دہشت گرد اور دہشت گردی مردہ باد

Posted on November 5, 2014



تحریر: سید انور محمود

دہشت گرد باون ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانیوں کوشہید کرچکے ہیں اُن شہدا میں مسلع افواج، رینجرز، پولیس اور عام افراد شامل ہیں ، لیکن کیا دہشت گردوں، اُنکے سرپرستوں اور پاکستان میں اُنکے وظیفہ خوار سیاست دانوں اور صحافیوں کو اب بھی یقین نہیں آیا کہ دہشت گردی کے زریعے اس قوم کو زیر نہیں کیا جاسکتا۔ دو نومبر کی شام واہگہ باڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد دہشت گردوں نے ایک انیس یا بیس سال کے بچے کے زریعےتقریب سے واپس جانے والوں پر جو خود کش دھماکا کیا اُسکے نتیجے میں تین رینجرز اہلکاروں سمیت 60 افراد شہید اور 175سے زائد زخمی ہوگئے، جن میں 12خواتین اور7بچے بھی شامل ہیں۔ شہدا میں ایک ہی خاندان کے 9 اور دوسرے کے 5 افراد بھی شہید ہوئے ہیں، شہدا کا تعلق کراچی سے لنڈی کوتل تک کے لوگوں کا ہے، لیکن اکثریت اہل لاہور کی ہے۔ شاید دہشت گردوں نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ ہم نے پوری قوم کو ڈرا دیا ہے، اب لوگ سہم گے ہونگے اور آئندہ اس طرح کی تقریب میں شریک نہیں ہونگے، لیکن دہشت گردوں کا خیال غلط ہے ، جو خود تو بزدلوں کی طرح حملہ کرتے ہیں اور پھر اپنی ہر بزدلی کا چھپ کر اعلان کرتے ہیں، اس واقعہ کی زمیداری تو تین تین بزدل دہشت گرد تنظیموں نے لی ہے۔

نواز شریف جو 1999ء میں اس بات کی خواہش کرچکے ہیں کہ وہ طالبان جیسی حکومت بنانا چاہتے، لیکن جنرل پرویز مشرف اُنکے راستے میں آگئے اور وہ ملا عمر نہ بن سکےاور جب وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو اُن کی حکومت ایک سال تک پوری قوم کو مذاکرات کے نام پر دھوکا دیتی رہی، اُنکے نامزد کردہ دہشت گردوں کے حامی ہی حکومت کی جانب سے طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کرتے رہے، ان مذاکرات کے درمیان طالبان مستقل پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے۔ جب آٹھ جون 2014ء اتوار کی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہ حکومت کی ناقص سیکوریٹی انتظام اورایک اندیشے کے مطابق انتظامیہ میں سے چند بکے ہوئے ارکان کی وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی جانب سے ایئرپورٹ پر حملہ ہواتوپھر سے دہشت گردی سے متعلق کئی سنجیدہ سوال سامنے آئے، جن میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ حکومت اور طالبانی دہشت گردوں کا مذاکرات کا ڈرامہ کب ختم ہوگا۔ آخر کاراتوار 15 جون کو پاکستانی عوام کو آئی ایس پی آر کے پريس ريليز کے زریعے آپریشن شروع ہونے کی اطلاع ملی، افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن کا نام “ضرب عضب” رکھا گیا۔ آئی ایس پی آر کے پريس ريليز کےمطابق شمالی وزيرستان ميں حکومتی ہدايت پر باقاعدہ فوجی آپريشن شروع کر ديا گيا ہے۔ اگلے روز وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کررہے تھے، ہماری نیک نیتی پر مبنی پیش رفت کو اسی جذبے کے ساتھ نہیں لیا گیا، کراچی حملے کے بعد مشاورت سے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شمالی وزيرستان ميں باقاعدہ فوجی آپريشن کے بعد دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان سے نکل کر ملک کے دوسرئے حصوں خاص طور پر کراچی اور پنجاب کے بڑئے بڑئے شہروں میں اپنے ٹھکانے بنانے شروع کردیے۔ سیاسی تجزیہ نگار مستقل یہ کہتے رہے کہ ہمیں دہشت گردوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور ساری ذمیداری فوج پر نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ سول انتظامیہ کو بھی اپنی ذمیداری پوری کرنی چاہیے۔ افسوس نواز شریف اپنی ذمیداریاں پوری کرنے کے بجائے اپنے کاروبار کوبڑھانے کی فکر میں لگ گے۔ اس درمیان میں اسلام آباد میں دودھرنے بھی ڈالے گے تو نواز شریف کے وزرا سارئے کام چھوڑکر ان دھرنوں سے نواز شریف کی حکومت کو بچانے میں لگے رہے۔ 10اور 11اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ نے قومی سلامتی کے ادارے کے ہمراہ کراچی کی سینٹرل جیل سے متصل کچی آبادی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک مکان سے دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا، مذکورہ مکان کے زیر زمین پانی کے ٹینک سے جیل کی جانب سرنگ کھودی جا رہی تھی، مکان سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اور حساس نوعیت کے آلات بھی ملے ہیں جن کی مدد سے وہ جیل میں منتخب کردہ بیرک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دہشت گرد جس مطلوبہ بیرک تک پہنچنا چاہتے تھے اس میں 100 سے زائد دہشت گرد قید ہیں، دہشت گرد مطلوبہ ہدف سے صرف 10میٹر کی دوری پر تھے۔ پاکستان میں سکیورٹی، لاقانونیت، انسانی حقوق اور قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے کے حوالے سے پاکستان کی جیلوں کی کہیں بھی مثال ملنا مشکل ہے۔ پروگرام کے مطابق اس سرنگ کو 10 محرم سے پہلے مکمل کرنا تھا اور 10 محرم کو کراچی میں سینٹرل جیل سے دور کوئی خودکش حملہ یا پھر بم دھماکہ کیا جاتا، انتظامیہ کی توجہ اس طرف ہوتی تو سینٹرل جیل پر سرنگ کے زریعے حملہ کیا جاتا اور دہشت گرد اپنے ساتھیوں کو چھڑا لیتے۔

