عمران خان کا دھرنا یا میثاق کرپشن

Posted on November 18, 2014



تحریر: سید انور محمود

دھرنے16 اگست سے شروع ہوئے، علامہ طاہر القادری اپنا انقلابی دھرنا ختم کرکے کنیڈا روانہ ہوگے، جبکہ عمران خان ابھی تک اپنے دھرنے پر موجود ہیں۔ ان دھرنوں سے ملک کی معشتا ہل گی ہے۔ کشیدہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر سری لنکا کے صدر اور آئی ایم ایف کے وفد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان کا دورہ ملتوی کردیا۔ چینی صدر کا 14 سے 16 ستمبر تک کا طے شدہ پروگرام تھا یعنی دھرنے شروع ہونے کے چار ہفتے بعد۔ چین کے صدرکے اس اہم دورہ میں پاک چین مشترکہ تجارت سمیت دونوں ممالک کے درمیان دیگر اہم معاہدوں پر دستخط کرنے والے تھے۔ اطلاعات یہ تھیں کہ چینی صدر کے اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان بتیس ارب ڈالر کے معاہدات ہونا تھے جن میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے پاور پلانٹ کے سمجھوتے بھی شامل ہیں۔ نواز شریف کے حالیہ 7نومبر 2014ء کو چین کے تین روزہ سرکاری دورۂ میں ان معاہدوں پر دستخط ہوگے ہیں۔ میڈیا میں آنے والے بیانات میں اربوں ڈالر کی اس سرمایہ کاری کو حکومتی قرضے بھی بتایا جارہا تھا۔ نواز شریف حکومت یہ الزام لگاتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مظاہروں، دھرنوں اور سیاسی کشیدگی کے باعث یہ دورئے منسوخ کیے گے۔ جبکہ نواز شریف حکومت یہ نہیں بتاتی کہ اُن کی پارٹی یا اُنکے خاندان میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو وزیر خارجہ بن سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ موٹر وئے بنانے یا میٹرو چلانے کےلیے کسی وزیر خارجہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اچھے ٹھیکداروں کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وزارت خارجہ کو صیح استمال کیا جاتا تو چینی صدر کو لاہورمیں بھی ویلکم کیا جاسکتا تھا۔

مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی روزانہ کی بنیاد پر کورس کے انداز میں عمران خان اور اُسکے دھرنے کو کوس رہے ہوتے ہیں، وہ کبھی دھرنوں کو آئین اور قانون کے منافی قرار دیتے ہیں، کبھی مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں۔ نواز شریف کے ساتھیوں میں مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی بھی شامل ہیں اور ہر پاکستانی جانتا ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے کرپٹ ترین سیاستدان ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ یہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے دھرنوں میں شریک خواتین کے بارئے میں بازاری لفظ “مجرے” کا استمال کیا جو شرفا کی زبان میں ایک گالی ہے لیکن ہوسکتا ہے مولانا کے ہاں عام طور پر بولا جاتا ہو، کیونکہ جو شخص کتے کو “شہید” کہہ سکتا ہے وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔محمود خان اچکزئی جو قائد اعظم کا تو مخالف ہے، غریبوں اور مظلوموں کا ہمدرد بنتا ہے اور اپنے آپ کو ایک اصول پسند سیاستدان کہتا ہے، نواز شریف حکومت میں اُس کے خاندان کے دس افراد مختلف حکومتی عہدوں پر موجود ہیں، خود یہ وزیراعظم کا مشیر خاص ہے اور ایک بھائی گورنر بلوچستان ہے، باقی دوسرئے عہدوں پرہیں، افسوس لوگوں کے ووٹوں کی بھیک سے پارلیمینٹ میں پہنچے والا یہ لٹیرا دھرنے میں آئے ہوئے غریب لوگوں کو خانہ بدوش کہتا ہے۔

مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ان سب کا مقصد کسی بھی طرح اس دھرنے کو ختم کرواکر اس کرپٹ نظام کو بچاناہے جسکے زریعے یہ پارلیمینٹ کی چھتری کے سائے میں اپنی بدعنوانیوں کو جاری رکھ سکیں تاکہ اُنکی دولت میں اضافہ ہوتا رہے، اُنکو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اُنکی بدعنوانیوں کے نتیجے میں غربت کی لکیر کے نیچے جو 65 فیصد لوگ ہیں اُن میں اضافہ ہوجائے گا۔14اگست2014ء کو عمران خان کے آزادی مارچ اور علامہ طاہر القادری کے انقلابی مارچ اور بعد میں اسلام آباد میں اُنکے دھرنے 2009ء کے نواز شریف کے لانگ مارچ سے قائم ہونے والی بری مثال کا نتیجہ ہیں، اور آج عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک عمل2009ء میں جائز تھا تو اگست2014ء میں کیونکر ناجائز ہوگیا؟ نواز شریف کو لازمی یاد ہوگا 2009ء میں اُنکے لانگ مارچ کو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ہی اُس وقت کے آرمی چیف نے نواز شریف کو فون کرکے کہا تھا کہ ان کے مطالبات مان لئے گئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے مارچ کے مقاصد تسلیم کرلئے اور عدلیہ بحال ہوگئی۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ تمام عمل پارلیمنٹ سے ماورا تھا ، 2009ء میں فوج، پیپلزپارٹی کی حکومت، نواز شریف اور سب نے مل کرایک غلط روایت قائم کی تھی ۔ اُس وقت یہ بات واضح ہوگی تھی کہ نوازشریف نے آئین، پارلیمنٹ سے ماورا اور عدلیہ سے رجوع کئے بغیر ایک بڑا فیصلہ سڑکوں پر کرکے ایک بری مثال قائم کی ہے۔

پاکستان میں گذشتہ تین ماہ سے زیادہ جاری سیاسی کشیدگی میں اتار چڑھاؤ تو دیکھا جاتا رہا ہے لیکن تاحال اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران لندن میں وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر اس احتجاجی سیاست کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مخالفین کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت اور اُس کی مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کا سلسلہ تو جاری ہی تھا لیکن انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور بعد میں عمران خان اور علامہ طاہر القادری دونوں کو اشتہاری ملزم بھی قرار دئے دیا ، جسکی وجہ سےسیاسی تلخی میں بےپناہ اضافہ ہوگیا۔ عدالت نے یہ وارنٹ یکم ستمبر کو پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں جاری کیے ہیں۔ ساہیوال میں اپنے 15 نومبر کے جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی تقریر میں پھر پاکستان کے انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ سڑکوں پر نہ نکلوں تو پاکستان کا نظام انصاف انہیں انصاف نہیں دے سکتا۔ اسی جلسے میں عمران خان نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم نواز شریف ایک اشتہاری سے بات کرنا چاہتے ہیں؟، وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے نہ وہ ڈریں گے نہ بات کریں گے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں نواز شریف اور آصف زرداری کو مجرم قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ دونوں نے لندن میں ملاقات کی ہے، ان کا آپس میں مک مکا ہوچکا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مذاکرات کے دروازے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم حکومت سے بات چیت کرتی رہے، وہ نہیں کریں گے۔

تحریک انصاف کا موقف ہے کہ یہ وارنٹ گرفتاری حکومت کی مبینہ ایما پر جاری کیا گیا جس کا مقصد پی ٹی آئی کی طرف سے 30 نومبر کو اسلام آباد میں اعلان کردہ جلسے میں خلل ڈالنا ہے۔ جماعت کے ایک مرکزی رہنما عارف علوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کو سراسر غلط اقدام قرار دیا۔ عمران خان حکومت پر گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔حکومت کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ان تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کو تیار ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں آتے ہیں اور ان میں سے بعض پر پیش رفت بھی ہو چکی ہے جسکی تصدیق خود عمران خان بھی کرچکے ہیں۔

عمران خان کے اس مطالبے پر کہ جوڈیشل کمیشن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی شمولیت ہونی چاہیے لندن میں موجودپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمااور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی شمولیت سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ حالیہ دونوں میں دونوں جانب سے یہ بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن بظاہر دونوں ہی اس میں پہل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر نواز شریف واقعی اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں تو پہل اُنکو ہی کرنا ہوگی لیکن اگر نواز شریف وارنٹ گرفتاری کے زریعے اس مسلےں کا حل تلاش کررہے ہیں تو وہ یقین رکھیں جن سیاسی شخصیات کے ساتھ انہوں نے میثاق کرپشن کیا ہوا ہے برا وقت آنے پر کوئی اُنکے ساتھ نہ ہوگا اور اسکا 1999ء میں اُنکو تجربہ ہوچکا ہے، مگر افسوس ان کی سیاسی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اچھے اور برئے تجربوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ دیکھیے مستقبل کے تاریخ داں کی نظر میں کون تاریخ میں امر ہوتا ہے “عمران خان کا دھرنا یا میثاق کرپشن”۔