لال مسجد کا شقی القلب مولانا عبدالعزیز تحریر: سید انور محمود

Posted on December 29, 2014



تحریر: سید انور محمود

مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے سابق خطیب مولاناعبداللہ کے بیٹے اور عبدالرشیدغازی کے بھائی ہیں۔ 1998ء میں مولاناعبداللہ کے قتل کے بعد مولانا عبدالعزیز اپنے والد کے جانشین کے طور لال مسجد کے خطیب بنے۔ مولاناعبداللہ جنرل ضیاءالحق کے بہت قریب تھے۔ پرویز مشرف کے دور میں جب وزیرستان آپریشن کے بعد مولانا عبدالعزیز اور اُن کے چھوٹے بھائی عبدالرشیدغازی پرحکومتی عمارتوں میں دہشت گردی کا الزام لگا اوراسکے علاوہ حکومت نے عبدالرشید غازی کی بارود سے بھری گاڑی پکڑ کرمیڈیا والوں کے سامنے پیش کی تو دونوں بھائیوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ضیاء الحق کے بیٹے اور مشرف کابینہ کے وزیر اعجاز الحق کی سفارش پر اُنہیں بری کردیا گیا، یہ پرویز مشرف کی بہت بڑی غلطی تھی، اگر اُس وقت دونوں بھائیوں کو نہ چھوڑا جاتا تو شاید بدنام زمانہ لال مسجد آپریشن نہ ہوتا۔ درون پردہ کیا ہوا، معلوم نہیں لیکن اعجاز الحق کی سفارش کے بعد دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر دیے گے۔ ان ملزمان میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چند افراد کے علاوہ ایک دو ازبک جنگجوؤں کے نام بھی لیے جاتے رہے۔ جن کے بارے میں یہ تصدیق ہو چکی تھی کہ ان تمام افراد کا لال مسجد آنا جانا تھا۔ حکومت نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو پتہ چلا کہ عبدالرشید غازی کے وزیرستان میں بسنے والے دہشتگردوں سے قریبی روابط تھے۔ گویا لال مسجد اور مولانا عبدالعزیز کا دہشتگردوں سے بہت پرانا تعلق ہے۔

پرویز مشرف کے دور میں ہی اسلام آباد میں مساجد کی شہادت پرمولانا عبدالعزیز کے زیر انتظام چلنے والے مدرسے جامعہ حفصہ کی طالبات نے چلڈرن لائبریری پر جب قبضہ کیا تو اس کے بعد سے حکومت اور مولانا عبدالعزیز کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے۔ 2007ء میں عبدالعزیز نے ملک میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ جولائی 2007ء میں حالات اس وقت بہت سنگین رخ اختیار کر گئے جب رینجرز اور لال مسجد کےطلبا کے درمیان پہلی مرتبہ تصادم ہوا۔ جس کے بعد حکومت نے لال مسجد کے خلاف آپریشن کا اعلان کر دیا اور لال مسجد کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ مولانا عبدالعزیز جن کا دعوی تھاکہ اُن کے خون کے قطرے سے اسلامی انقلاب کی پہلی لہر اٹھے گی خود اپنے شاگردوں اور اپنے خاندان کے تمام افراد کو چھوڑ کر لال مسجد سے برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے اُن کو گرفتار کر لیا۔ مولانا کبھی ٹی وی کے سامنے نہیں آتے تھے۔ لیکن حکومت نے دوبارہ برقعہ پہنا کر باقاعدہ اُن کا انٹرویو لیا۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ مولانا ٹی وی پر روز آنے کے مرض میں مبتلا ہیں۔

اسلام آباد کی کچہری میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کی عدالت میں لال مسجد کے عبد الرشید غازی کے بیٹے اور مولانا عبدالعزیزکے بھتیجے ہارون الرشید نے جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا آرڈر لینے کے لئے درخواست دائر کی تھی جسے انہوں نے رد کردیا تھا اور اپنے حکم میں لکھا تھا کہ یہ سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اسکے تھوڑئے دن بعد ہی کچہری میں نامعلوم افراد کی فائرنگ اورخودکش حملے کے نتیجے میں 13افراد جاں بحق اور 25سے زیادہ زخمی ہو گئےتھے۔ ایک عینی شاہدکے مطابق دہشت گردوں کی تعداد دس سے زائد تھی،انہوں نے مختلف اطراف سے حملے کئے۔ حملہ آوردہشت گردوں نے رفاقت اعوان کی عدالت پر ہلا بولا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی،اس دوران ایک حملہ آور نے سیشن جج رفاقت اعوان کی عدالت کے سامنے خود کو اڑادیا جس کی وجہ سے رفاقت اعوان بھی جاں بحق ہو گئے۔بتایا جاتا ہے کہ مولانا عبدالعزیزکے بھتیجے ہارون الرشید کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، یہ ہی وجہ ہے کہ آئی جی اسلام آباد سکندر حیات نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کچہری حملوں کی تحقیقات کررہے ہیں، اگر ضرورت پڑی تو لال مسجد والوں کو بھی تفتیش میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

