عوام کی جوتی کے نیچے

Posted on November 23, 2014



تحریر: سید انور محمود ​

اب آپ اسکو کسی دیوانے کا خواب ہی کہہ سکتے ہیں کہ “اگرہمارئے ارکانِ پارلیمینٹ بیرونی ملکوں میں بنکوں میں رکھے ہوئے اپنے اور اپنے متعلقین کے کھاتے پاکستانی بنکوں میں منتقل کرالیں اور بنکوں سے معاف کرائے گئے اپنے قرضوں کو مع مارک اپ واپس کر دیں تو یہ بات اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان نہ صرف آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل سکتا ہے بلکہ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ ایسی معاشی پالیسیاں بھی وضع کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں معیشت میں پائیدار بہتری آئے اور جس کے ثمرات میں 18کروڑ عوام براہ راست شریک ہوں”۔ معاشی شعبے میں کامیابیوں کے حکومت خواہ کتنے بھی دعوے کرے مگر حقیقت بہرحال یہی ہے کہ گزشتہ برسوں میں معیشت میں مزید ابتری آئی ہے اور معیشت کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ارکانِ پارلیمینٹ تاریخ کے اس نازک موڑ پر جب پاکستان حالت جنگ میں ہے کوئی معنی خیز کردار ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ امر بہرحال ہر پاکستانی کیلئے باعث تشویش ہونا چاہئے کہ پاکستانی وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے مزید قرضے حاصل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں سابق وزیراعظم گیلانی کی اہلیہ محترمہ، قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سمیت طاقتوں سیاستدانوں، وڈیروں، ممتاز صنعت کاروں و تاجروں اور ممبران پارلیمینٹ نے اپنے قرضے معاف کرائے ہیں۔

عوام کےلیے تڑپنے والے نواز شریف کے وزیر خزانہ نے پارلیمنٹرینز کے اخراجات پورے کرنے کیلئے قومی بجٹ میں 4 ارب 14 کروڑ روپے رکھے ہیں، جس میں سے 2 ارب 60 کروڑ روپے قومی اسمبلی اور ایک ارب 53 کروڑ روپے سینٹ کو ملیں گے۔ حکومت کے فیصلے کے نتیجے میں پارلیمنٹرینز کی تنخواہوں میں بھی 10 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات پر حکومت کو ایک سال میں ارب 2 کروڑ 41 لاکھ روپے خرچ کرنا پڑیں گے۔ قائد حزب اختلاف کیلئے 6 لاکھ روپے کی صوابدیدی گرانٹ رکھی گئی ہے۔ جو وفاقی وزیر کی صوابدیدی گرانٹ کے مساوی ہے۔ا سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کیلئے 4 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ قائد حزب اختلاف کے اخراجات کیلئے ایک کروڑ 39 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ چیئرمین کشمیر کمیٹی کے اخراجات اپوزیشن لیڈر سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں ان کیلئے 5 کروڑ 94 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، چیئرمین سینٹ سپیکر کی صوابدیدی گرانٹ صدر پاکستان کے مساوی 10 لاکھ روپے ہے، 28 قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں پر 25 کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ وزیر اعظم نے اس پر وزیر خزانہ کو شاباش دی ہے۔ دوسری طرف ستر سال کا ماما قدیر ہے جو انسانی حقوق کے لئے میلوں کا پیدل سفر کرتا ہے، لیکن نہ تو حکومت میں اُسکی کوئی شنوائی ہوتی ہے اور نہ ہی عدلیہ میں۔ہاں اگر ماما قدیر بھی دہشت گرد ہوتا اور اُس نے بھی دو تین خودکش حملے کروا دیے ہوتے یا ایف ایم ریڈیو پرآکر صبح شام”تو بھی کافر ، وہ بھی کافر” کے فتوے جاری کیے ہوتے تو ممکن ہے آج حکومت ماما قدیر کی بات سن رہی ہوتی اوربکاوُ میڈیا پر خاطرخواہ کوریج بھی مل رہی ہوتی ۔ ارئے بھائی معاف فرمایں کہاں ماما قدیر اور کہاں ہمارئے معزز ارکانِ پارلیمینٹ ۔ میں تو آپکو ترقی یافتہ یورپ کے ایک ملک جرمنی کا بتانا چاہا رہا تھا کہ وہ اپنے معزز ارکانِ پارلیمینٹ کے بارئے میں کیا کہتے ہیں، مبشر علی زیدی کی 100 لفظوں کی کہانی پڑھیں پتہ چل جائے گا۔

سو (100)لفظوں کی کہانی ۔۔۔۔۔۔اوقات ۔۔۔۔۔۔مبشر علی زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلند ترین معیارِ زندگی والے ہمارے ارکانِ پارلیمان خاک نشیں عوام کو اکثر بھول جاتے ہیں۔
میں نے اپنے جرمن دوست کو بتایا۔
ہم اُس وقت جرمن پارلیمان کی عمارت میں سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔
وہ سیڑھیاں ہمیں اوپر شیشے کے گنبد تک لے گئیں۔
نیچے پارلیمان کا اجلاس جاری تھا۔
ارکانِ پارلیمان سر اٹھاکے گنبد میں موجود شہریوں کو دیکھ سکتے تھے۔
پارلیمان کے بیچوں بیچ شہریوں کو اوپر آنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ میں نے پوچھا۔
جرمن دوست نے کہا، ’’تاکہ ارکانِ پارلیمان کو یاد رہے کہ اُن کا مقام عوام کی جوتی کے نیچے ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو (100) لفظوں کی کہانی بشکریہ روز نامہ جنگ