وار آن ٹیرر‘ یا ٹیررازم

Posted on October 4, 2014



وار آن ٹیرر‘ یا ٹیررازم

وار آن ٹیرر کا نام تو سب لوگوں کا سنا ہوا ہے لیکن اس کا فائدہ ہمیشہ صرف امریکہ کو ہی نصیب ہوا ہے کیونکہ جب سے جارج ڈبلیو بش نے 2001ء میں‘ وارن آن ٹیرر کا اعلان کیا ہےوار آن ٹیرر نے‘ امریکہ کے حکمران طبقوں کو اربو ں ڈالر کا فائدہ پہنچایا ہے۔ گزشتہ تین سال کے عرصے کے دوران امریکہ کی 70فیصد سے زیادہ کمپنیوں اور افراد نے 27بلین ڈالر کے تعمیراتی کنٹریکٹ‘ صرف عراق اور افغانستان میں حاصل کئے ہیں۔
جن پرائیویٹ کمپنیوں نے یہ بھاری منافعے حاصل کئے ‘ انہیں چلانے والے نجی کمپنیوں کے ملازم یا انتظامی بورڈ کے ممبر ہیں۔ ان میں سے کچھ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ انتظامیہ کی ایگزیکٹو برانچ کے افسران یا کانگریس کے ممبر ہیں یا اعلیٰ ترین سطح کے ملٹری کمانڈر۔ 1997ء میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ میں وہ اعداد و شمار دیئے گئے ہیں جن میں بیرون ملک امریکی فوجی کارروائیوں اور دہشت گردی میں اضافوں کے مابین‘ گہرا تعلق ظاہر کیا گیا ہے۔
جن کی جیتی جاگتی مثال عراق اور شام میں تازہ ترین دہشت گردی کی کاروائیوں میں مصروف تنظیم داعش”الدولہ الاسلامیہ فی العراق و الشام” ہے جسےعراق پر امریکی اور برطانوی فوجی قبضے کے آغاز میں ہی امریکہ اور برطانیہ کی ایما پر معرض وجود میں لایا گیا۔ اس گروہ نے 2004ء میں القاعدہ کی حمایت اور اس کے ساتھ اپنی وابستگی کا باضابطہ اعلان کیا۔ جو کچھ عرصہ القاعدہ عراق کے نام سے معروف ہوا ۔ اور پھر15 اکتوبر 2006ء کو اس گروپ نے امارات اسلامی عراق کے تحت تمام چھوٹے چھوٹے دہشت گرد گروہوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کیا جو رفتہ رفتہ ایک بڑا گروپ شمار ہونے لگا اسی طرح عراق کے سابق آمر صدام حسین کے دور میں بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدام حسین کے مخصوص فوجی دستے جو “فدائیان صدام” کے نام سے جانے جاتے تھے بھی داعش میں شامل ہونا شروع ہو گئے ۔ اس گروپ کا مقصد عراق کے ایسے علاقوں میں خلافت اسلامی کا قیام تھا جہاں اہلسنت مسلمانوں کی اکثریت موجود تھی اور اسی طرح شام میں سرگرم حکومت مخالف دہشت گرد گروہوں کو انسانی قوت فراہم کرنا تھا۔
امریکا کی طرف سے اس دہشت گرد گروپ داعش کو قوت فراہم کرنے کا مقصد تیل کی دولت سے مالامال شرق اوسط کو تقسیم اور فتح کرنا اور خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا حقیقت میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی امریکی پالیسی کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اور یہ دہشت گرد گروپ‘ اور ان کی بے رحمانہ کاروائیاں صرف انہی لوگوں کو حیران کرنے کا سبب ہیں‘ جو محض خبریں پڑھتے ہیں اور تاریخ پر توجہ نہیں دیتے۔
اور رہی بات سی آئی اے کی تو سی آئی اے نے اسلامی انتہاپسندوں کو سردجنگ کے زمانے ہی سے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور اس دور میں امریکہ ‘دنیا کو واضح طور پر‘ دو حصوں میں دیکھتا تھا۔ ایک حصہ سوویت یونین اور تیسری دنیا کی قوم پرستی تھی‘ جسے امریکہ ‘سوویت یونین کا زیراثر گروپ سمجھتا تھا، جبکہ دوسرا حصہ مغربی اقوام اور انتہاپسند اسلام تھا۔ اس گروپ کو امریکہ‘ سوویت یونین کے خلاف اپنا اتحادی تصور کرتا تھا۔ صدر ریگن کے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر ولیم اوڈون نے حال میں بتایا ”امریکہ‘ دہشت گردی کو ایک مدت سے مختلف مقاصد کے تحت استعمال کر رہا ہے۔
جیسا کہ امریکہ ہمیشہ سے دہشت گردوں کو اپنے منافع کیلئے استعمال کرتا رہا ہے اسی طرح وہ داعش کو بھی اپنے مختلف مفادات کیلئے استعمال کررہا ہے داعش جہاں شرق اوسط میں اپنے دشمنوں کے خلاف‘امریکی حملوں کے لئے جواز مہیا کرتی ہے وہیں امریکہ کے لئے مصنوعی خطرہ پیدا کرنے کا بھی باعث بنتی ہے، جس کی آڑ میں امریکی حکومت اپنے عوام پر غیرمعمولی پابندیاں لگاکر ان کی نگرانی میں اضافہ کرتی ہے۔ صدر اوباما کی انتظامیہ‘ اپنے شہریوں پر نظر رکھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ شہریوں کو حکومت پر نظر رکھنے کی صلاحیت سے محروم کرتی ہے۔ یہ دہشت گردی اپنے شہریوں پر نگرانیوں کا جال پھیلانے کا بہانہ مہیا کرتی ہے۔ جس کی آڑ میں عوام کے باغیانہ جذبات کو بھی کچلا جاتا ہے۔ یہ نام نہاد وارآن ٹیرر کیا ہے جس کی وجہ سے سب لوگ خوفزدہ ہیں‘حقیقت میں یہ امریکہ کی خطرناک حد تک بڑھی ہوئی فوجی طاقت کو تحفظ دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر وار آن ٹیررکے لئے پیدا کردہ محرکات کا خاتمہ کر دیا جائے‘ تو یہ ازخود ختم ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں دہشت گردی محض ایک علامت باقی رہ جائے گی جبکہ یہ امریکی پالیسی کے خلاف ہے اس لئے اسے ہمیشہ باقی رہنا ہے