ایم کیو ایم مذہب کی ٹھیکدار نہ بنے

Posted on October 27, 2014



تحریر: سید انور محمود

بہتر ہوگا اگرمتحدہ قومی موومنٹ اپنا لبرل تشخص قائم رکھے مہاجروں کے نام پر مذہب کی دوکان نہ چلائے۔ یقینا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کےرہنما سید خورشید شاہ نے غلطی کی تھی اور مہاجر کو گالی قرار دیا تھا، لیکن جب ایم کیو ایم نے اس پر احتجاج کیا تو حیدر عباس رضوی کی پریس کانفرنس کے دوران ہی خورشید شاہ نے میڈیا پر آکر” لیکن، اگر، مگر،چونکہ” کو استمال کیے بغیر نہ صرف ایم کیو ایم سے بلکہ پاکستان میں ہر اُس شخص سے معافی مانگ لی جس کو اُن کے مہاجر کو گالی قراردینے سے تکلیف پہنچی تھی، وہ اور بھی آگے گے اور انہوں نے اپنے آپ کو مہاجر قرار دئے دیا اور کہا کہ اُن کے بزرگ بھی مہاجر تھے۔ لیکن ایم کیو ایم نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور 26 اکتوبر کو خورشید شاہ کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے پورئے پاکستان میں یوم سیاہ کا اعلان کیا۔ سندھ کے بڑئے شہروں کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ اور سکھرمیں ایم کیو ایم نے اپنی بھرپور طاقت کا اظہار کیا ۔ آدھے سے زیادہ سندھ بندکرنے کے علاوہ کراچی میں شارع قائدین پر متحدہ قومی موومنٹ کی ایک بڑی ریلی سے ایم کیو ایم کے قایدین نےخطاب کیا۔

ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان کےوسائل پروڈیروں کاقبضہ ہورہاہے، سندھ کےشہری علاقوں میں اس یزیدیت کوقائم نہیں ہونےدیں گے، ہمارا احتجاج عظیم مقصد کے لیے ہے، خورشید شاہ نے ہوش و حواس میں لفظ مہاجرکو گالی کہا، کراچی میں سندھ کےوسائل پرجاگیرداروں اور وڈیروں کاقبضہ ہورہاہے، سندھ کے شہری وسائل پر قبضہ برقراررکھنے کے لیے یہ سازش کررہےہیں، سندھ میں عوام نے یوم سیاہ کو کامیاب بنایا۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آج یہاں لاکھوں لوگ موجودہیں، پناہ گزینوں اورمہاجروں میں بہت فرق ہوتاہے، ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نےہندوستان کو پاکستان بنایا، آج کا مہاجر اپنے حصے کا پاکستان بن چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اپنے لیے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا، مہاجرصرف سندھ کے نہیں پاکستان کے بھی مالک ہیں،ہم ہرایک کےلیے قربانی دیناجانتےہیں۔ ہمیں کہاجارہا ہےکہ ہم ایک انتہاپسند جماعت بنتےجارہےہیں، جب بات ناموس رسالت پرآجائےوہاں ہم کسی کو نہیں دیکھتے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشیدشاہ نے کہاکہ ایم کیو ایم کو سیاست آتی ہے۔وہ پہلے مہاجر قومی موومنٹ تھے، پھر سمجھ گئے کہ کراچی میں بیٹھ کر سیاست نہیں کرسکتے اور بعد میں لفظ مہاجر بدل کر پارٹی کا نام متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا ۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاکہ سندھ تو ایک تاریخ ہے، اس کی تقسیم ہر گز برداشت نہیں کی جائے گا۔سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مہاجر یا سندھی تو لفظ ہیں ، سندھ میں مختلف علاقوں سے آئے لوگ آباد ہیں جو اب خود کو سندھی کہتے ہیں اور اب سندھ ہی ان کی پہچان ہے ۔ انہوں نےکہاکہ کراچی میں ایک کروڑ سے زيادہ دوسری قومیتیں آباد ہيں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ لبرل کہلائی جانے والی جماعت نے مذہبی انتہاپسندی کا سہارا لے لیا ہے۔ جبکہ پٹیل نے ایم کیو ایم سے یہ سوال بھی کیا کہ آج جو آپ لفظ مہاجر کی وجہ سے بلاجوازاشتعال پیدا کررہے ہیں خود آپ نے اپنی جماعت کے نام سے مہاجر کیوں نکال دیا ؟ جواب میں ایم کیو ایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نےمیڈیا سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم لبرل جماعت ضرور ہے مگر لادین نہیں۔ کیا بات ہے گوڈیل صاحب آپ تو ایم کیو ایم کے مفتی ہوگے۔

