ملک ریاض صاحب الللہ کو خوش کریں۔ زرداری اور الطاف حسین کو خوش کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تحریر۔ حبیب جان لندن۔

Posted on January 11, 2015



تحریر۔ حبیب جان لندن۔

کیا ملک ریاض بھی مستقبل میں نوبل انعام کے حق دار بن سکتے ہیں۔ اگر ملک صاحب زرداری اور الطاف کی جگہ الللہ کی رضا کیلئے کام کریں۔

دنیا فانی ہے اور ہم سب نے بلآخر تمام تر رعنائیوں اور موج مستیوں کے بعد دائمی ذندگی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ بحیثیت مسلمان اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی اکثریت کا یہ متفقہ یقین ہے کہ دنیاوی ذندگی میں سرانجام دئیے گئے اچھے اور نیک کام کا اجر ہمیں آخرت میں ملے گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک سے وابستہ لوگ چئیریٹی کے کاموں کو بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ چاھے وہ مذہبی ہو یا دہریہ یہ سب کسی نہ کسی سطح پر بڑھ چڑھ کے نیکی یا انسانیت کی بہتری کے کام کرتے ہیں۔ بل گیٹ ان سب میں ایک بہت بڑی شاندار مشال ہے۔

پاکستان کی آزادی کے وقت حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے جب ایک لوٹے پٹے قافلہ کو مملکت خداداد پاکستان بنانے کی داغ بیل ڈالی تو اس وقت کے اُمراء اور رؤساء نے دل کھول کر عطیات دئے۔ کچھ بڑے بڑے سیٹھوں اور نوابوں نے خزانہ کے منہ کھول دئے۔ ان لوگوں نے ہسپتالیں۔کالجز۔یونیورسٹیاں۔ دفاتر۔ سڑکیں غرض جو جس جس کے بس میں تھا اپنا اپنا حصہ ڈالا اور پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں ہوگیا۔آج بھی کراچی میں آدم جی۔ عائشہ باوانی۔ عبدالللہ ہارون جیسے لوگوں کی تعمیر کردہ پُرشکوہ یادگار عمارتیں اپنی آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں۔

پاکستان کے معروض وجود میں آنے کے فقط ۳۰ سال بعد ہی وطن عزیز میں ہر شعبہ ذندگی میں نیک لوگوں کی جگہ کرپٹ لوگوں کا غلبہ بڑھنے لگا۔ اُمراء رؤساء بیوروکریٹ سیاستدان سب کے سب دو اور دو بائیس کرنے میں لگ گئے۔ گویا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد تو آمر ضیاءالحق نے پاکستان میں کرپشن کو ایک ایسی قانونی شکل دے دی کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہوگیا۔ سیٹھوں نے چئیریٹی کے کاموں سے منہ موڑ لیا سرکار نے عوامی فلاحی منصوبوں کی جگہ وڈیروں اور جاگیرداروں کی اوطاقیں بنانا شروع کردی سڑکیں کم اور محلات زیادہ بننے لگے۔ سرکاری علاج گاہوں کی جگہ پرائیوٹ ہسپتال تعمیر ہونے لگے۔ اسکولز یونیورسٹیز کی جگہ پلازوں نے لے لی جس فلاحی مملکت کا خواب دیکھا تھا وہ آہستہ آہستہ ایک مکمل کمرشل معاشرہ میں تبدیل ہوگیا۔