سانحہ واہگہ بارڈر: سوال یہ ہے کہ اس سانحہ کا ذمیدار کون ہے؟ کراچی کی سینٹرل جیل کے واقعے کے بعد نہ تو سندھ حکومت جاگی اور نہ ہی پنجاب کی حکومت جاگی۔ مرکزی حکومت تو ویسے ہی دھرنوں کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر چل رہی تھی، جبکہ پنجاب حکومت 17 جون کو لاہور کےماڈل ٹاون میں قتل عام کے واقعے کے بعد عوام سے منہ چھپائے ہوئے ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں نے بڑی آسانی سے دو نومبر کو واہگہ بارڈر کو نشانا بنایا اور نہتے انسانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔شریف برادران کے دونوں مرکزی اور صوبہ پنجاب کے وزرا داخلہ نے اس واقعہ کی ذمیداری ایک دوسرئے پر ڈال دی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے واہگہ بارڈر پر ممکنہ خودکش حملے کی وارننگ جاری کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کئے گئے اس کی تحقیقات کی جائے گی۔ واہگہ بارڈر پر ہونے والے خود کش حملے سے متعلق پہلے سے ہی حکومت پنجاب کو آگاہ کیا گیا تھا مگر اس ابتدائی وارننگ کے باوجود خود کش حملہ آور کو روکنے کے انتظامات نہ کئے جانا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈشجاع خانزادہ نے کہا ہے کہ خودکش حملہ آورنے 4 چیک پوسٹ کراس کرکے دھماکا کیا، خودکش حملہ آورکاہدف رینجرزکی پرچم اتارنےکی تقریب تھی۔ رینجرز کے مطابق دھماکہ رینجرز سکیورٹی حصار سے 600 میٹر کے فاصلے پر ہوا، جب لوگ بھاری تعداد میں پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد واپس جارہے تھے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے خودکش حملہ آور نے پہلا بیریئر کراس کرنے کے بعد دوسرے بیریئر پر خود کو اڑا لیا، دھماکہ میں بال بیرنگ استعمال کئے گئے۔ آئی جی پنجاب کے مطابق خود کش حملہ آور نے ہجوم کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا جبکہ ایسے مقامات پر خود کش حملہ آور کو روکنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ان تمام بیانات کو پڑھکر آپ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ سانحہ واہگہ بارڈر کی ذمیدار شریف برادران کی حکومتوں کی نااہلی ہے۔

تین نومبر کو پھر تقریب ہوئی، ایک دن پہلے اپنے شہید ہونے والے پاکستانی بہن بھایوں کا غم تھا، لیکن لوگوں کو پہلے کی طرح پریڈ دیکھنے کی اجازت کے اعلان کے بعدواہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب ہوئی تو لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔دہشت گردہارگئے،دہشت گرد پاکستانیوں کے حوصلے پست نہ کر سکے،واہگہ بارڈرپرپرچم اتارنےکی تقریب میں ہزاروں شریک پاکستانیوں کے حوصلےبہت بلندتھے، شریک پاکستانیوں میں خواتین اوربچوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ پاکستانیوں کاجوش وجذبہ برقرار دکھائی دیا۔ اس موقع پر کورکمانڈر، ڈی جی رینجرز اور پولیس حکام بھی موجودتھے۔کورکمانڈر کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کےدکھ میں شریک ہیں، آج کی تقریب ثابت کررہی ہےکہ بزدلانہ حملےسےقوم کاجذبہ کم نہیں ہوگا، سانحہ واہگہ بارڈر پر متاثر خاندانوں سےہمدردی ہے۔ کور کمانڈر کے اس بیان پر مجھےستمبر 1965 کا لاہور یادآرہا ہے، جب بھارتی طیارئے لاہور پر حملہ آور ہوتے تھے تو سارئے لاہورئیے کسی محفوظ جگہ کے بجائے اپنی چھتوں پر ہوتے تھے اور پاک فضایہ کے حق میں نعرئے لگاتے تھے۔ اگر اس درمیان میں پاک فضایہ کوئی بھارتی طیارہ گرالیتی تو پورا لاہور “بو کاٹا” کے نعرئے سے گونج اٹھتا تھا۔ 1965ء کی جنگ دوران ایک امریکن صحافی نے لکھا تھا کہ “یہ تو کوئی پاگل قوم ہے جو جنگی طیاروں کی لڑائی کو پتنگ بازی کی طرح انجوائے کرتی ہے، اسکو شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے”۔ تین نومبر کو لاہوریوں نے ایک مرتبہ پھر واہگہ بارڈر پر جاکر “دہشت گرد اوردہشت گردی مردہ باد” کےفلک شگاف نعرےبلند کیے جو دوسرئے دیس بھارت میں بھی صاف طور پر سنے جارہے تھے۔ اللہ تعالی ہم سب پاکستانیوں کا حامی و ناصر رہے۔پاکستانی قوم زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