پاگل خانہ

Posted on October 29, 2014



تحریر: سید انور محمود

محترم مبشر علی زیدی صاحب، آج آپکی سو لفظوں کی کہانی “غلط فہمی” پڑھی تو سوچا کہ میرئے ساتھ جو مسئلہ ہے وہ آپکو لکھ کر دیکھ لوں شاید آپ کوئی مدد کرسکیں۔ میرئے ایک دوست آجکل جیل میں ہیں، رشک آتا ہے اُنکی زندگی دیکھ کر، اکثر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہیں، صبح کو حلوہ پوری، دوپہر میں سیخ کباب اور رات کو کبھی نہاری، تو کبھی بروسٹ یا پیزہ کھاتے ہیں۔ اپنا پورا کاروبار جیل میں رہتے ہوئےموبائل سے کرتے ہیں اور اپنے بھتہ خور گینگ کو بھی جیل سے ہی کنٹرول کرتے ہیں،بڑی جلدی بڑی ترقی کی ہے، اُنکی بیگم زیورات سے لدی رہتی ہیں اور ہربچے کے پاس نئی ماڈل کی کارہے۔ جیل میں رہنے کی وجہ سےمیرئے دوست کو نہ ٹارگیٹ کلنگ کی فکر ہے، نہ ہی روڈ پر لٹ جانےکا ڈر، بم دھماکے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر جیل میں دھماکے کرنے والوں کے بھائی بھی مہمان ہیں۔ دوسری طرف میں ہوں، پرسوں رات ہی اپنی بلڈنگ کے سامنے لٹاہوں، آٹھ سو روپے لے گے مگر موبائل پرانا دیکھ کر چھوڑ گے، کسی طرف سے گولی نہ آجائےاسکی بھی فکر ہے، رات کو اٹھ اٹھ کر گھر کے دروازئے اور تالے چیک کرتا ہوں، بچے کہیں جاتے ہیں تو اُنکو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ پہنچتے ہی اطلاع کرنا اور ہاں کسی ایسےعلاقے میں مت جانا جہاں دوسری زبان بولنے والے رہتے ہوں، نہ خود بتاتا ہوں اور بچوں کو بھی منع کررکھا کہ اپنے عقیدئے کا کسی کے سامنے ذکر مت کرنا، میری ان ساری حرکتوں کو میرئےبچے نوٹ کرتے ہیں، اور کہتے ہیں ابو آپ نفسیاتی مریض ہوگے ہیں، وہ بہت ہی اخلاقی انداز میں مجھ کو سمجھارہے ہیں کہ ابو آپ پاگل ہوگئے ہیں۔ اب اگر میں پاگل ہوں تو پھرجیل سے باہر کی یہ دنیا تو پاگل خانہ ہے، لہذاجیل سے باہر آنے والوں کو صیح بتایا گیاہے کہ جو بھی جیل سے باہر جایگا اُسکی منزل پاگل خانہ ہوگی۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ اپنے ملک کی یوم آزادی سے لیکر آجتک “اب کیا ہوگا”، “اب کیا ہوگا” نے پریشان کیا ہوا ہے، لہذا اب میں سوچ رہا ہوں کہ کچھ دن کسی جیل میں رہ کر سکون سے گذار لوں، مگر ابھی تک کوئی تگڑی سفارش نہیں مل پائی ہے، اگر آپ کا کوئی جاننے والا میرا یہ کام کرادئے تومیں آپکا اور اُسکا بہت شکرگذار ہونگا، کم از کم کچھ دن تو پاگل خانے سے دور رہ سکونگا۔ پیشگی شکریہ، ایک نفسیاتی مریض یا پاگل۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سو (100)لفظوں کی کہانی ۔۔۔۔۔۔غلط فہمی ۔۔۔۔۔۔مبشر علی زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے جیل جیسی عمارت میں داخل ہونے کے بعد مڑکے دیکھا،
دروازے کے اوپر لکھا تھا، ’’پاگل خانہ‘‘
میں نے اُس شخص کو گھور کے دیکھا جو مجھے بہانے سے وہاں لایا تھا۔
اُس نے نگاہیں چرالیں اور اپنے افسر کے پاس چھوڑکے چلاگیا۔
میں نے افسر سے کہا،
’’شاید یہاں سب یہی کہتے ہوں گے
لیکن میں واقعی پاگل نہیں ہوں۔‘‘
وہ بولا، ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’پھر مجھے پاگل خانے کیوں لایا گیا ہے؟‘‘
اُس نے کہا، ’’آپ غلط سمجھے۔
پاگل خانہ اندر آنے والے راستے پر نہیں،
باہر جانے والے دروازے پر لکھا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو (100) لفظوں کی کہانی بشکریہ روز نامہ جنگ