منور حسن طالبان دہشت گردوں کے بھائی

Posted on November 24, 2014



تحریر: سید انور محمود

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن جو دہشت گرد طالبان کو اپنا بھائی کہتے ہیں، طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں باون ہزار سے زیادہ شہید ہونے والے لوگوں کو جن میں عام آدمی، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے اہلکار اور پاکستانی فوج کے اہلکار شامل ہیں اُنکو شہید ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن ہزاروں انسانوں کے قاتل دہشت گردحکیم محسود کو شہید کہتے ہیں۔ وہ متنازعہ بیانات دینے میں شہرت رکھتے ہیں، یہاں اُن کے کچھ متنازعہ بیانات اور اُس پر ہونے والے ردعمل پڑھ لیں۔ اُسکے بعد جماعت اسلامی کے مینار پاکستان پر ہونے والے اجتماع میں کی گی اُنکی تقریر”جہاد اور قتال فی سبیل اللہ” پر بات ہوگی۔

۔ پاکستانی نجی ٹی وی چینل وقت ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئےجماعت اسلامی کےسابق امیرمنورحسن نے کربلا کو دو اصحاب کی جنگ قرار دیدیا۔ پروگرام کی میزبان کی جانب سے اس سوال پر کہ پھر حق پر کون تھا تو منورحسن کا کہنا تھا کہ “یزید کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ کچھ لوگوں کا اپنا نقطہ نظر ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے”۔ اُنکے اس بیان پرندیم عباس نے اپنے مضمون “منور حسن کا بیان، جماعت اسلامی، مولانا مودوی اور قاضی صاحب” میں لکھا ہے کہ “جن کو آج تک اس بات کا پتہ نہ چل سکا کہ حق پر امام حسین ؑ ہیں یا یزید؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی اب انحطاط کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، کہاں وہ دور کہ عالم اسلام کے مسائل کا حل پیش کر رہے تھے، کہاں یہ حال؟”۔

۔ مارچ 2014ء کے آخرمیں جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے نشتر پارک کراچی میں ایک جلسے کے دوران طالبان کو اپنا بھائی قرار دیا تھا، اُنکے اس بیان کی مذہبی جماعتوں کیجانب سے مذمت کی گی۔ ارشاد حسین ناصر نےاپنے مضمون “قاتل ہمارے بھائی ہیں” میں لکھا ہے کہ “اب تو کھلے عام قاتلوں، لٹیروں، غداروں کی توصیف کی جا رہی ہے، انہیں عزتوں کے تاج پہنائے جا رہے ہیں، انہیں بھائی قرار دیا جا رہا ہے، دہشتگردوں کو امن کے پیامبروں کے القابات سے نوازا جا رہا ہے، یہ تاریخ میں پہلی بار نہیں ہو رہا، حق و باطل کے ازلی معرکے سے یہ سلسلہ جاری ہے، شیطانی و باطل قوتوں نے ہر دور میں یہ روش اختیار کی ہے، مگر تاریخ انکے چہروں سے نقاب اٹھاتی رہی ہے اور آئندہ بھی اٹھاتی رہیگی”۔

۔ منور حسن نے دنیا بھرمیں دہشت گردی کے ذریعے امریکن سی آئی اے کی خدمت کرنے والے اسامہ بن لادن کو اپنے ایک بیان میں سید الشہداء کا لقب عطا کیا تھا ، ساتھ ہی منور حسن نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن جیسے لوگ مرتے نہیں، دلوں میں بستے ہیں۔ اس بیان پر ایک ویب سائٹ پر حسینی نام کے ایک صاحب نے یوں تبصرہ کیا کہ “منور حسن صاحب کی پستی عقل پرہنسی آتی ہے۔معلوم نہیں دہشت گرد کو ہیرو بنانے میں اُن کو کیا مزا آتا ہے؟ اسامہ ایک دہشت گرد تھا۔اب تو منور حسن صاحب نے اسامہ جیسے دہشت گرد کو “سید الشہداء” قرار دیا ہے۔ یقینا یہ بات حضرت امام حسین اور حضرت حمزہ علیہما السلام کی توہین ہے۔۔۔۔ کہ اس جیسے دہشت گردکو اُن کا والا لقب دیا جا رہا ہے۔ منور حسن جیسے پڑھے لکھے جاہل لوگ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں”۔

