شام اور عراق میں امریکی تباہ کاریاں کیوں؟

Posted on October 1, 2014



شام اور عراق میں امریکی تباہ کاریاں کیوں؟

عراق اور شام میں حکومت اسلامیہ عراق اور شام کے نام سے موسوم وہ لوگ جو داعش اور النصرہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور لوگ ان کے بارے میں مختلف آراء اور نظریات بیان کرتے ہیں لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم کہ ان دہشت گردوں کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو ان کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں اور ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے اور ایسا کیوں کیا جاتا ہے ؟
یہ سب ایسے سوال ہیں اگر انسان تھوڑی سی دقت سے کام لے تو ان کا جواب آسانی کے ساتھ مل سکتے ہیں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے سوالوں کا جواب ایک دوسرے سوال سے دیاجاتا ہے اب آپ لوگ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سوال کا جواب سوال کے ذریعے مل جاتا ہے ہاں یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔
وہ دوسرا سوال کیا ہے ؟ وہ دوسرا سوال یہ ہے کہ داعش اور اس کے ساتھ دوسرے گروپوں کی ان کاروائیوں کا فائدہ کسے حاصل ہو رہا ہے ؟ جی ہاں اگر آپ نے اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیا تو یقینا آپ کو ان تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے جنہیں میں نے پہلے ذکر کیا ہے ۔
میں اپنے گذشتہ آرٹیکلز میں بیان کر چکا ہوں کہ داعش یا “الدولہ الاسلامیہ فی العراق و الشام” کوعراق پر امریکی اور برطانوی فوجی قبضے کے آغاز میں ہی امریکہ اور برطانیہ کی ایما پر معرض وجود میں لایا گیا تھا اگر کوئی ان گذشتہ واقعات اور بیانات پر تھوڑی سی توجہ کرے تو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ داعش اور النصرہ یا “الدولہ الاسلامیہ فی العراق و الشام”کو ہر لحاظ سے اور ہر موقع پر امریکی ہمدردیاں اور تعاون حاصل رہا ہے کبھی ان جنگجوؤں کی ٹریننگ اور تربیت کے نام پر تعاون کیا جاتا تھا تو کبھی ان علاقوں کے مظلوم لوگوں کی کو عنوان بنا کر ان کی مدد کی جاتی تھی ۔
یہ ضرب المثل کہ “گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے” تو سب لوگوں کی سنی ہوئی ہوگی لیکن اس سے فائدہ ہمیشہ امریکی ایجنسیوں نے ہی اٹھایا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کوئی بھی ملک چاہے اسلامی ہو یا غیراسلامی امریکا کو شرق اوسط میں داخل نہیں ہونے دے گا اسی لئے امریکی ایجنسیوں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ شرق الاوسط میں ایسے حالات بنائے رکھیں کہ جن کی وجہ سے وہ آسانی سے ان ملکوں میں داخل ہو سکیں اور اپنے گھٹیا مقاصد کو پورا کر سکیں ۔
امریکہ اور اس کے حامیوں نے پہلے داعش کو امریکی اسلحہ فراہم کیا ان کی مالی مدد کی اور اب جب داعش کے چرچے ہونے لگے تو داعش کو امریکہ اور عرب ممالک کیلئے خطرہ قرار دے کر اور ان پر حملے کی غرض سے امریکہ ان ملکوں میں داخل ہونا چاہتا ہے جس کی بہترین مثال عراق اور شام میں امریکی ڈرون حملے ہیں کہ جن سے صاف پتا چلتا ہے امریکہ کا مقصد داعش اور دہشت گردوں کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی سرپرستی ہے کیونکہ امریکہ نے عراق اور شام میں جتنے بھی ڈرون حملے کئے ہیں ان میں داعش کا یا تو بالکل نقصان نہیں ہوایا بہت کم نقصان ہوا ہے لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو عراق اور شام میں عوام کا جو سرمایہ ضائع کیا جارہا ہے اس کا جبران کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ہے ۔
شاید یہ بات ان لوگوں کیلئے حیرت کا باعث ہو جو خبریں نہیں پڑھتے لیکن جو لوگ اخبارات سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ امریکی ڈرون حملوں میں جان بوجھ کر فوجی چھاؤنیوں اور تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ امریکہ ،یہودیت کی تبلیغ کیلئے اسلام کا وہ مکروہ چہرہ پیش کرنا چاہتا ہے کہ لوگ اسلام کے نام سے ہی نفرت کرنے لگیں تاکہ “نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری “اسی طرح امریکہ کی یہ بھی خواہش ہے کہ عراق اور شام کی حکومتوں کے پاس نہ فوجی طاقت باقی رہے اور نہ سرمایہ اور پھر بعد میں یہ بھی دوسرے بہت سارے ملکوں کی طرح امریکہ اور اس کے حامیوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوں یہی وہ چیز ہے جو امریکہ کی دیرینہ خواہش ہے اورجس کیلئے امریکہ ہمیشہ سے سرمایہ گذاری کر رہا ہے لیکن افسوس کہ مسلمان ہمیشہ آپس میں یونہی لڑتے رہیں گے اور کبھی بھی اپنے اصلی دشمن کو پہچاننے کی کوشش نہیں کریں گے ۔