امن چاہیے تو سزائے موت بحال کروُ

Posted on November 15, 2014



تحریر: سید انور محمود

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں سزا یافتہ مجرموں میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ سزائے موت پانے والے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد کی ایک طویل فہرست ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی جیلوں میں موت کےسزا یافتہ مجرموں کی تعداد آٹھ ہزار ہے اور جن میں اکثریت کی اپیل کے حق کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔ یہ سزائیں ایک دن، ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوئی ہیں بلکہ گذشتہ پندرہ سال میں ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار سے زائد ایسے قیدی بھی ہیں جنہیں مختلف عدالتوں سے موت کی سزا سنائے ہوئے بھی پندرہ سال سے زیادہ ہوگئے ہیں۔یعنی ان آٹھ ہزار میں ایک ہزار سے زائد مجرم ایسے بھی ہیں جنکو نواز شریف کے گذشتہ دور میں موت کی سزا ہوئی ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی مجرموں کو کو پھانسی دی جاتی رہیں مگر 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ابتک صرف ایک فوجی کو اپنے ساتھی فوجی کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی ہےاور یہ فیصلہ فوجی عدالت کا تھا کسی سول عدالت کا نہیں۔

اس وقت ملک کے قانون کے مطابق اٹھائیس جرائم ایسے ہیں جن میں جُرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ان میں قتل کے علاوہ دہشت گردی، زنابالجبر اور اغوا برائے تاوان سمیت دیگر جرائم شامل ہیں۔ مگر ہمارئے ملک میں قاتلوں اوردہشت گردوں کو سزا دینے کے بجائے انکو سرکاری مہمانوں کا درجہ دیا جاتا ہے ، پولیس کی غفلت، مجرموں کا اثر و رسوخ اور پیچیدہ عدالتی طریقہ کار اور گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث سزاؤں کی شرح انتہائی کم ہے، اس لیے وہ درندہ بنکر جیل سے باہرآتے ہیں اور بلا خوف و خطر پہلے سے زیادہ جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ شاہ رخ جتوئی جب شاہ زیب کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سننے کے بعدعدالت سے باہر آیا تو اپنی انگلیوں سے وی کا نشان بنایا یعنی کامیابی یا جیت اُسکی ہوئی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں میڈیا کے زریعے شاہ رخ جتوئی کی قانون سے اس بے خوفی کو دیکھ کر بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہےکہ پاکستان میں قانون کا خوف دوردور نہیں ہےِ۔ کیوں نہیں ہے؟ اسکا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے جن کو قانون پر عمل کرانا ہوتا ہے وہ خود قانون شکن ہیں۔

سزاوُں پرعمل نہ ہونے کی وجہ سے ان مقدمات کے گواہوں کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ پنجاب میں 6082 موت کی سزا کے قیدی ہیں جن میں 27 عورتیں بھی شامل ہیں، ان موت کے سزا یافتہ قیدیوںمیں سے 4500 نےہائی کورٹ میں، 1300 نے سپریم کورٹ میں جبکہ 40 نے وفاقی شریعت کورٹ میں سزا کے خلاف اپیلیں داخل کی ہوئی ہیں۔ ان ہی میں سے 242 نے صدرکو رحم کی اپیل کی ہوئی ہیں۔ملک بھر میں526 قیدی ایسے ہیں جنھیں پھانسی دینے کا تمام قانونی عمل مکمل ہوچکا ہے۔ ان قیدیوں میں143قیدی سندھ کی جیلوں کے پھانسی گھاٹ میں ہیں، جوقتل، دہشت گردی اور دیگرجرائم میں ملوث تھے۔ بدقسمتی سے ان افراد میں سیاسی جماعتوں اور کالعدم مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجرم بھی شامل ہیں۔ ان مجرموں کو ماتحت عدالتوں سے سزا سنائے جانے کے بعد اعلیٰ عدالتوں نے بھی ان فیصلوں کی توثیق کردی ہے اور صدر مملکت نے بھی اُنکی رحم کی اپیلیں مستردکردی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے 2013ء میں جب تیسری مرتبہ وزیراعظم کی حیثیت سے حکومت شروع کی تو اخبارات اور میڈیا میں آنے والی خبروں سے یہ بات سامنے آئی کہ نواز شریف حکومت ملک میں امن وامان کی صورت حال کو ٹھیک کرنے کےلیےموت کی سزا کوبحال کرئے گی۔ حکومت نے گذشتہ سال اکیس اور بائیس اگست کو دو مجرموں کوکراچی کی جیل میں پھانسی دینے کا اعلان بھی کیا تھا، جبکہ پچیس اگست تک کچھ طالبانی اور لشکرجھنگوی کے دہشت گردوں کو بھی پھانسی دینی تھی۔ ان دہشت گردوں میں عقیل احمد عرف ڈاکٹرعثمان بھی شامل تھا جسں نے 10اکتوبر 2009ء کو دس دہشت گردوں کی قیادت کرتے ہوئے جی ایچ کیو پرحملہ کیا تھا ۔اس سے پہلے کہ ان مجرموں کو پھانسی دی جاتی میڈیا کے زریعے ایک حکومتی ترجمان کا بیان آیا جس میں کہا گیا کہ اسوقت کے صدر زرداری نے وزیراعظم نوازشریف کو خط لکھا ہےکہ وہ سزائے موت کے معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اسوقت سابق صدر مملکت بیرون ملک میں تھے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ صدر اوراُن کے درمیان ملاقات تک سزائے موت پرعملدرآمد روک دیا جائے۔

