بینظیربھٹو اور دہشتگردی تحریر : سید انور محمود

Posted on January 1, 2015



تحریر : سید انور محمود

پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے 2013ء تک مرکز اور چاروں صوبوں میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکمرانی کرتی رہی ،اس سے پہلے27 دسمبر 2007ء کو پیپلز پارٹی کی قائد بینظیربھٹو دہشتگردی کا شکار ہوگیں، پرویز مشرف جلدہی اقتدار سے علیدہ ہوگئے اور پیپلز پارٹی برسراقتدار آگئی، آصف زرداری ملک کے صدر بن گئے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں دو کاموں کو بہت عروج حاصل ہوا، پہلا کام تھا کرپشن جبکہ دوسرا کام تھا دہشتگردی۔ سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کو دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے سات سال ہوگے ہیں۔ پانچ سال تک پاکستان پیپلز پارٹی مرکز اور سندھ میں حکمراں رہی اور بینظیربھٹو کےشوہرآصف زرداری ملک کے صدر رہے لیکن اُنکے قاتل کون تھے اس سوال کا جواب آجتک قوم کو نہ مل سکا۔ گڑھی خدا بخش میں کھڑئے ہوکر سابق صدر آصف زرداری شکوہ کررہے تھے کہ اگر بینظیرپرکراچی حملے کا نوٹس لے لیا جاتا اور شاہراہ فیصل پر450بچوں کےقتل کانوٹس اگر ‘بلا’ (سابق صدر جنرل پرویز مشرف) لےلیتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ بقول آصف زرداری اگر دو ہزار ساتھ میں بینظیربھٹو کے قتل پر ایکشن لے لیتے تو سانحہ پشاور نہ ہوتا۔ جواب میں پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بینظیربھٹو کی موت کا سب سے بڑا فائدہ اُن کے شوہر آصف زرداری کو ہوا۔ زرداری کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا وہ دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے کی بجائے قاتلوں کو تلاش کریں۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کو پہلے مرتضیٰ بھٹو اور بینظیربھٹو کے قاتلوں کا پیچھا کرنا چاہئے۔

بینظیربھٹو کے قتل کیس کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 230 سماعتیں ہو چکیں ہیں، سات جج تبدیل ہوئے مگر کیس تاحال ابتدائی مراحل میں ہے۔ مقدمے کی ابتدائی تفتیش پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے کی۔ بعدمیں تفتیش ایف آئی اے کی مشترکا تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کر دی گئی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے تحقیقات کرانے اور اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنے کی حکومتی درخواست کے باعث بھی خصوصی عدالت میں ٹرائل ڈیڑھ سال تاخیر کا شکار رہا۔وکلاء صفائی کا کہنا ہے کہ ٹرائل میں تاخیر کی بڑی وجہ بینظیربھٹو کے ورثاء کا مقدمے میں دلچسپی نہ لینا ہے اور آصف زرداری ایک شوہر کی حیثیت سے بینظیربھٹو کے سب سے بڑئے ورثاء ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ بینظیربھٹو کے المناک، وحشیانہ قتل کی واردات نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو سوگ میں مبتلا کر دیا تھا، یہ پوری قوم کے ساتھ ظلم ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری دور کے بعد اب نوازشریف کے دور اقتدار میں بھی بینظیربھٹو کے المناک قتل کی تحقیقات منظر عام پر نہیں آئیں۔ زرداری کی پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت ایک مرتبہ بھی بینظیربھٹو کے قاتلوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی۔

بینظیربھٹو بہت شدت سے دہشتگردی کے خلاف تھیں اور اپنی زندگی کے آخری وقت میں وہ روالپنڈی کے اپنے جلسے میں دہشتگردوں کو للکار رہی تھیں۔ اُنکے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کے دور میں مسلسل دہشتگردی ہوتی رہی لیکن اُنکے شوہر آصف زرداری کرپشن میں مصروف ہونے کی وجہ سے دہشتگردی کو نہ روک سکے۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں ہر طرف کرپشن، بدامنی، افراتفری اور لاقانونیت تھی۔ پورئے ملک میں دہشتگردی کا راج تھا۔ پورا ملک دھماکوں میں گھرا ہوا تھا۔ کراچی ، کوئٹہ ، پشاور، تربت، لورالائی ، ڈیرہ غازی خان، دیر غرضیکہ سارا ملک دہشتگردی کا شکار تھا لیکن پیپلز پارٹی کے وزرا فرماتے تھے ان واقعات کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں یہ امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کی ناکامی ہے۔ مارچ 2013ء کے کراچی اور کوئٹہ میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اُسے سُنی اور شیعہ فسادات اور فرقہ واریت کا رنگ دیا گیا اور حالات کو کنٹرول میں لانے کا دعوی کیا گیا، حیرت کی بات یہ تھی حکومت اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرنے والی تھی اور پانچ سال بعد حالات کو کنٹرول میں لانے کا دعوی کیا جارہا تھا۔

سرادار ایوب کے ایک مضمون ْپیپلز پارٹی کا دور اور موجودہ حکومتْ کے مطابق 2004ْء سے 2008ء تک پرویز مشرف کے دور میں صرف دس ڈرون حملے ہوئے تھے جس میں تقریبا 121 افراد مارے گئے تھے۔جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں 2008ء میں تقریبا 26 ڈرون حملے ہوئے جس میں 156 افراد مارے گئے تھے۔2009ء میں 48، 2010ء میں 97، 2011ء میں 52 اور 2012ء میں37 حملے ہوئے تھے جس میں بالترتیب 536، 831، 548 اور 344 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔2008ء سے 2013ء تک ڈرون حملوں کے علاوہ ملک میں بہت سارئے دھماکے ہوئے جس میں بہت سے بے گناہ لوگ مارے گئے۔سال 2008ء دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریبا 2155، 2009ء میں مرنے والوں کی تعداد2324، 2010ء میں 1796، 2011ء اور 2012ء میں مرنے والوں کی تعدادبالترتیب 2778 اور 3007 تھے۔ اُس دور میں ملک میں ایک عجیب مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔دھماکوں اور بدامنی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو چکا تھا ْ۔

پانچ سال کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی مدت پوری ہوئی تو آصف زرداری، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور انکی کابینہ کے اراکین ، پیپلز پارٹی کے لیڈران اس بات پر خوشی سے پھولے ہوئے تھے کہ ان کی حکومت نے پانچ سال تک ایک جمہوری حکومت کو چلایا۔ لیکن پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور حکومت کا یہ ریکارڈ بھی ہے کہ پانچ سال کے دوران زرداری حکومت کے دور میں دہشتگردی ، ٹارگیٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بری گورننس، طویل لوڈشیڈنگ،خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے، کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اسکا وہ برا حال ہوا کہ یہ شہر جو کبھی امن کا گہواراہ تھا اب لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن چکا ہے۔

گڑھی خدا بخش میں سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کی ساتویں برسی پر کارکنوں سے خطاب کے موقعہ پر پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کے پاس کہنے کےلیے کچھ نہ تھا، وہ سیاسی طور پر قلاش ہوچکے ہیں، نہ ہی وہ اپنی سابقہ حکومت کے کارنامے گنواسکتے تھے اور نہ ہی صوبہ سندھ میں اپنی موجودہ حکومت کی تعریف میں ایک لفظ کہنے کی پوزیشن میں تھے۔ کاش آصف زرداری اب تو اقرار کرلیں کہ بینظیربھٹو کے قاتلوں کا نہ ملنا اور ہزاروں پاکستانیوں کی دہشتگردی کی وجہ سے ہلاکت کے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔ اُنکی بدقسمتی کہ اپنے اکلوتے بیٹے بلاول زرداری کو اُنہوں ٹیسٹ ٹیوب بھٹو بنایا تھاتاکہ ملک کا اقتدار بھٹو کے نام پر وہ اپنے قبضے میں رکھ سکیں لیکن آجکل اُنکا بلاول زرداری واقعی بھٹوبنکراُنکے لیے پریشانیاں کھڑی کر رہا ہے۔ جس پیپلز پارٹی کی چیرمین بینظیربھٹو تھیں وہ ملک کے چاروں صوبوں میں موجود تھی،لیکن آج آصف زرداری جس پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین ہیں وہ پیپلز پارٹی صرف صوبہ سندھ کے دہی علاقوں تک محدود ہوگئی ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اُنکی مایوس کن تقریر میں اُنکا نشانہ فوج اور پرویز مشرف بنے۔