سندھ کی محبت میں یہ بچارے۔ تحریںر ۔ حبیب جان ۔

Posted on November 19, 2014



حبیب جان

سندھ کی محبت میں یہ بچارے۔۔۔۔۔ مرے جارہے ہیں، 5000 ہزار سالہ تاریخ نے اس سےبد تر دور نہیں دیکھان
آج سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ممبران کی دھواں دار تقریریں سندھ کے ساتھ صرف اور صرف لفظوں کی محبت کے سوا کچھ نہیں، سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نےگزشتہ سات سالوں میں نہ صرف کھلواڑ کیا بلکہ تمام سندھ کو موہنجوڈرو بنادیا۔ اربوں روپوں کے منصوبے صرف اور صرف کاغذوں پر بنے اور غائب ہوگئے۔ دو وزرائےاعظم کا شہر لاڑکانہ آج بھی کھنڈرات بنا ہوا ہیں۔ہم سوال پوچھنا چاھتے ہیں ان لوگوں سے جو سندھ کی محبت میں مرے جارہے ہیں کیا گزشتہ سات سالوں میں سندھ میں کوئ میگا پروجیکٹ بنایا گیا، دادو کا گورکھ ہل اسٹیشن، کیٹی بندر، تھر کول پروجیکٹ جیسے منصوبے آج بھی اربوں روپے خرچ ہوجانے کے باوجود جوں کے توں پڑے ہوئےہیں۔ آج سندھ اپنی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں بد ترین دور سے گزر رہا ہیں۔ آج نبھاگوں کا دور دورہ ہے، آج تھر میں معصوم بچے بھوک و افلاس سے مارہے جا رہے ہیں جدید زرائع نقل و حمل کی موجودگی کے باوجود تھر سسک رہا ہیں۔ دو صدی پہلے انگریز خچر اور گھوڑوں کے زریعے تھر کے قحط زدہ علاقوں میں راشن فراہم کیا کرتے تھے۔ لیکن یہ نا اہل حکمران صرف اور صرف اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کا بھلا سوچ ہی نہیں سکتے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے ساتھ ہی ان لوگوں نے لاڑکانہ کے شہداء قبرستان میں جمہوریت اور خدمت کو دفن کردیا ہیں۔ 21 نومبر کو سندھ کے عوام نام نہاد سندھ کے خیر خواہوں سے آزادی کے لئے تحریک انصاف کے جلسے میں بھر پور شرکت کرکے ایک نئ تاریخ رقم کرینگے۔