۔ سید منور حسن نے جیو ٹی وی کے ایک پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے طالبان کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجی شہید ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے منور حسن کے بیان کو “غیر ذمہ دارنہ اور گمراہ کن” قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ جبکہ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے منور حسن کے اس بیان کا خیر مقدم کیا تھاجس میں اُنھوں نے حکیم محسود کو شہید اور طالبان کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ شہید نہیں ہیں۔ دہشت گرد طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا کہ” وہ منور حسن کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بیان کو وہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق قرار دیتے ہیں”۔

اگلے ایک دو روز میں کسی ٹی وی چینل پر آپ دہشت گرد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا یہ بیان ضرور سن لینگے یا پھر کسی اخبار میں پڑھ لینگے کہ وہ اپنے بھائی سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن کے مینار پاکستان پر 22 نومبر کوجماعت اسلامی کے اجتماع میں دیے گے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ جس میں اُنہوں نے کہا کہ”جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے لفظ کا استعمال متروک ہوتا جا رہا ہے، وہ ڈنکے کی چوٹ پر اور بلاخوف و تردید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس میں اگر جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام نہیں کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے اس وقت کے حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے”۔

قتال فی سبیل اللہ کا مطلب ہے، “اللہ کے راستے میں مسلح جنگ”۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جنگ میں شریک انسان کو صرف اور صرف اپنے رب کی رضا جوئی مقصود ہوتی ہے، اور یہ اُن شرائط کے مطابق لڑی جاتی ہے جو ہم پر دین کی طرف سے لازم کی گئی ہیں۔حضورؐ نے فرمایا: ’’لڑائیاں دوقسم کی ہیں۔جس نے خالص اللہ کی رضاجوئی کےلئیے لڑائی کی۔اس میں اپنے حکمران کی اطاعت کی،اپنا بہترین مال خرچ کیا،اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کیا اور فساد سے اجتناب کیا، تو اس کا سونا جاگنا سب باعثِ اجر ہوگا۔اس کے برعکس جس نے دنیا کو دکھانے اور شہرت وناموری کے لئے تلوار اٹھائی،اپنے حکمران کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو وہ برابر بھی نہ چھو ٹے گا‘‘۔ (نسائی۔حدیث نمبر3188) ۔۔۔۔ بحوالہ کتاب: ۔۔۔جہاد و قتال ، مصنف فاروق خان۔۔۔۔۔

اوپر جو کچھ لکھا ہوا ہے اُسکے مطابق منور حسن جو شرانگیز بیانات دینے اور دہشت گردوں کو اپنا بھائی کہنے میں مشہور ہیں اُنکا یہ دو ٹوک بیان ریاست کی نافرمانی کرنےاور فساد پھلانے کےلیے ہے۔ پاکستان کی فوج کی جانب سےآپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گی ہے، منور حسن “جہاد اور قتال فی سبیل اللہ” کے نام پر فساد پھلانا چاہتے ہیں۔ اُنکے اس بیان کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں منور حسن کے بیان پر حیرت اور افسوس ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیان جماعت اسلامی کے موقف نہیں ہو سکتا بلکہ فرد واحد کا بیان ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شرمیلا فاروقی نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “وہ نہیں سمجھتیں منور حسن کا بیان جماعت اسلامی کا موقف نہیں بلکہ اس طرح کے بیانات ماضی میں دیے جا چکے ہیں اور یہ ان کی ذہینت کی عکاسی کرتے ہیں”۔ جبکہ ایم کیو ایم کی رابط کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ”اس بیان سے جماعت اسلامی کا اصل مقصد اور خفیہ پروگرام ایک بار پھر عوام کے سامنے آگیا ہے اوراس سے یہ بات سمجھنا کوئی دشوار نہیں کہ پاکستان میں داعش(شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ) کی نمائندگی کون کر رہا ہے اور داعش کے قتل و غارت گری کے پیغام کو کون پھیلا رہا ہے”۔ ایم کیو ایم کی رابط کمیٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، آرمی چیف اور چیف جسٹس منور حسن کے بیان کا فوری نوٹس لیں۔ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ منور حسن کا بیان قابل وضاحت ہے، اگر قتال فی سبيل الله موجود نظام کے خلاف کرنا ہے تو سراج الحق سے آغاز کریں۔

