ایک تقریر جو نہ ہو سکی

Posted on September 6, 2014 Articles



جنابِ سپیکر میں آپکا بےحد مشکور ہوں

کہ مجھے بولنے کیلئے وقت دیا اور میں امید کرتا ہوں کہ معّزز ممبران کی طرف سے اس ایوان کے تقدّس کو مدِ نظر رکھا جاے گا. جنابِ سپیکر یہ جوائنٹ سیشن اس لیے بلایا گیا تا کہ پارلیمنٹ کے سامنے جو لوگ دھرنا دے کے بیٹھے ہیں اُن پر بحث کی جائے اور اس مسئلے کا حل نکالا جائے. جنابِ سپیکر اس پر بحث ہو گی، معاملات تہہ ہو جائیں گے، یہ لوگ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جائیں گے اور اسکے بعد کیا ہو گا؟ اگر اگلے ہفتے یا اگلے ماہ کوئی اور جماعت اپنا دھرنا لے کر اس ایوان کے سامنے آ گئی تو ہم کیا کریں گے؟ جنابِ سپیکر ہم اس پہ تو بحث کر رہے ہیں کہ اسکا کوئی حل نکالا جائے لیکن یہ کوئی نہیں پوچھ رہا کہ یہ رواج ڈالا کس نے ہے اور اسکے بعد کتنے لوگ اسکی پیروی کریں گے؟

جنابِ سپیکر یہ رواج میں نے آپ نے اس ملک پہ حکومت کرنے والے اور اقتدار کے مزے لوٹنے والوں نے ڈالا ہے. ہمیں آج باہر بیٹھے لوگ بہت بُرے لگ رہے ہیں آج ہمیں ان سے بدبو آ رہی ہے اور آج ہم انہیں حقارت سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ اپنے حقوق مانگنے ہمارے دروازے پر پہنچ گئے ہیں. مگر جب انتخابات کے دنوں میں ہم انکے دروازے پر ووٹ مانگنے جاتے ہیں اور انہی لوگوں کی داڑھی کو ہاتھ لگا کے ووٹ لیتے ہیں تو یہ لوگ عطر اور زعفران سے نہائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں. کیونکہ اس وقت ہمیں اپنی کرسی نظر آ رہی ہوتی ہے اور آج انکے مسائل جنہیں ہم میلوں دور اپنے حلقوں میں پانچ سال کے لیے دفن کر آے تھے وہ ہمارا تعاقب کرتے ہوے ہمارے پیچھے آن پہنچے ہیں۔

جنابِ سپیکر اس ایوان میں آئین اور قانون کی بہت گونج ہو رہی ہے، مگر وہ آئین اس وقت یاد نہیں آیا جب تھر میں اس قوم کا مستقبل پانی کی کمی سے سسک سسک کے دم توڑ رہا تھا اور جب سینکڑوں بچے گرم ریت پہ بلک بلک کر جان دے رہے تھے. یہ آئین اور قانون اس وقت بھی چپ تھا جب اس قوم کے رکھوالے اسکو سیلاب کے پانیوں کے حوالے کر کے باہر کے دوروں پہ مصروف تھے، یہ آئین اور قانون اور اسکے رکھوالے اس وقت بھی چپ رہے جب پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں چودہ گھنٹے معصوم شہری پولیس کے ظلم اور بربریت کا نشانہ بنتے رہے، یہ آئین اور قانون اور اسکے رکھوالے اس وقت بھی چپ رہے جب باہر بیٹھے انہیں لوگوں کی جیبوں سے سو ارب نکال کے محترم وزیراعظم کی دختر کے حوالے کر دیا گیا اور یہ آئین اور قانون اور اسکے رکھوالے اس وقت بھی چپ رہے جب انہیں لوگوں کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا.

ایک سال کے اندر باون سو ارب روپے کا قرضہ لیا گیا، ہر شے کی قیمت دوگنی ہو گئی، عوام کے مسائل بڑھتے گئے مگر اس آئین اور قانون کے رکھوالوں کو پوچھنے تک کی توفیق نہ ہوئی کہ وہ قرضہ جو آنے والی نسلوں کا مستقبل گروی رکھ کے لیا گیا وہ کہاں خرچ ہوا.
جنابِ اسپیکر جمہوریت تو جمہور کا نام ہے مگر یہاں رواج ہی الگ ہے، ہمارے محترم وزیراعظم نے کس قانون کے تحت اپنے خاندان کے ہر فرد کو نوازا ہوا ہے؟ ٹیکس عوام دے، قرض کا پیسہ عوام واپس کرے، حکمرانوں کا پروٹوکول عوام برداشت کرے، مہنگائی سے تنگ آ کر نہر میں چھلانگ عوام لگاے مگر جناب سپیکر ہم انکو دو وقت کی روٹی، رہنے کو گھر اور اور پینے کو صاف پانی مہیا نہیں کر سکے.
اس ملک میں سب کچھ تو چل رہا ہے اور ترقی کر رہا ہے، اس معزز ایوان میں بیٹھے اراکین کے کاروبار بھی چل رہے ہیں. وزیراعظم اور وزرا کی فیکٹریاں بھی چل رہی ہیں اپوزیشن کے اراکین کا روزگار بھی چل رہا ہے اگر کچھ نہیں چل رہا تو وہ اس عوام کا چولھا ہے جنابِ سپیکر. اگر کچھ پیچھے جا رہا ہے تو عوام کا یہ ملک جا رہا ہے