طالبان نے 14اگست 2013ء کوجنوبی وشمالی وزیرستان میں پمفلٹ کے ذریعے نواز حکومت کو دھمکی دی تھی کہ “اگر قیدی ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو یہ حکومت کی طرف سے اعلان جنگ کے مترادف ہوگا”۔ پنجابی طالبان کے امیرعصمت اللہ معاویہ نے ایک بیان کہا تھا کہ پھانسی پر عملدرآمد اُنہیں ن لیگ کے خلاف اعلان جنگ شروع کرنے پر مجبور کردے گا۔اُن کی دھمکی کے بعد تحریک طالبان کے ترجمان کی طرف سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا کہ اگر 23 اگست کو شیڈول کے مطابق عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو فیصل آباد میں پھانسی دی گئی تو ن لیگ کی دو اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے لئے انتہائی تربیت یافتہ خود کش بمباروں کا ایک اسکوارڈ تیار کرلیا گیا ہے۔ اُنہی دنوں میں حکومتی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کردی کہ وزیراعظم نوازشریف نے تا حکم ثانی ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے سزائے موت پرعملدرآمد کے اپنے سابقہ اعلان سے انحراف سے لگتا ہے کہ تحریک طالبان کی طرف سے وہ دھمکی کام کرگئی ہے جس میں کہاگیا تھا کہ زیرحراست عسکریت پسندوں کو پھانسی تحریک طالبان کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف اعلان جنگ پر مجبور کردے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی دو شخصیات خود نواز شریف اور اُنکے بھائی شہباز شریف ہیں مگر اس قسم کی دھمکیوں سے اگر وہ اپنے فیصلے بدلینگے تو پھر ہرطرف سے سنگین مسائل میں گھرے وطن کو مسائل سےنجات دلانے کے بجائے وہ مزید سے مزید تر مصائب ومشکلات میں اُلجھادینگے۔

نواز شریف حکومت کے وفاقی وزیراطلاعات جو وزیر قانون بھی ہیں ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ “حکومت نے سزائے موت ختم نہیں صرف معطل کی ہے، حکومت نے کسی سے پیسے لے کر سزائے موت معطل نہیں کی بلکہ اپنے مزدوروں کو بیروزگاری سے بچایا ہے، اگر ہم سزائے موت معطل نہ کریں تو یورپی یونین ہماری ایکسپورٹس کےلیے اپنے دروازے بند کر دے گی”۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے یورپ سے اقتصادی مراعات کے حصول کیلئے ملک میں قصاص کی قرآنی آیات پر عملدرآمد عارضی طور پر معطل کر رکھا ہے۔ پرویز رشید نے اعتراف کیا کہ اگرچہ حکومت کا یہ اقدام اسلامی قوانین اور ساتھ ہی آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے لیکن یہ اقدام عوام کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے معاشی فوائد کے حصول کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی پرویز رشید نے فرمایا کہ “حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں قحط سالی کی وجہ سے انہوں نے چوری کی قرآنی سزا پر عملدرآمد معطل کردیا تھا”۔

پرویز رشید کو معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور اور نواز شریف کے دور کو ایک جیسا ثابت کرنا سوائے جہالت کے کچھ نہیں، اس ملک میں جس کا دل چاہتا ہے مذہب کا بیجا استمال کرنے میں قطعی جھجھک محسوس نہیں کرتا۔ یہ صیح ہے کہ پورپی یونین کی طرف سے سزائے موت پر پابندی عائدکرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008ء میں اقتدار میں آتے ہی سزائے موت پر پابندی عائد کردی اورپاکستان بھی دنیا کے ان 36 ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا جہاں سزائے موت پر پابندی عائد ہے۔پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ (ن) نے اس پابندی کی سخت مخالفت کی تھی لیکن جون 2014ء میں جب وہ خود اقتدار میں آئی تو طالبان کی دھمکیوں سے ڈرکر اس نے بھی سزائے موت پر پابندی برقرار رکھی۔ پہلے کہا گیا کہ سزائے موت پر پابندی عارضی ہے اور اس کا مقصد تحریک طالبان پاکستان سے جنگ بندی کا حصول ہے، اسکے بعد کہا گیا کہ سزائے موت پر پابندی کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ کو فاہدہ ہوگا اور یورپی یونین کی جانب پاکستان کو معاشی حوالے سے دی جانے والی خصوصی مراعات سے ہے۔

اب جبکہ پاک فوج آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے تو نواز شریف کو طالبان کے خوف سے باہر نکل کر اور یورپی یونین کی مراعات کو علیدہ رکھ کردہشت گردوں اور ٹارگیٹ کلرزکو اُنکے منطقی انجام یعنی پھانسی کے پھندئے تک پہنچانا چاہیے، اگر ایسا ہوا تومسائل میں گھرے عوام اوربنیادی سہولیات کے لئے سسکتے بلکتے لوگوں کی داد رسی کے لئے مہنگائی، بجلی، بے روزگاری اور بدامنی جیسی بدترین صورتحال سےنمٹ پاینگے۔ نواز شریف حکومت کے پاس ایک ہی طریقہ ہے کہ ملک میں سب سے پہلے امن ہو اور امن قائم کرنے کےلیے سزائے موت کو بحال کرنا لازمی ہے۔امن دشمنوں یا موت کے سزا یافتہ مجرموں کو سزائے موت دینا اس ملک کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