عمران خان دہشت گردوں کے خلاف ہیں یا نہیں؟

Posted on November 27, 2014 Articles



تحریر: سید انور محمود

یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جماعت اسلامی کے سابق امیرمرحوم قاضی حسین احمد سے لیکر موجودہ امیر سراج الحق تک ہمیشہ سے دہشت گرد طالبان کے حامی رہے ہیں اور ہیں۔ پاکستان میں سڑسٹھ سالوں کی سیاست میں اسلام کو بےدریغ طریقے سے استمال کیا گیا، مثلا 1970ء کے انتخابات میں کہا گیا کہ اسلام خطرئے میں ہے اور 1977ء میں انتخابات میں ہوئی دھاندلی کی تحریک کو نظام مصطفی تحریک میں بدل دیا گیا جسکے نتیجے میں گیارہ سال تک جنرل ضیاءالحق اسلام کے نام پر حکمراں بنا بیٹھا رہا، آج پاکستان میں جسقدر دہشت گردی ہورہی ہے، اُسکا ذمیدار ضیاء الحق ہے، اسی کے نتیجے میں ہم آج خودکش دھماکوں اور دہشتگردی کا شکار ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی سیاسی پیدائش اور تربیت جنرل ضیاءالحق کے دور میں ہوئی ہے۔ نواز شریف ایک عرصے تک جنرل ضیاءالحق کی صحبت میں رہے ہیں، وہ جنرل ضیاءالحق کو اپنا سیاسی باپ کہتے تھے۔ جنرل ضیا کی موت کے بعد ایک عرصے تک نواز شریف ہر سال ضیاءالحق کی برسی پر اُس کی قبر پرجاکراُس کے تمام اقدامات کی تعریف کیا کرتے تھے۔ نواز شریف جنرل ضیاء کے زمانے میں پہلے پنجاب کے وزیر خزانہ، بعد میں وزیراعلیٰ رہے۔ اُس زمانے سے ہی دہشت گرد اُنکے ہیرو ہوا کرتے تھے۔ 1997ء کے بعد جب دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو خواہش ظاہر کی کہ پاکستان میں بھی طالبان کا نظام ہونا چاہیے مگر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اُنکو اقتدار سے علیدہ کردیا۔ 2013ء میں وہ تیسری بار وزیر اعظم بنے تو طالبان دہشت گردوں کوفوجی آپریشن سے بچانے کےلیے وہ ایک سال تک مذاکرات کا ڈرامہ رچاتے رہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جو اپنے آپ کو لبرل بھی کہتے ہیں طالبان کے بہت بڑئے حامی ہیں اور کچھ عرصہ قبل طالبان نےحکومت سے مذاکرات کےلیے طالبان کے نمایندئے کے طور پرعمران خان کا نام دیا تھا جو عمران خان نے قبول نہیں کیا ، البتہ عمران خان نے پاکستان میں طالبان کواپنا دفتر کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا، ساتھ ہی عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کے خلاف آپریشن سے کوئی فاہدہ نہیں ہوگا ، اس سلسلے وہ گذشتہ نو سال میں ہونے والے آپریشن کا ذکر کرتے تھے۔ اس سال جون میں کراچی ایئرپورٹ پر طالبان کی دہشت گردی کے بعد فوج نے پندرہ جون سے طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کےنام سے ایک بڑا آپریشن شروع کیا جس کے بعد سے عمران خان آئی ڈی پی کے مسلئے پر تو بولتے نظر آتے ہیں لیکن طالبان کی ہمدردی سے دور دور نظر آتے ہیں۔تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر صوبے کی حکومت چلارہی ہے، دوسری طرف وہ نواز شریف حکومت کے خلاف انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتی ہے اور عمران خان تین ماہ سے زیادہ عرصے سے نواز شریف حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیئے ہوئے بیٹھے ہیں۔ اس دھرنے سے پہلے اور نہ ہی اس دھرنے کے دوران اُن کی اتحادی جماعت نے اُنکا کہیں ساتھ نہیں دیا بلکہ جماعت اسلامی اپنا سیاسی قدبڑھانے کےلیے عمران خان کے مخالفوں کے ساتھ ایک ثالثی جرگے کے طور پر کام کررہی ہے۔

آج پاکستان کا نام دینا میں دہشت گردی اور کرپشن کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی نےاسی کی دہائی میں ضیاءالحق کے ساتھ ملکر پاکستان میں جہاد کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور امریکی ڈالر ہڑپنے کےلیے نام نہاد جہاد افغانستان کے نام پر ہزاروں معصوم نوجوانوں کو گمراہ کر کے امریکہ اور روس کی جنگ میں مروا دیا۔ ان نوجوانوں میں نہ تو قاضی حسین احمد کا بیٹا شامل تھا اور نہ ہی منور حسن کا۔افغان جنگ کے دوران امریکا نے جماعت اسلامی کی مدد سے روس کے خلاف نام نہادمجاہدین کو تیار کیا۔ سی آئی اے نے تقریبا دس سال تک سیکڑوں منلا امریکی ڈالر سالانہ کے حساب سے جماعت اسلامی کودیئے جبکہ ساری دنیا سے فسادی لاکر مجاہدین کے نام پر جمع کیے گے۔ جماعت اسلامی یا جماعت المنافقین القاعدہ اور طالبان دہشت گردوں کی اسقدر حامی ہے کہ اُسکو 55 ہزار کے قریب پاکستانیوں کی شہادت سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ تو طالبان دہشت گردوں کو دہشت گرد ماننے کو ہی تیار نہیں۔ دہشت گردوں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ سال جماعت اسلامی کے سابق امیر منافق منور حسن نے امریکی ڈرون حملے میں مارئے گے ہزاروں انسانوں کے قاتل اور دہشت گرد طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی موت پر اُسکو شہید کہا۔ عام پاکستانی کوتو چھوڑیں منور حسن تو کسی فوجی کو بھی شہید ماننے کو تیار نہیں۔ منور حسن کے اس بیان کی پورئے ملک میں مذمت کی گئی۔

