کسی بدتمیز نے مجھ سے پوچھا

Posted on November 19, 2014



تحریر: سید انور محمود

اب آپ اس کا کیا کریں کہ جہاز کے سفر کے دوران آپکے برابر میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بھارتی شخص موجود ہو اور باتیں کرنے کے موڈ میں بھی ہو۔ یہ بھی شکر ہوا کہ وہ مسلمان تھا مگر ساتھ ہی پکا بھارتی، سارئے راستے وہ پاکستانی سیاست اور پاکستان کے سیاست دانوں کو روتا رہا، جہاں جہاں مجھے موقعہ ملا میں بھی بھارتی سیاست کی برائیاں کرتا رہا۔ کپتان نے جہاز اترنے اور سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان کیاتو مجھے سکون ہوا کہ اس بھارتی سے اب جان چھوٹی، جہاز رن وئےپر دوڑنے لگا تو وہ بولاایک اور بات بھی سن جایں: “کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہودیوں نے آج تک کتنے نوبل انعام برائے سائنس جیتے ہیں؟ یہ تعداد سائنس پر دئیے گئے کل نوبل انعاموں کا ایک چوتھائی ہے اور دنیا میں زیادہ سے زیادہ پندرہ ملین یہودی ہونگے۔ مگر اسلامی دنیا میں صرف ایک پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرعبدالسلام کو نوبل انعام ملا۔ دنیا میں ایک ارب تیس کڑوڑ سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں، ذرا تصورکیجئے کہ اگر آج مسلمانوں میں علمی ترقی کا سفر جاری رہتا تو آبادی کے تناسب سے اگر دیکھا جائے تو آج سائنس کا ہر ایک نوبل انعام کسی مسلمان کو ملتا”۔

محترم استاد ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب اپنے دو مضامین میں تعلیم کے بارئے میں لکھتے ہیں کہ “یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ پاکستان اپنی جی ڈی پی کا صرف 1.8فیصد حصّہ تعلیم پر خرچ کرتاہے جس سے اس کا شمار دنیا کے ان آٹھ ممالک میں ہوتا ہے جو دنیا میں تعلیم پر سب سے کم خرچ کرتے ہیں۔ قومی تعلیمی ہنگامی صورت حال کافوراً اعلان ہونا چاہئے اور تعلیم کے لئے جی ڈی پی کا کم از کم 5 فیصد حصہ مختص کر دیناچاہئے جو اگلے پانچ سالوں میں بڑھا کر8 فیصد کر دیا جائے۔ پی ایم ایل (ن) سے وابستہ ہیں۔ سچ کہوں تو تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی متعارف کراکے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بہت اچھا قدم اٹھایا ہے، نہ کرنے سے دیر سے کرنا بہتر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ غلط فیصلے بھی کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک لاکھ لیپ ٹاپ بانٹنے کے لئے 4 ارب روپے خرچ کئے جا ئیں گے جبکہ یہ پیسہ عالمی سطح کی جامعہ کو تعمیر کرنے کے لئے بھی لگایا جاسکتا تھا جس سے طلبہ نسل در نسل ان جامعات مستفید ہوتے۔ 17 سے23 سال کی عمر کے طلبہ کی اوسط اندراج صرف 8 فیصد ہی ہے لہٰذا عالمی سطح کی جامعات کے قیا م کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں 249 اراکینِ پارلیمنٹ جن میں اراکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹر بھی شامل ہیں جو جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پر منتخب ہوئے۔ حتیٰ کہ شرمناک حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ حکومت میں وفاقی وزیر برائے تعلیم کی بھی اسناد و ڈگریاں جعلی تھیں۔ پہلے تو وہ پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رکن تھے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آتے ہی بڑی چالاکی سے اپنی پارٹی تبدیل کرلی”۔ ان حالات میں سوچیں کہ پاکستان اور پاکستانیوں کی دنیا میں کیا عزت ہے، اور واضع طور پر سمجھنے کےلیے آیئے مبشر علی زیدی کی 100 لفظوں کی کہانی پڑھ لیں۔۔۔۔

سو (100) لفظوں کی کہانی ۔۔۔۔۔۔مثال ۔۔۔۔۔۔مبشر علی زیدی
………………………………………….. ………………………..
’’من موہن سنگھ نے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا تھا، صاحبِ کتاب ہیں۔‘‘
بھارتی مندوب نے بتایا۔
’’اینجلا مرکل نے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی، متعدد تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔‘‘
جرمن پروفیسر نے مطلع کیا۔
’’صدر اوباما نے تین کتابیں لکھی ہیں، شکاگو یونیورسٹی میں بارہ سال تک قانون کے استاد رہے۔‘‘
امریکی میزبان بولے۔
’’صدر حسن روحانی بیس کتابوں کے مصنف ہیں۔ برطانیہ سے قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔‘‘
ایرانی صحافی نے فخر سے کہا۔
پھر کسی بد تمیز نے مجھ سے پوچھا، ’’تمھارے لیڈر نے کہاں سے ڈاکٹریٹ کیا؟ کتنی کتابیں لکھی ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
سو (100) لفظوں کی کہانی بشکریہ روز نامہ جنگ