ضیاءالحق کا آمرانہ دور دراصل پاکستان کےلئے ایک ٹرننگ پوائینٹ تھا۔ جہاں نام نہاد مذہبی اسکالرز اور ملُا ازم کو تقویت ملی تو دوسری طرف معاشرے میں کرپشن بھی سرائیت کرگئی جمہوری اداروں کا نعم البدل تلاش کرتے کرتے ضیاءالحق پاکستانی معاشرے کو ایسی دلدل میں چھوڑگئے کہ آج تک ہم اس دلدل سے نکل نہیں پائیں۔ اسی ادوار میں ایک واحد انسان تھا جو سماجی کاموں کے حوالے سے اپنے تئی کھارادر سے خیبر تک نہ صرف ایمبولینس سروس چلارہا تھا بلکہ ہر حادثہ پر حکومت سے پہلے موجود ہوتا تھا جی ہاں آپ صحیح سمجھے بلکل عبدالستار ایدھی صاحب۔ آج بھی سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسیاں ایدھی صاحب کی بدولت اپنا ملکی نیٹ ورک چلارہی ہیں۔ سرکاری ایمبولینسیں تو رنگ بدل کر صاحب لوگوں کے محلات میں؟؟

سرکار کی مدد کیےلئے ہمیشہ کچھ سماجی ادارے پشت پر ہوتے ہیں جو معاشرے کے دیگر چھوٹے چھوٹے معاملات جیسے صحت۔تعلیم اور دیگر بنیادی ضرورتوں کے شعبہ میں معاونت کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ سرکار نے ان سماجی اداروں سے مدد لینے کی بجائیں ان اداروں کو بھی اپنی کرپشن کا ایک موئثر ذریعہ بنالیا۔ آج وطن عزیز میں ایک آدھ سماجی اداروں کو چھوڑ کر سارے کے سارے مال بنانے کا زریعہ بنے ہوئے ہیں تو کچھ ڈالرز کے عوض مُلکی عزت و ناموس فروخت کرنےکے کام پر مامور ہیں۔ جو کچھ ضیاءالحق کے دور میں بویا گیا تھا آج ہم اس کی فصل کاٹ رہے ہیں۔

یہ سب تمہید باندھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم مختصر جائزے میں اپنا ماضی دیکھ سکیں یا سمجھ سکیں۔ آج ہمارے مضمون کا عنوان ملک ریاض صاحب ہے۔ ملک ریاض ایک لینڈ ڈیولپئیرز اور معروف کمپنی بحریہ ٹاؤن کے روح رواں ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے ملک صاحب نہ صرف کاروبار زندگی کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ایدھی صاحب سے پہلے ہر جگہ موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔کشمیر کے زلزلہ سے لے کر حالیہ دسمبر ۲۰۱۴ والی کراچی ٹمبر مارکیٹ والی آتشزدگی تک ملک صاحب کی مالی امداد کی صورت میں امداد موجود ہے۔

ملک ریاض پر کچھ حلقہ زمینوں پر قبضہ کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ اور کچھ احباب یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ ملک صاحب انسانوں کو خریدنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس سلسلے میں سابق چیف جسٹس محترم چودھری محمد افتخار کے صاحبزادے ارسلان افتخار کے سیر سپاٹے اور سپریم کورٹ کے قصہ اور بعد ازاں ان قصوں کا یکدم غائب ہوجانا اس کی واضح مشالیں ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ملک ریاض صاحب کی فیاضی اور دریا دلی نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ قابل تعریف بھی ہے۔ ایک بات یہاں غور طلب ہے ملک ریاض صاحب کی اعلان کردہ امداد ہمیشہ سائل کو وقت پر مل بھی جاتی ہے اور آج تک ہم نے کسی اخبار میں کسی سائل کی ایسی خبر نہیں پڑھی کہ ملک ریاض کی اعلان کردہ امداد اس کو نہ ملی ہو حالانکہ سرکار کی اعلان کردہ اکثر امدادیں فقط اعلانات تک ہی محدود ہوتی ہیں اور آج بھی پیشتر سائلین کئی کئی سالوں سے وزیر اعلی ہاؤسز اور ڈپٹی کمشنرز ہاؤسز کے چکر لگا لگا کر اس اُمید پر زندہ ہے کہ شاید کبھی قسمت یاوری کر جائیں۔