پشاورمیں دہشتگردوں نے 132ماوں کی گودیں اجاڑ دیں اور 16گھرانوں کے بچے اپنی ماوں یا باپ سے محروم ہوگئے۔ پشاور میں ماوں کی گود یں اجڑنے کے صرف چار دن بعد اپنے جمعہ کے خطبے میں شقی القلب مولاناعبدالعزیزکا کہنا تھاکہ تحریک طالبان نے فضائی حملوں کے جواب میں 213 بچوں کو قتل کیا، طالبان کا یہ اقدام قابل فہم ہے، حکمراں جیساکریں گے اس کا ردعمل بھی ویساہی ہوگا، حکومت بھارت اوربنگلہ دیش سمیت دنیابھرسےعلمائے کرام کو بلالے، میں اس معاملے پر ان سے مناظرہ کروں گا اور ثابت کروں گاکہ یہ آپریشن غیر شرعی ہے۔مولانا عبدالعزیز کی پشاور کے واقعے کے بعد بھی دہشتگردوں کی کھلی حمایت کرنے پر اسلام آباد کی سول سوسائٹی نے لال مسجد کے سامنے مظاہرہ کیا اور مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا، جواب میں لال مسجد کے ناجائز خطیب نے مظاہرین پر حملے کی دھمکی دی۔ سول سوسائٹی کے مسلسل مظاہرئے اور اُنکی ایف آئی آر درج ہونے کی وجہ سے اسلام آباد کی ایک عدالت نے مولانا عبدالعزیز کے نا قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ہیں، تاہم مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو گرفتاری دیں گے اور نہ ہی ضمانت کرائیں گے۔ مولانا عبدالعزیز دہشتگرد کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمائش کی کہ پہلے پرویز مشرف کو گرفتار کیا جائے، پھروہ گرفتاری دے دیں گے۔

وزیراعظم نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ایک باپ ہونے کے ناتےاُنہیں احساس ہے کہ والدین اپنے بچوں کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں، والدین کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اپنے بچوں کے جنازے کو کندھا دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 6سال کی بچی خولہ میری بیٹی تھی جو ٹیسٹ دینے گئی اور واپس نہیں آئی، حذیفہ بھی میرا بیٹا تھا جو ناشتے کے بغیر گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا، پوری دنیا بچوں کے والدین کے غم میں برابر کی شریک ہے، دہشت گردوں نے قوم کے معصوم بچوں کونشانہ بنا کر ہمارے مستقبل کے سینے میں خنجر گھونپا ہے، ہم اپنے معصوم بچوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دینگے۔جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ اسلام آباد انتظامیہ کا ملازم مولانا عبدالعزیز بچوں پر حملے کا جواز پیش کرتا ہے لیکن جب حکومت اسے روک نہیں سکتی تو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کیسے لڑے گی۔اسلام آباد کی سول سوسائٹی نے مولانا عبدالعزیز کے ماضی اور ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کے قتل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے جج کو سیکیورٹی مہیا کی جائے۔

مولانا عبدالعزیز کے اس واضع انکار پر کہ وہ یکطرفہ طور پر دہشتگردوں کی مذمت نہیں کرینگے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے حکومت اورمسلح افواج سے مطالبہ کیا ہے کہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کو گرفتارکیاجائے،جامعہ حفصہ کو فی الفور بند کیا جائے اور منافقین کی آماجگاہ لال مسجد کو مسجد ضرار کا نمونہ قرار دیا اور اُسے ڈھانے کا مطالبہ کیا۔ الطاف حسین کے لال مسجدکوڈھانے کےمطالبے کی حمایت تو نہیں کی جاسکتی لیکن مذہبی رہنماوں سے ایک سوال ضرور ہے کہ جو لوگ اُن دہشتگردوں سے جوانسانی جانوں کے علاوہ 30 سے زیادہ مساجد کونقصان پہنچاچکے ہیں اُن سے ہمدردی رکھنے والوں کو کیا کہنگے۔ مولانا فضل الرحمان نے الطاف حسین کو پیغام بھیجا ہے کہ الطاف حسین مولانا عبدالعزیز کے خلاف بیانات دیکر ایک اور محاذ کھڑا نہ کریں جبکہ اس محاذکو کھڑا کرنے کی پوری ذمہ داری مولانا عبدالعزیز پر آتی ہے۔ مولانا عبدالعزیز کیوں نہیں کہتے کہ پشاور میں طالبان دہشتگردوں نے جو کچھ کیا ہے وہ درندوں کا فعل تو ہوسکتا ہے انسانوں کا نہیں اور درندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، لہذا اس میں اگر مگر کی کوئی گنجایش نہیں جیسا کہ مولانا عبدالعزیز کر رہے ہیں۔ لال مسجد کا یہ شقی القلب ناجائز خطیب جو پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتا، یہ طالبان دہشت گردوں کا ایک ایسا نمایندہ ہے جو ملک کے دارلخلافہ میں بیٹھ کرنہ صرف طالبان بلکہ داعش کے ایجنٹ کے فرایض انجام دئے رہا ہے۔ اگر نواز شریف واقعی معصوم بچوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتےاوردہشتگردوں سے نجات چاہتے ہیں تو اُنہیں سب سے پہلے لال مسجد سے دہشتگردوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اسلام آباد کے سب سے بڑئے دہشت گرد مولانا عبدالعزیزکو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوانا ہوگی۔