زرداری صاحب and میاں مُحمدنوازشریف

Posted on November 19, 2014



پاکستان کی کل آبادی لگ بھگ 18/19 کڑوڑ کے قریب ہیں

۔ بجلی کی ضروریات 17 سے 18 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے۔ پیداواری صلاحیت گرمیوں میں 9 سے 10 ہزار اور سردیوں میں 12 سے 13 ہزار میگاواٹ۔۔ شہید بےنظیر بھٹو صاحبہ نے اپنے پہلے دور حکومت میں پاور پروجیکٹ کے نام پر بجلی پیدا کرنے کے لئے بین الاقوامی کمپنیوں سے معاہدے کئے، اسی زمانے میں ہمارے بطن سے پیدا ہونے والا بنگلہ دیش بھی وھی کمپنیوں سے بجلی خرید رہا تھا جن سے پاکستان نے سودے فائنل کئے تھے۔ مختصر یہ کہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کی حکومت 2 سال میں ختم کردی گئ۔ چمک والے الیکشن ہُوئے اور میاں صاحبان برسراقتدار آگئے۔۔۔ پہلا کام جو میاں صاحب نے کیا وہ یہ تھا تمام بجلی کے منصوبے یک جنبش قلم ختم کر دئےگئے۔ اس کے بر عکس بنگلہ دیش نے اپنے منصوبے جاری رکھے اور آج وہاں بجلی کا شرٹ فال نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یاد رہے میاں صاحب نے ان پاور منصوبوں پر کرپشن کا الزام لگایا تھا اور بڑے بھائ یعنی زرداری صاحب کو جیل میں ڈالدیا گیا۔۔ بہرحال اب المیہ یہ ہے کہ آصف علی زرداری صاحب دور صدارت 5 سالوں میں تقریبا 35 سے زائد بار چائنا تشریف لے گئےاور قریبا 25 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے معائدے کئے، رینٹل پاور پروجیکٹ اس کے علاوہ ہے۔ اب آئیں میاں مُحمد نوازشریف کی موجودہ حکومت کی طرف آپ جناب نے 15 ماہ میں چین کے 3 سے زائد دورے کئےاور 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے معائدے کئے۔ دونوں حضرات اپنے عزیز واقارب جن میں بڑے نام چند یہ ہے محترم ٹپی صاحب، محترم حسن نواز، محترم میاں مُحمد منشاں تو کچھ تاجروں اور ڈاکٹروں کو پالیمینٹرین کا کوٹ پہناکر چائنا لے جایا گیااور
بندر بانٹ کی گئ یہ الگ بات ہے کہ ان 7 سالوں میں ایک میگا واٹ بھی پاکستان نہیں آسکا۔ کل زرداری صاحب کے دور میں رینٹل پاور تھا تو آج TAKE and PAY نامی منصوبے میاں صاحب نے شروع کر رکھے ہیں، بجلی کب آئے گی لوڈشیڈنگ کب ختم ہوگی کوئ نہیں جانتا بقول حبیب جالب دن بدلے ہیں فقط وزیروں کے مشیروں کے درباریوں کے اور پاؤں ننگے ہیں بینظیروں کے مقروض ہیے دیس کا ہر بلاول۔۔۔۔ جاری ہے۔