جنابِ سپیکر مولانا صاحب اور دوسرے اراکین نے بہت زور دے کر کہا کہ پی ٹی وی پر ڈنڈوں سے دھاوا بولا گیا مگر ہماری منافقت کا یہ معیار ہے کہ ہم ڈنڈے والوں کی مذمّت کرتے ہیں اور بندوق والوں کا ساتھ دیتے ہیں. اس ایوان میں آج جو جمہوریت کے حق میں دلائل دے رہے ہیں عوام ان کی بات نہیں سن رہی کیونکہ ماضی میں وہ بھی یہی کرتے رہے ہیں. جب ملک میں مارشل لاء لگا بندوق کے زور پر پی ٹی وی پر دھاوا بولا گیا مگر جنابِ سپیکر بعد میں ان بندوق والوں کا ساتھ کس نے دیا؟

وزیراعظم ہاؤس پر ڈنڈوں سے دھاوا بولنے والوں کی مذمّت تو کی جاتی ہے مگر بندوق کے زور پر اسی ہاؤس سے وزیراعظم کو ہتھکڑی لگانے والوں سے مل کے حکومت بنائی جاتی ہے. جناب سپیکر یہاں الله ہو پر دھمال ڈالتے نوجوانوں کی مذمّت تو جائز ہے مگر سر کاٹنے والی شریعت کے خلاف ہم ایک لفظ نہیں بولیں گے. جنابِ سپیکر اس ایوان میں فوج کی نفرت میں یہ تو کہا گیا کہ دھرنے والوں نے فوج کو زندہ باد کہا اور پولیس پہ پتھراو کیا مگر یہ بیان نہ کیا گیا کہ پولیس کے سہارے اس ملک کی عوام سے کیا سلوک کیا گیا.

انکو یہاں لانے والوں کے خلاف آپ جو بھی بولیں مگر انکو یہاں سے جانے کا دلاسہ دینے کے لیے ہمارے پاس کیا ہے؟ ہم تیس سال اقتدار میں رہیں یا تین سال یہ بھوکی ننگی عوام ہمارا مقصد کبھی رہی ہی نہیں. جنابِ سپیکر پارلیمنٹ لاجز کی بالکنی میں کھڑے ہو کر چائے کے کپ اور پکوڑوں کی پلیٹ کے ساتھ بارش کا لطف اٹھانا الگ ہے، غریب کی ٹپکتی چھت کے نیچے رات گزارنا بارش کے پانی کی اصل حقیقت ہے اور بدقسمتی سے ہم حقیقت کو حالات کے پسِ پشت ڈال کر جیسے چلتا ہے چلانے کی کوشش میں مصروف ہیں مگراس ملک کی عوام کو اسلام آباد کا راستہ دکھا دیا گیا ہے اور اگر ہم ان کے مسائل پر آنکھ بند کر کے یہاں بیٹھ کر آئین اور قانون کا کھوکھلا راگ الاپتے رہے تو یہ لوگ ہمارا پیچھا کرتے ہوے یہاں تک پہنچتے رہیں گے. شکریہ جناب سپیکر.
فقط اِک پاکستانی
پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن گزر گیا مگر میری طرح ہر پاکستانی کی یہ تقریر کوئی نمائندہ پیش نہ کر سکا، ہمیں آج بھی وہی سننے کو ملا جو ہمارے دادا ہمارے والد اپنی زندگی میں سنتے رہے، قطعہ نظر اس سے کہ اسسمبلی جمہوری تھی یا فوجی.
عمران خان آپ ہمّت نہ ہاریں، آپ نے جو حاصل کرنا تھا وہ کر لیا اب اس قوم پہ چھوڑ دیں، آپ نے انکو جگا دیا ہے اور انکو بتا دیا ہے کہ انکو روٹی دینا حکومت وقت کا فرض ہے اور اگر وہ فرض ادا نہیں کریں گے تو کل کو یہ عوام انکے دروازے پر کھڑے ہوں گے. اور جو لوگ اس مارچ کی ناکامی کی صدائیں لگا رہے ہیں انکی خدمات میں یہی پیش کروں گا کہ

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طِفل ہی کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

دھاندلی دھاندلی سب کرتے رہے مگر نظام سے دھاندلی کو مٹانے کا پہلا قدم عمران خان نے اٹھایا اور اسکے خلاف کھڑے ہونے والوں کی صفوں میں کون کون اس نادر موقے کا کس طرح فائدہ اٹھا رہا ہے اور اپنی جیب گرم کر رہا ہے عوام جان گئے ہیں، انکا وقت بہت
دور نہیں ہے اب

میاں ذیشان عارف