ملک ریاض صاحب تُسی گریٹ ہو۔ ضرورتمندوں کا خیال رکھتے ہو۔لیکن اب ہمیں لگتا ہے کہ آپ ضرورت مندوں کے ساتھ ساتھ اپنی مارکیٹینگ بھی خیال رکھتے ہو۔ وقت کے بادشاہوں کو بھی خوش رکھنے کا گر جانتے ہو۔ اسی لئے تو آپ نے کہا کہ زرداری صاحب کے کہنے پر الطاف بھائی کے نام پر ایک نہیں دو دو یونیورسٹیاں بنائینگے واہ واہ یعنی ایک نہ شُد دو شُد۔ اور تو اور سونے پر سہاگہ الطاف کے کارکنوں کو جو ریاست سے لڑتے ہوئے مارے گئے جو آج کل سارے شہید ہیں پلاٹ بھی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے۔ ملک صاحب مال آپ کا زمین آپ کی آپ جس کو چاہے دیں لیکن اس بات کا خیال رہے کہ جس الطاف بھائی کو زرداری کے کہنے پر آپ خوش کرکے کاروباری تحفظ حاصل کرنا چاہتے ہیں اسی الطاف بھائی کے کارندوں نے شہر کراچی کے دیگر لوگوں کو بھی ہلاک کیا ہیں کراچی میں بلوچ۔ سندھی۔پنجابی۔پختون متحدہ سے اختلاف رکھنے والے اردو بولنے والوں کے ساتھ ساتھ کرسچئین ہندو اور گجراتی بولنے والوں کو بھی شہید کیا گیا ہے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ملک صاحب اگر پلاٹ دینے ہے تو ظالم کو بھی دیں اور مظلوم کو بھی۔

ملک صاحب الطاف صاحب کے لوگوں نے ۱۷۵ پارکس اور گراؤنڈز قبضہ کرکے پلازے اور بلڈنگیں بنادی لیکن نہیں بنائی تو کالج یونیورسٹی نہیں بنائی۔ ہمیں الطاف کے نام پر یونیورسٹی بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہماری آپ سے درخواست ہے سندھ کے ہر ضلع میں کراچی کے ہر ٹاؤن میں میرے لیاری میں بھی آپ اسکولز کالجز ہسپتال بنائیں یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے کہ کسی ڈاکو کے نام پر بنائیں یا کسی مفکر کے نام پر۔ نام میں کیا رکھا ہے تاریخ خود نام یاد رکھتی ہے کون ڈاکو تھا آور کون قاتل۔ ملک صاحب اب آپ نے زرداری صاحب کے مشورے پر سندھ میں قدم رنجا فرمالئے ہی تو خُدارا صرف قاتلوں ڈاکؤں کو خوش نہ کریں سندھ کے محروم لوگوں کے بھی مسائل پر توجہ دیں چند ہسپتالیں چند کالج چند یونیورسٹیاں اور لیاری کے لوگوں کےلئے تعلیم علاج کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سہولتیں بھی مل جائیں تو جس میں باکسنگ جمناجئیم فٹبال گراؤنڈز سائیکلنگ ٹریکس تعمیر ہوجائیں تو آپ یقین کریں ہم آپ کو ہر سال دنیا سے تمغہ لا لاکر دینگے۔

ملک ریاض صاحب الللہ کو خوش کرنےکا راستہ تلاش کریں آپ زرداری اور الطاف کو زندگی بھر خوش رکھے لیکن زرا سی غلطی پر یہ لوگ بدلہ میں کچھ اور دیتے ہیں۔ مجھ کو یقین ہے آپ خلق خدا کو خوش رکھینگے تو آخرت میں اوپر والا مہربان ہوگا اور زمین پر رہنے والوں کی دعاؤں سے دنیا میں نوبل پرائز بھی مل جائے گا انشاءالللہ آپ کو اگلے مضمون میں نوبل پرائز حاصل کرنے کا مارکیٹنگ فارمولہ بھی دینگے اور ماشاءالللہ آپ مارکیٹینگ میں ویسے بھی گریٹ ہے۔