اسرائیل اور سعودی عرب کے مشترکہ دشمن ایران، ترکی، قطر، حماس اور اخوان ہیں

Posted on July 24, 2014



اسرائیل کو سعودی عرب اور امارات کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، سابق اسرائیلی وزیر دفاع

: سابق اسرائیلی وزیر دفاع نے چینل ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے سب کو اسوقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ غزہ پر حملے کیلئے اسرائیل کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے یقین دھائی کرائی ہے کہ بمباری کے نتیجے میں جب حماس کا خاتمہ ہو جائیگا تو غزہ میں انفرا اسٹرکچر اور تعمیر نو کیلئے دونوں ممالک خصوصی فنڈز دینگے۔۔ برطانوی اخبار مڈل ایسٹ آئی کے ایڈیٹر ڈیوڈ ہریسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ پر چڑھائی کے لئے اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بھی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ ڈیوڈ ہریسٹ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملے کے پیچھے کئی ہاتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس پر تباہ کن حملوں پر ایک طرف اگر امریکہ خوش ہے، تو دوسری طرف عرب ممالک بھی امریکہ سے پیچھے نہیں ہیں، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ شجاعیہ میں گلیوں اور سڑکوں پر قتل عام کی فوٹیج آنا شروع ہوئی ہیں تو جان کیری نے اسرائیلی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیل اپنے دفاع کے لئے کر رہا ہے۔ اسرائیلی چینل ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کی خواہش ہے کہ غزہ سے حماس کا خاتمہ ہو اور معتدل قوم مضبوط ہو۔
سابق اسرئیلی وزیر دفاع نے چینل ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے سب کو اس وقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ غزہ پر حملے کے لئے اسرائیل کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے یقین دھائی کرائی ہے کہ بمباری کے نتیجے میں جب حماس کا خاتمہ ہوجائے گا تو غزہ میں انفرا اسٹرکچر اور تعمیر نو کے لئے دونوں ممالک خصوصی فنڈز دیں گے۔ ڈیوڈ ہریسٹ نے مزید لکھا ہے کہ مصر کے جنرل سیسی بھی غزہ پر چڑھائی کے لئے کی گئی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کے خصوصی معاون اموس گیلاد نے مغربی میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ عرب ممالک کی اکثریت حماس کا خاتمہ چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ پر حملے سے پہلے سعودی خفیہ ایجنسی کے چیف اور موساد کے چیف کے درمیان برسلز میں ملاقات ہوئی، جس میں طے پایا کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے خاتمے کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرئیل اور سعودی عرب کے دشمن ممالک میں ایران، ترکی، قطر، غزہ کی جماعت حماس اور مصر کی اخوان ہیں، جبکہ دونوں کے دوست بھی مشترک ہیں، یعنی امریکہ اور برطانیہ۔ اموس نے کہا کہ دونوں کے مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لئے سعودی عرب اور اسرئیل نے اتحاد کیا ہے اور اب یہ بات خفیہ نہیں رہی کیونکہ سعودی عرب نے ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لئے اپنی کئی اہم کتابیں اسرائیل سے شائع کروائی ہیں، جبکہ ایران کے خلاف کئی اہم پروگراموں کے لئے سعودی عرب اسرائیل کو بھاری رقم بھی فراہم کر رہا ہے۔ ڈیوڈ نے مزید بتایا کہ کہ اسرائیلی عبرانی ٹی وی چینل ٹو نے بھی انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو پیشکش کی تھی کہ وہ غزہ پر فوجی کارروائی کے تمام اخراجات برداشت کرے گا، بشرطیکہ اسرائیل حماس کو مکمل طور پر تباہ کر دے۔