موت کا سفر

Posted on November 5, 2014



زندگی ایک حسین سفر کا نام ہے

،مگراس سفرکا اختتام موت پر ہوتا ہے۔تو پھر یہ کیسے مان لیا جائےکہ یہ سفر، زندگی کاسفرہے؟سچ تو یہ ہے کہ یہ موت کا سفر ہے اور وہ بھی حسین و جمیل۔ہر شخص نے موت کی آغوش میں جانا ہے اور موت اپنا سینہ طانے باہیں کھولے کھڑی ہے۔ مو ت کا نام سنُتے ہی اچھے اچھُوں کی سیٹی گم ہوجاتی ہے۔ آخر کیوں؟ شاید ہمیں اس زندگی سے پیار ہے بلکہ عشق کہیں تو بے جا نہ ہوگا مگر یہ سفر تو موت کا ہے پھر یہ زندگی سے عشق ؟؟
اس زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں جو یہ دعوی ٰ کر ے کہ وہ ہمیشہ جینے کے لئے آیا ہے ،اگر آپکو ملے تو مجھ سے ضرورملوائیے گا ۔ ۔کچھ لوگ موت کوشکست دینے کےلئے پوری زندگی صرف کردیتے ہیں اور آخرمیں موت کو گلے لگا کر زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں ، جبکہ کچھ لوگ ساری زندگی موت کی طلب کرتے ہیں اور زندگی سے بیزار رہتے ہیں۔دونوں قسموں کے لوگ اپنی زندگی میں اپنے اپنے طریقے سے خوب جدوجہد کرتے ہیں ،پر نتیجہ وہی موت۔
جب موت اٹل ہے تو کیوں نہ اس زندگی سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ مثبت یا منفی اسکا فیصلہ ہمیں کرنا ہے اور سوچ سمجھ کر کرنا ہے ، کیونکہ یہ سفر کب ختم ہوجائے کوئی نہیں جانتا۔کوئی شخص اپنی زندگی کا فائدہ تو کیا اُٹھا نا دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزار کر چلاجاتا ہے تو کوئی موت کو اٹل جان کر چار دن کی زندگی خوب عیاشی میں گزاردیتا ہے۔کوئی موت کے خوف سے اپنے رب کو یاد کرتے کرتے موت کی چادر اُڑھ کر سوجاتا ہے،کوئی جنت کی لالچ میں توکوئی اگلے جنم کی آس میںِِ،کوئی شیطان کی پیاس میں تو کوئی اللّٰہ کے دیدار کی خاطر نیکی اور بدی سے اُلجھتا ہواموت کی تاریک وادی میں اُتر جاتا ہے۔
ہر ایک کا انجام ایک ہی، پر انداز الگ الگ۔کئی بار لوگ موت کو چکما دے کر نکل جاتے ہیں اور پھر مزے لے لے کر دوسروں کو اپنی بہادری کے قصے سنا رہے ہوتے ہیںِ، مگر نادان یہ نہیں جا نتے کہ موت تو ان سے کھیل رہی ہوتی ہے اور بلآخر انہوں نے موت کے اُسی طلسم میں جانا ہے۔موت اور زندگی کی اس کشمکش میں کامیابی کس کی ہوتی ہے یہ توکوئی نہیں جانتا، مگر اتنا ضرور ہوتا ہے کہ دنیا والے مرنے والے کویاد ضرور رکھتے ہیں۔انسان آتے جاتے رہتے ہیں مگر قدر اُس فن یا کا م کی ہوتی ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد سوئی ہوئی آتماؤں کو جگانہ اور انکے ضمیروں کو جھنجورنا ہے ۔ ہر پاکستانی نے مرنا ہے تو پھر کیوں نا موت کے سفر پر جا نے سے پہلے اس زندگی میں وہ کر جائیں کہ ہر پاکستانی آپکو ہمیشہ یاد رکھے۔ دنیا میں پیارے پاکستان کا نام عزت سے لیا جائے۔ جو شخص اس “موت کے سفر” کا فلسفہ سمجھ گیا اسے رب مل گیا اسے سارا جگ مل گیا۔