داعش کی کراچی اور لاہور میں موجودگی کی خبریں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ سے آرہی ہیں، کراچی اور لاہور میں داعش کی حمایت میں وال چاکنگ بھی کی گی ہے۔ لاہور میں پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اُس نے داعش کی حمایت میں وال چاکنگ کرنے والے کچھ لوگوں کو پکڑا ہے۔ پہلے یہ شک تھا کہ داعش کی حمایت میں وال چاکنگ جماعت اسلامی کے دہشت گردوں نے کی ہے لیکن منور حسن کے دو ٹوک شرانگیز بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ جماعت اسلامی ہی پاکستان میں داعش کےلیے کام کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے پولیس یہ معلومات حاصل بھی کرچکی ہواور شایدپاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے علم میں یہ بات ہوکہ داعش کی حمایت میں وال چاکنگ جماعت اسلامی کے دہشت گردوں نے کی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے اطمینان سے فرمادیا کہ پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے۔

یہ بات ہر پاکستانی جانتا ہے کہ ملک میں دو سخت ترین سیاسی حریف نواز شریف اور عمران خان دونوں طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ نواز شریف تو یو ٹرن لیکر آپریشن ضرب عضب کو اپنا کارنامہ کہہ رہے ہیں جبکہ طالبان کے کتے کی ہلاکت پر اُسکو شہید کہنے والےمولانا فضل الرحمان اُنکی حکومت کے شراکت دار ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے حکمران اور جماعت اسلامی کے اتحادی عمران خان منور حسن کے اس دو ٹوک بیان کا کوئی نوٹس لینگے یا وہ منور حسن کے اس بیان کی حمایت کرینگے۔ نواز شریف تو کہہ سکتے ہیں کہ جماعت اسلامی ہماری اتحادی نہیں ہے اسلیے ہم اُس کی طرف سے آنے والے کسی بھی پیغام کے ذمیدار نہیں ہیں لیکن عمران خان یہ نہیں کہہ سکتے لہذا عمران خان کو چاہیے کہ جماعت اسلامی سے اپنے اتحاد کو ختم کریں، ویسے بھی گذشتہ سو دن سے زیادہ کے دھرنے میں تحریک انصاف کو جماعت اسلامی کی طرف سے نہ تو اخلاقی اور نہ ہی سیاسی کسی بھی قسم کی حمایت نہیں ملی۔ اور اب منور حسن کے دو ٹوک بیان کے جواب میں دو ٹوک عرض ہے کہ منور حسن کا یہ بیان کہ “طالبان ہمارے بھائی ہیں” ایسے ہی ہے جیسے مستنصر حسین تارڑ نے اپنی ایک کتاب کا عنوان “اُلو ہمارے بھائی ہیں” رکھا تھا؛ جب اُلو کا بھائی اُلو ہوسکتا ہے تو پھر طالبان دہشت گردوں کےبھائی دہشت گرد ہی ہونگے۔ منور حسن کے دو ٹوک دہشت گردانہ بیان کا حکومت کو سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