صرف چار دن پہلے میں نے ایک مضمون “کیا لفظ مہاجر ایک گالی ہے؟” لکھا تھا جس میں بتایا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی وجہ سے ابھی تک مہاجروں کو صرف نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بات صاف ہوجانی چاہیے کہ مہاجر کون ہیں؟ 67 سال پہلے جو لوگ ہندوستان سے آئے آج انکی اولادیں مہاجر کہلاتی ہیں ، پہلے اُنہیں پناہ گزیں کہا گیا، بلکہ پناہ گیر اور بھی بہت سارئےگندئے نام دیے گے، پھر وہ مہاجر کہلانے لگے اور انہوں نے بھی اپنی اس پہچان کو قبول کرلیا، آجکل اُنہیں اردو بولنے والے بھی کہا جاتا ہے۔ سندھ میں اور خاصکر کراچی میں تعصب تو ایوب خان کے زمانے سے ہی شروع ہوگیا تھا، جبکہ ایوب خان نے دارلخلافہ اسلام آباد لےجاکرکراچی کے لوگوں کے ساتھ کھلا تعصب برتا تھا، لیکن اسکے باوجود 1970ء کے الیکشن میں کراچی سے پیپلز پارٹی کےدو صوبائی اسمبلی کے ممبرمحمد علی گبول اور عبداللہ بلوچ جو سندھی تھے مہاجروں کے اکثریتی علاقوں نیوکراچی، فیڈرل بی ایریا، پاک کالونی اور پرانا گولیمار سے جیتے تھے، جبکہ اُنکے مقابلے میں دوسری سیاسی جماعتوں کے امیدوارجو مہاجر تھے وہ ہار گے تھے۔
اگرآپ کراچی کے قدیم باشندوں کو دیکھیں تو اُنکی زبوں حالی انتہائی قابل افسوس ہے، کراچی میں مسائل کا انبار ہے اور ایک کراچی ہی پر کیا منحصر ہے سندھ کے باقی شہروں اور دیہاتوں کی حالت بھی بہت خراب ہے، ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال تو طویل عرصے تک یہاں متعین مارشل لاء ایڈمنسٹریڑوں اور ان سیکریٹریوں سے پوچھا جائے جو صوبہ کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں یا پھر اس کا جواب پیپلز پارٹی کےممتاز بھٹو، غلام مصطفٰی جتوئی یا ان کے جانشین دیں جنہیں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد سندھ کے بااختیار وزیر اعلٰی رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ پیپلز پارٹی جو اسوقت سندھ کی پانچویں مرتبہ حکمراں ہے اپنی لوٹ ماراور وڈیرہ شاہی سے سندھ کو برباد کرتی رہی ہے اور کررہی ہےیا پھر ایم کیو ایم سے پوچھا جائے جو گذشتہ 30 سال سے سندھ کے شہری علاقوں کی نہ صرف نمایندگی کررہی ہے بلکہ کافی عرصہ اقتدار میں اُسکا آنا جانا لگا رہا ہے جو کبھی مہاجروں کی نمایندہ بن جاتی ہے اور کبھی پورئے پاکستان کے غریبوں کی ہمدرد۔ جھگڑا یہ نہیں ہےکہ وہ لوگ جو 1947ء کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے سندھ میں آئے انہوں نے تاریخی رواج کے مطابق اپنے آپ کو ابھی تک سندھ کی تہذیب میں مدغم کیوں نہیں کیا۔ بلکہ اصل جھگڑا اور بنیادی مسئلہ بلاتفریق سندھ کے تمام باشندوں میں تکلیف دہ حد تک معاشی ہے، بے روزگاری اور اقتدار میں عوام کی عدم شرکت ہے اور اس آگ میں سندھی اور مہاجر یکساں جل رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی جو ملک گیر پارٹی تھی آج اسکی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے اندرون سندھ کی پارٹی بن گئی ہے۔پارٹی کے اسی سالہ بوڑھے وزیراعلی قائم علی شاہ جو انتہاہی نہ اہل اور کرپٹ ہیں اور زرداری صاحب کے 26 سالہ نوجوان لاڈلے سپوت بلاول زرداری جو انتہائی بدتمیز ہیں سندھ کی موجودہ صورتحال کے ذمیدار ہیں۔ قائم علی شاہ، بلاول زرداری ، خورشید شاہ اور دوسرئے پیپلز پارٹی کے رہنماوں کی ڈور ہلانے والےخود زرداری ہیں، شاید وہ ابھی تک اقتدار میں آنے کی باری کے خمار میں مبتلا ہیں۔ ایم کیو ایم کو اس وقت جو خطرہ ہے وہ اپنی پوزیشن کوبرقرار رکھنا ہے گذشتہ سال الیکشن میں ایم کیو ایم کو اسکا اندازہ ہوچکا ہے، لہذا اُسکو کوئی بہانہ چاہیے تھا اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کےلیے جو پہلے بلاول نے اور بعد میں خورشید شاہ نے مہیا کردیا۔ پیپلز پارٹی سندھیوں کے نام پر اور ایم کیو ایم مہاجروں کے نام پر اگر سیاست نہ کریں تو یہ سندھ کے عوام پر احسان ہوگا۔ پاکستان کا آئین ہر گز نئے صوبے کے قیام سے منع نہیں کرتا لیکن وہ لسانی بنیاد پر صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ایم کیوایم کو پورا حق ہے نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کی مانگ کا لیکن لسانیت کی بنیاد پر نہیں صرف اور صرف انتظامی بنیاد پر۔ خورشیدشاہ نے لفظ مہاجر کو گالی کہا اور پھر معذرت کرلی اسلیے یا تو ایم کیو ایم اب اس مسلئے کو درگذر کرئےاور اگر ایسا ناممکن ہو تو علماءدین سے رجوع کرئے خودایم کیو ایم مذہب کی ٹھیکدار نہ بنے۔