ضرب عضب: عدنان رشید سمیت 4 شدت پسند کمانڈر گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل، طالبان نے گرفتاری کی تصدیق کر دی

Posted on July 16, 2014



پشاور (نیوز ڈیسک) کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر اور سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملہ کے مرکزی ملزم عدنان رشید سمیت 4 عسکریت پسند کمانڈروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈان نیوز نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ عدنان رشید کو شکئی سے زخمی حالت میں گرفتار کر کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاہے۔کالعدم تحریک پاکستان نے عدنان رشید کی گرفتاری کی تصدیق کردی۔ ذرائع کے مطابق عدنان رشید کے ساتھ القائدہ کمانڈر مفتی زبیر اور دو گارڈز بھی گرفتار ہوئے ہیں۔

عدنان رشید نے چار روز قبل شمالی ویزرستان میں فوج کے محاصرے سے بھاگنے کی کوشش کی تھی اور شدید زخمی ہو گیا تھا۔اس دوران وہ جنوبی وزیرستان پہنچنے میں کامیاب رہا لیکن فورسز نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جس علاقے سے عدنان رشید کو گرفتار کیا گیا وہاں کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد طالبان کی جانب سے پمفلٹ تقسیم کیے گئے جن میں چند مقامی کمانڈرز کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بدلے کی دھمکی دی گئی۔

 عدنان رشید کیساتھ ساتھ تین مزید کمانڈرز فہیم، انور اور القاعدہ کے مفتی زبیر مروت کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔  مفتی زبیر مروت القاعدہ کے کمانڈر مفتی سجاد منصور کا چھوٹا بھائی ہے۔ چاروں شدت پسند کمانڈر شکئی میں مقیم تھے۔
عدنان رشید کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی کے گاوں “چھوٹا لاہور ” سے تھا اور 1997 میں جوانی کے دنوں میں اس نے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔اسی دوران 2014 میں 24 سال کی عمر میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں گرفتار ہوا اور 2005 میں سزا موت دی گئی،بنوں جیل میں سزا پر عملدرآمد کے منتظر تھا کہ اپریل 2012 میں اس کےساتھی چھڑا کر لئے گئے۔اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور جیل میں داخل ہوتے ہی پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھے اور باآواز بلند عدنان رشید کو پکارنا شروع کیا، اس حملے میں طالبان نے 384 قیدی چھڑائے تھے۔رہائی کے بعد عدنان نے ملالہ یوسف زئی کو ایک خط لکھا جس میں اس پر حملے کی وضاحت کی اور اسے واپس آکر اسلامی و پختون روایات کے مطابق پڑھنے کا مشورہ دیا لیکن طالبان نے عدنان کے اس خط کو اس کی ذاتی رائے قرار دیا تھا۔اس کے بعد عدنان رشید نے قیدیوں کی مدد کیلئے ایک تنظیم “انصار الاسیر” قائم کی، پچھلے سال جولائی میں ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل پر حملے کا واقعہ پیش آیا جہاں اس حملے کا ماسٹر مائنڈ عدنان رشید کو ہی قرار دیا گیا۔ اس واقعہ میں دو سو تینتالیس قیدی فرار ہوئے۔

Source:- Daily Pakistan