جماعتِ اسلامی کے امیرسراج الحق نے کراچی ایرپورٹ پر دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی تھی لیکن جب 15 جون کو فوج آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو طالبان دہشت گردوں کے حامی بھائی منور حسن نے کہا تھا کہ اگر ملٹری آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو وزیراعظم اس کا باقاعدہ اعلان کریں اور یہ بھی بتایا جائے کہ آپریشن کافیصلہ کس نے کیا ۔ منور حسن نے شمالی وزیرستان میں کارروائی بند کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات کی ناکامی پر آپریشن اس کانعم البدل نہیں لیکن کیا مجال کہ دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ بھی کہا ہو بس خواہش یہ کہ کسی طرح دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رک جائے۔ جماعت اسلامی کو اگر ایک دہشت گرد سیاسی جماعت کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا یہ نہ صرف طالبان اور القائدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی حامی ہے بلکہ عرب ممالک میں موجود دہشت گرد داعش(شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ) کی بھی حامی ہے، کچھ عرصے قبل کراچی اورلاہور میں داعش کی جانب سے وال چاکنگ کرنے میں یقینا جماعت اسلامی کے دہشت گرد ہی ملوث ہونگے۔

مینار پاکستان کےسائے میں جماعت اسلامی کا 21 سے 23 نومبر تک تین روزہ عالمی اجتماع ہواجس کے اختتام پرپتہ چلا کہ اس عالمی اجتماع کا مقصد دراصل افواج پاکستان کو ایک پیغام دینا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن کررہی ہے وہ فورا بند کردئے۔ افواج پاکستان، پاکستان کی سیاسی قیادت اور سول سوسایٹی کو دھمکاتے ہوئے پاکستانی ابوبکر البغدادی منور حسن نے کہا کہ” وہ ڈنکے کی چوٹ پر اور بلاخوف و تردید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس میں اگر جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام نہیں کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے اس وقت کے حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے”۔”قتال فی سبیل اللہ” کی منور حسن کی طرف سے جو وضاحت کی گئی وہ آپریشن ضربِ عضب کو ختم کرنے یا اُسکے نتائج کوکم کرنے کی کوشش تھی۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ اجتماع کے آخر میں اس اجتماع کی اصل اسپانسر پاکستان مسلم لیگ (ن) کھل کر سامنے آگئی ، نواز شریف اور اُنکےحواری جو پیغام افواج پاکستان کو دینا چاہتے تھے وہ جماعت اسلامی کے زریعے افواج پاکستان، پاکستان کی سیاسی قیادت اور سول سوسایٹی کو پہنچ گیا۔سراج الحق اور اُنکے ساتھی تین دن تک حکمرانوں کیخلاف تقریریں کرتے رہے لیکن دراصل یہ ایک نورا کشتی سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ جماعت اسلامی اور نواز شریف حکومت کا مشترکہ پروگرام تھا جس میں نواز شریف حکومت پس پردہ تھی۔ لیکن پروگرام کے خاتمے پر جب پردہ ہٹا تو منظر یہ تھا کہ سراج الحق اور جماعت اسلامی کی قیادت اجتماعی دعا کے بعد اپنے غیر ملکی مندوبین کو ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے دیے گےعصرانے میں موجود تھے ۔

عمران خان جنکے صوبے خیبرپختونخوا میں تیس لاکھ آئی ڈی پیز موجود ہیں اور وفاقی حکومت بقول اُنکے اُنکی کوئی مدد نہیں کررہی ، آئے دن صوبہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا بھی شکار بنتا رہتا ہے جبکہ وہ خود اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیکر بیٹھے ہیں۔ یہ بات عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُنکو جو زیادہ سیاسی حمایت ہے وہ نوجوانوں کی طرف سے ہے جو نہ تو دہشت گردی کی یا دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی مذہبی انتہا پسندی کے حامی ہیں، ان میں سے اکثرلبرل ذھن رکھتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عمران خان کو یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے ہمدرد ہیں یا پاکستان کی افواج کے۔اگر اُن کا فیصلہ دہشت گردی کے خلاف ہے تو پھر اُنکو اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کودہشت گردوں کے حامیوں سے دور کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی نے اپنے تین روزہ عالمی اجتماع کے زریعے عمران خان کو بھی ایک واضع سیاسی پیغام دیدیا ہے کہ ہم سیاسی طور پر نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ اس واضع پیغام کے بعد یقینا عمران خان کی سیاسی جہدوجہد مشکل ہوجائے گی ۔ عمران خان کو بھی منور حسن کی طرح ڈنکے کی چوٹ پر جماعت اسلامی کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اب تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے راستے الگ الگ ہیں۔ عمران خان کوقوم کے اس سوال کا جواب بھی دینا ہے کہ”عمران خان دہشت گردوں کے خلاف ہیں یا نہیں؟۔ عمرا ن خان کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہی پاکستان تحریک انصاف کی نئی تاریخ ہوگی۔