اسلام کے بارے میں اغیار کے پروپیگنڈے by;. (Muhammad Burhan Ul Haq Jalali, Jhelum)

Posted on July 11, 2014



قارئین گرامی قدر:۔
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اسلام اخوت محبت کا دین ہے اسلام لازوال دین ہے اور اس کے خلاف کفار ہمیشہ نبرد آزما رہے ہیں ہمیشہ کفار اسلام کو ختم کرنے کیلیے سوچتے رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں اور سوچتے رہیں گے آج ہم کفار کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ پاکستانی عوام خصوصاً اور عالم اسلام عموماً کفار کے رسم ورواج کو اپنا رہے ہیں۔ اپریل فول (انگریزوں کا تہوار)،بسنت(ہندوؤ ں کا تہوار)،آتش بازی(ہندوؤں کا)، ویلنٹائن ڈے (انگریزوں کا تہوار) ان سب کو پاکستانی قوم منا رہی ہے۔ مگر کیا انہوں نے اہل اسلام کے تہواروں کو اپنایا ہے؟ کیا انہوں نے عیدُ الفطر۔ عیدُ الضحیٰ ، عیدُ میلاد النبی ؐ منائی ہے۔ نہیں بالکل نہیں تو ہم کیوں ان کے تہوار مناتے ہیں بہرحال یہ لمبا مضمون ہے ہم مختصراً کفار کے پروپیگنڈے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

صرف چار اقوال ملاحظہ فرمائیں:۔
١:۔سابق اسرائیلی وزیراعظم کابیان:۔
بن گوریان کہتا ہے کہ”میں بڑی شدت سے ایک چیز کا خطرہ محسوس کرتا ہوں اور ہم میں سے کون ہے جو اسکا خطرہ محسوس نہیں کرتا کہ ایسا نہ ہو کہ کل کلاں کوئی عالم عرب یا عالم اسلام میں نیا محمد ظہور پذیر ہو جائے”
(جزیرۃ الکفاح الاسلامی شمارہ اپریل دوسرا ہفتہ ١٩٥٥؁ئ)

٢:۔ شہرہ آفاق مغربی محقق گارڈنز لکھتا ہے کہ :۔
”اسلام کے اندر وہ غیر معمولی قوت وطاقت پوشیدہ ہے جو یورپ کیلیے حقیقی اور اصلی خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے(ہمیں اسلام کو ختم کرنا ہو گا)”
(البشیر ص ٢٩)

٣:۔ایک یورپی دانشوراشعیا بومان نے ”مجلۃُالعالم الاسلامی التبشریہ ”میں لکھاہے کہ
”یورپ کیلیے واجب ہے کہ وہ اسلام کو اپنے لیئے خوف وخطرہ کا حقیقی سبب قرار دے کیونکہ اسلام اپنے آغاز سے لیکر آج تک مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ تمام براعظموں پر پھیلتا جارہا ہے
(لم ھذا لرعب کلہ من الاسلام ص٥٥)

٤:۔امریکی پروفیسر ہرز کہتا ہے:۔
کہ ”مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے دل رسول عربی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ یہی وہ جذبہ ہے جو عالمی صیہونیت کے لئے بڑا خطرہ ہے اور جو اسرائیل کی توسیع کے راستے میں زبردست رکاوٹ ہے لہٰذا یہودیوں کیلئے بہت ضروری ہے کہ وہ محمد کے ساتھ مسلمانوں کے اس جذبہ محبت کے تمام وسیلوں کو کمزور تر کر دیں تبھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں
(الفلسطین بیروت جنوری ١٩٧٢)

حضرات گرامی قدر:۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ اسلام کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں؟ تو پھر آپ کیوں ان کے تہذیب و تمدن کو اپنا رہے ہیںیہ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ”یہود نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ”

اور باعث ِتخلیق کائنات مختار کل حضور نبی کریم ؐ کا فرمان عالی شان ہے کہ ”من تشبہ بقوم فھو منہم”
لہٰذا میرے مسلمان بھائیوں:۔ اغیار کی سازشوں کو ناکام بنا دیں اللہ ہمیں اسلام کا صحیح معنوں میں سپاہی بنائے اللہ ہمیں اسوئہ نبی ؐ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے اور اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے پاکستان کو امن وسلامتی کا گہوارہ بنائے (آمین)