تیل کے ذخائر پر قبضے کی گھناؤنی سازش ۔۔ طہ علی

Posted on September 17, 2014



داعش کے ہاتھوں امریکی صحافیوں کے قتل کی داستان

تو سب لوگوں کی سنی ہوئی ہے لیکن اس بات سے آپ تمام دوستوں کو بہت حیرت ہو گی کہ اس داستان کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے شاید کچھ نا سمجھ لوگ یہ کہیں کہ یہ بات آپ کیسے کہہ سکتے ہیں امریکی صحافیوں کے قتل کے چرچے تو اخباروں سے لے کر ٹیلی ویژن اور پھر انٹر نیٹ پر ان کے قتل کی تصویریں اور ویڈیوز بھی موجود ہیں
یہ بات درست ہے کہ امریکی صحافیوں کے قتل کی تصویریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں لیکن یہ ساری تصویریں جعلی ہیں یہ ساری تصویریں سٹوڈیو میں بنائی گئی ہیں اس تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں

اب آپ لوگ کہیں گے کہ ان تصویروں کو بنانے اور میڈیا پر ان کے چرچا کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ یہی وہ اصل بات تھی جسے میں بیان کرنا چاہتا تھا اس تفصیل میں جانے سے پہلے یہ بیان کرنا بہتر ہوگا کہ “الدولہ الاسلامیہ فی العراق و الشام” کے نام پر لوگوں کا قتل عام کرنے والا یہ گروہ کب اور کیسے وجود میں آیا اور اس گروہ کا تعلق کس سے ہے ؟
داعش یا “الدولہ الاسلامیہ فی العراق و الشام” عراق پر امریکی اور برطانوی فوجی قبضے کے آغاز میں ہی امریکہ اور برطانیہ کی ایما پر معرض وجود میں لایا گیا۔ اس گروہ نے 2004ء میں القاعدہ کی حمایت اور اس کے ساتھ اپنی وابستگی کا باضابطہ اعلان کیا۔ جو کچھ عرصہ القاعدہ عراق کے نام سے معروف ہوا ۔ اور پھر15 اکتوبر 2006ء کو اس گروپ نے امارات اسلامی عراق کے تحت تمام چھوٹے چھوٹے دہشت گرد گروہوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کیا جو رفتہ رفتہ ایک بڑا گروپ شمار ہونے لگا اسی طرح عراق کے سابق آمر صدام حسین کے دور میں بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدام حسین کے مخصوص فوجی دستے جو “فدائیان صدام” کے نام سے جانے جاتے تھے بھی داعش میں شامل ہونا شروع ہو گئے ۔ اس گروپ کا مقصد عراق کے ایسے علاقوں میں خلافت اسلامی کا قیام تھا جہاں اہلسنت مسلمانوں کی اکثریت موجود تھی اور اسی طرح شام میں سرگرم حکومت مخالف دہشت گرد گروہوں کو انسانی قوت فراہم کرنا تھا۔
امریکا شروع ہی سے اس دہشت گرد گروپ کا سب سے بڑا حامی اور مددگار تھا اسی وجہ سے کبھی اخبارات میں داعش کے ہاتھوں میں امریکی اسلحہ کی نمایش کی جاتی تو کبھی اس گروہ کی تربیت کیلئے امریکی صدر باراک اوباما کانگرس پارٹی سے 50 کروڑ ڈالر کی بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی ان کی جنسی ہوس کو پورا کرنے کیلئے امریکی صوبہ منسوتا سے لڑکیوں کو غائب کیا جاتا ہے صرف یہی نہیں بلکہ نام نہاد مسلمانی کے دعوے کرنے والے ان شیطانوں کی جنسی ہوس کو پورا کرنے کیلئے جہاد النکاح جیسے فتوےبھی دئیے گئے لیکن آہستہ آہستہ جب مسلمانوں کے درمیان اس دہشت گرد گروہ کے پول کھلنے لگتے ہیں تو اب امریکا اپنے اُن مفادات کو حاصل کرنے کیلئے جن کیلئے وہ داعش کی ہر موقع پر سپورٹ کرتا رہا ہے ایک نیا کھیل کھیلنا شروع کرتا ہے تا کہ اپنے مفادات کو حاصل کر سکے امریکا کے وہ مفادات کیا ہیں ؟جن کیلئے وہ داعش کی ہر موقع پر امداد کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے ان مفادات میں سے جن میں اسلحے کی فروخت سے لے کر مسلمانوں کے درمیان فسادات اور اختلاف پیدا کرنا ہے وہاں امریکا کا سب سے بڑا اور مہم مقصد عرب ممالک میں پائے جانے والے تیل کے ذخائر ہیں کیونکہ بغیر کسی وجہ کے کوئی ملک بھی امریکا جیسے غدار اور دھوکے باز کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتا اسی لئے اس مکار نے یہ اپنے صحافیوں کے قتل کا ڈرامہ رچایا اور داعش سے انتقام اور حملے کی غرض سے اتحادی گروپ بنایا تا کہ اپنے ان مذموم اور گھناؤنے مقاصد میں کامیاب ہوسکے اور عراق ، شام ،کویت اورسعودی عرب جیسے تیل سے مالا مال ممالک سے ایک بار پھر اپنا خراج وصول کر سکے ۔