وہاں جانا چاہتے تھے لیکن انھیں بتایا گیا کہ آرمی چیف بھی اسی دن وہاں جا رہے ہیں اس لیے ان کا وہاں جانا مناسب نہیں یا تو ساری سیاسی قیادت وہاں موجود ہو۔ چنانچہ انھوں نے اس دن کا دورہ ملتوی کرکے کے کل وہاں پہنچے۔ لیکن ان کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس کے برعکس آج ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔ سراج الحق نے بھی آرمی پبلک سکول کا دورہ کیا۔ یہ وہی سراج الحق ہیں جو ایک ایسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کھلے عام طالبان، القاعدہ اور ان جیسی دوسری تنظمیوں کی حمایت کرتی ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس کے رہنماؤں کے گھر اور مدرسوں سے دہشت گرد برآمد ہوچکے ہیں۔ یہ ان چند پارٹیوں میں سے ہے جو طالبان کی اس بربریت اور سفاکیت جس کی تاریخِ انسانی میں مثال نہیں ملتی کی مذمت کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔ یہ اس پارٹی کے سربراہ ہیں جو ملٹری کورٹس کے قیام کی مخالف میں پیش پیش ہے۔ اور سب سے بڑھ کر انھی کی پارٹی کے سابق سربراہ طالبان کے سابق مردود سربراہ کو شہید قرار دے چکے ہیں۔ لیکن جب آج انھوں نے آرمی پبلک سکول کا دورہ کیا تو نا کوئی احتجاج ہوا نا نعرے لگے نا راستے روکے گئے۔ یہی وہ بات ہے جو میری سمجھ میں نہیں آرہی۔

ہوسکتا ہے عمران خان کے خلاف احتجاج اس لیے ہوا ہو کہ خیبر پختونخواہ میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔ لیکن پھر سراج الحق بھی تو اسی حکومت کا حصہ ہیں اور اسی حکومت میں وزیرِ خزانہ رہ چکے ہیں اور ان کی پارٹی کے ارکان اب بھی کئی وزارتوں پر فائز ہیں۔ اور پھر سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی کوئی صوبائی مسئلہ بھی نہیں اور اے این پی کی حکومت کے دوران تو شاید ہی کوئی ایسا دن گذرتا ہو جس دن کہیں خودکش حملہ یا بم دھماکہ نہ ہوتا ہو۔ خیبر پختونخواہ کے ساتھ کئی سو کلومیٹر پر قبائلی علاقوں کی سرحدیں ہیں جنہیں عرف عام میں علاقہ غیر کہا جاتا ہے اور جہاں حکومتِ پاکستان کی کوئی عملداری نہیں اور عملا وہاں طالبان کی حکومت قائم ہے جس کے خلاف آرمی آپریشن جاری ہے۔ پھر اس کے بعد دس لاکھ آئی ڈی پیز کا بوجھ بھی صرف کے پی کے پر ڈال دیا گیا۔ ضلع اسلام آباد کی آبادی بھی تقریبا دس لاکھ ہی ہے یعنی ایک پورا کا پورا شہر اس وقت گھروں سے باہر ہے جس کی ذمہ داری کے پی کے کی گورنمنٹ پر ہے۔ کل احتجاج کرنے والے کچھ لوگوں کے کہا کہ عمران خان پہلے کیوں نہیں آئے تو پہلے تو وہ تین بار جا چکے تھے اور بارہ جنوری کو آرمی چیف کے دورہ کی وجہ سے نہ جا سکے۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کے عمران خان نے سانحہ کے چالیسویں سے پہلے ہی شادی کر لی احتجاج اس لیے ہے تو جو کچھ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے مُلا ریحام خان کے ساتھ کر رہے تھے تو ان کے پاس کیا آپشن رہ گیا تھا؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لوگوں کو احتجاج نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ ان کا حق ہے جب چاہے استعمال کریں۔ نا ہی میں خیبر پختونخواہ کی حکومت کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کررہا ہوں اگرچہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے۔ لیکن یہ ہر پاکستانی ہی جانتا ہے کہ دہشت گردی کے تناظر میں خیبرپختونخواہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور وہاں حکومت چلانا باقی صوبوں کی نسبت آسان نہیں۔ اور جب تحریکِ انصاف نے وہاں حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تو بہت سے دانشوروں نے منع کیا کہ خیبر پختونحواہ کی حکومت ایک ٹریپ ہے جس میں آپ پھنس جائیں گے۔ ان سب حقائق کے بعد بھی صرف احتجاج صرف عمران خان کے خلاف اور گو عمران گو لیکن کیوں؟
(محمد تحسین)