ماہی گیری ایک قدرتی زریعہ آمدنی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہما رے نااہل حکمران

Posted on November 24, 2014



تحریر۔ حبیب جان لندن۔

چند دنوں پہلے دنیا بھر میں ماہی گیری کا دن منایا گیا۔ اور ظاہر ہے پاکستان میں بھی منایا گیا ھوگا۔ دن منانے میں تو ویسے ہی ہمارے لوگ ماہر ہیں۔ حکمران تصویریں بنا کر تو بیوروکریسی کاغذوں میں۔ تصویروں اور کاغذوں میں اس لئے مناتے ہیں کہ خانہ پوری بھی ہوجائیں تو کچھ دال دلیہ بھی نکل آئیں۔
ہمارے ایک بزرگ صحافی دوست مرحوم حبیب الرحمن جنگ لندن سے وابستہ تھے اکثر کہا کرتے تھے پاکستان کاریگروں سے بھرا پڑا ہے اور یہ کاریگر اپنے فن میں اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ اپنی ایک بوٹی کےلئے کسی کا بھی بکرا حلال کر دیتے ہیں۔ یہ کاریگر لوگ پچہلے ۷۷ سالوں سے بکرے پر بکرا حلال کئے جارہے ہیں کیونکہ پیارا پاکستان رمضان المبارک کی ۲۷ ویں شب کو معروض وجود میں آیا ہے اور اسکی حفاظت کی زمہ داری الللہ کی ہے تو لہذا کاریگروں کے لئے بکرے بہت۔
میرا خیال ہے اب آپ حضرات بآسانی سمھج گئے ہونگے کہ ہماری ماہی گیری کی صنعت زوال پزیری کا شکار کیوں ہے انتہائ دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قدرت کے اس بیش بہا انمول زرائع آمدنی کو ہمارے کاریگر صفت بیوروکریٹ نے فقط اپنی ایک بوٹی کے چکر کس طرح ضائع کیا ہوا ہے۔
ماہی گیری کی صنعت براہ راست سمندر اور دریا سے منسلک ہیں دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کی خوراک اسی صنعت سے وابستہ ہیں۔ الللہ نے پاکستان کو ہزاروں میل لمبا ساحل دیا ہوا ہے۔ ہمارے مزدور جفا کش وطن کی محبت سے سرشار ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دنیا کے مقابلے میں ہر میدان میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ترقی کی فہرست میں سب سے سے آخری نمبروں پر تو برائیوں کی فہرست میں سب سے ٹاپ پر۔۔۔۔۔ بات ہورہی ہے ماہی گیری کی تو جناب عرض ہے گزشتہ ۱۲ بارہ سالوں سے ہماری یہ صنعت یورپ میں پابندی کی بناء ایکسپورٹ نہیں کرسکتی یعنی ایک قدرتی زریعہ آمدنی سے ہمارا ملک محروم ہیں ایک نہیں دو نہیں پورے بارہ سال ظلم کی انتہا اور بے شرمی کی حدیں دیکھے کسی کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔
کیونکہ راقم کا تعلق لیاری سے ہیے جی ہاں جس کو ہمارے حکمران اور بیوروکریٹ گینگ وار اور دہشت گردوں کے نام سے جانتے ہیں اور ہمیں اسی القابات سے پکارتے ہیں لہذا اسی سبب قلم اٹھایا کہ ان بوٹی کے شوقین بکرا حلال کرنے والوں کو آج بے نقاب کیا جائیں۔۔۔
لیاری کی اکثریتی آبادی کا زریعہ معاش ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ ابراہیم حیدری اور ٹھٹہ کی ساحلی پٹی پر آباد ماہی گیر ہیں جو سمندر کا سینہ چیڑ کر اپنی دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ بہرحال مقصدیت کی طرف آتے ہیں آج کل دنیا میں ہائجینک اور صفائ کے نام پر دنیا میں نت نئے قوانین متعارف کروائیں جارہے ہیں یورپ سب ے آگے ہیں اب تو مشرق وسطی بھی یورپ کی دیکھا دیکھی میں قانون سازیوں میں مصروف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہماری ماہی گیری کی صنعت پابندیوں کی زد میں ہیں۔
جب یورپی یونین قوانین وضحہ کر رہی تھی تو دنیا کے تمام ممالک اور بلخصوص تیسری دنیا سے وابستہ ہمارے جیسے ممالک کو ایک مخصوص ٹائم فریم دیا گیا۔ ہمارے بطن سے پیدا ہونے والا بنگلہ دیش اور ہمارا ازلی دشمن ہندوستان دئے گئے ٹائم فریم میں اپنی فشریز کو یورپی قوانین کے مطابق ہائجینک کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ہم آج تک بارہ سال گزرنے کے بعد بھی پابندی کی زد میں ہیں۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے لوگ اور فشرمین پان تمباکو کھاتے ہیں سگریٹ پیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں کی حکومتیں سخت قوانین کے زریعے اپنے لوگوں کو پابند کر کے زرمبادلہ کمانے والے قدرتی زریعے کو بحال رکھنے میں کامیاب رہی۔
بلاشبہ فشری کی صنعت کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کو معاشی فائدہ ہوگا تو ہمارے لیاری کے لوگوں ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی خوشحالی آئے گی۔ پالیسی سازوں کو چاھئیے اگر پاکستان سے واقعی ہمدردی ہے تو فورا لانگ ٹرم منصوبہ بنایا جائیں کیونکہ مستقبل قریب میں فشریز کا ہمرا سب سے بڑا خریدار دبئ بھی اس طرح کی پابندیاں لگانے کی منصوبہ بندی کرچکا ہیں۔ موجودہ حکمران جہاں چین سے دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کروارہیے ہیں وہاں فشریز کی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کروائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آج ہنگامی بنیادوں پر کام نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں کوریا۔ چائنا اور ہندوستان کے بڑے بڑے فشنگ ٹگز ہمارے ساحلوں پر آئینگے اور ہمارے ماہی گیر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرینگے یا خود کشی کے آسان طریقے تلاش کرینگے۔۔۔۔۔۔۔ قدرت کے آسان روزگار کے وسائل کو ضائع ہونے سے بچاؤ دیگر صورت داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد