آدم خور سیاست پاکستان کی

Posted on August 17, 2014 Articles



آدم خور سیاست پاکستان کی

ہمارے ملک میں ڈر کی سیاست بہت عام ہوتی جا رہی ہے۔جسکا جتنا بڑا نام ہے یا جس سے لوگ جتنے زیادہ ڈرتے ہیں اس کی اتنی ہی عزت ہے۔ مثال کے طور پر۔اگر کوئی پابند صوم صلوت مسجد کے مولوی صاحب اپنی سائیکل پر کسی بھی محفل میں جائیں تو انکی قدر ومنزلت وہ نہیں ہوتی جو ایک پراڈو میں آنے والے کالعدم مزہبی مولوی صاحب کی ہوتی ہے۔ایک محنت مزدوری کرنے والے ایماندار شخص کو معاشرہ وہ عزت نہیں دیتا جو کسی کرپٹ پولیس والے کو کسی سیاسی جماعت کے علاقائی غنڈے کو حاصل ہوتی ہے۔اس کو وجہ صرف ہے ڈر کو سلام
کیونکہ ہم لوگ شرافت،ایمانداری کی توقع صرف اپنے ماتحت ملازم یا اپنے سیاسی ورکر یا داماد سے رکھتے ہیں۔

سیاست میں غنڈے پالنےکا رجحان

سیاست میں جزباتی ورکرز کے ساتھ ساتھ نامی گرامی علاقائ غنڈوں کی بھی ہر سیاسی جماعت کو اشدضرورت ہوتی ہے جیسے گاڑی کو پٹرول کی،بلب کو بجلی کی
غنڈے ہمیشہ براہ راست پارٹی لیڈر کے زیر سرپرستی کام کرتے ہیں کیونکہ غنڈوں کا کام پارٹی لیڈر کا ڈر کارکنان زمہ داران کے دلوں میں برقرار رکھنا ہوتا ہے پارٹی لیڈر کی رٹ کو قائم رکھنا ہوتا ہے ضرورت پڑنے پرسیاسی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ہر سیاسی جماعت میں یہ طبقہ سب سے زیادہ مالدار طاقتور ہوتا ہے اس وقت تک جب تک ان سے غداری کی بو پارٹی لیڈر کو نہ آجائے

سیاسی ورکرز کی اہمیت اور ضرورت

سیاست دان سیاست اپنے دماغ سے کرتے ہیں اور سیاسی ورکر اپنے دل سے سیاست دان کا ہر فیصلہ،غصہ،پیار،ہر ادا جھوٹی بناوٹی اور اداکاری ہوتی ہے سیاسی ورکر کا ہر فیصلہ،غصہ،پیار،ہربات دل سے کی جاتی ہےاس لیے سیاسی ورکرز جزباتی ہوتے ہیں۔سیاست دان سوری سیاسی اداکار کہنا زیادہ مناسب ہوگا اپنے فائدہ اپنی حکومت اپنے لیے طاقت حاصل کرنے کے لیے سیاست کرتے ہیں اور اسے خوبصورت نعروں خوبصورت خوابوں کی شکل میں ڈھال کر اپنے کارکنان عوام کی آنکھوں میں سجا دیتے ہیں اور عوام اور کارکنان ان خوابوں کے پیچھے بھاگنا شروع کردیتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے والی ہر بات ہر شخص کو اپنا دشمن سمجحنا شروع کردیتے ہیں۔اگر سیاست دان کی لاٹری نکل آئے اور حکومت مل جائے تو سیاسی ورکر کے حصہ میں کوئی کلرک چپڑاسی کی نوکری یا ٹھیکہ آجاتا ہے اور اکثرکچھ بھی ہاتھ نہیں آتا کیونکہ نوکریاں ٹھیکے کم ہوتے ہیں جو اوپر سے نیچے تک آتے آتے اکثر بڑے زمہ داروں کے لاڈلے ورکرز کو اور رشتہ داروں میں بٹ جاتے ہیں اور کارکن اپنے خوابوں کو لے کر اگلی باری یا اگلی آنے والی حکومت کا انتظار کرنا شروع کر دیتا ہے۔

شکریہ
سجاد شاہ
فری لانس رائٹر
ای بحریہ ٹاون
eBahriaTown.com