شریعت کا نفاذ (دوسرا حصہ)۔۔۔ابوعمر سواتی

Posted on July 7, 2014



آج صبح صبح جب میں تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونے کیلئے پارک کے کنارے ٹہل رہا تھا اچانک سلمان مشہود صاحب کا فون آیا میں بڑے فریش موڈ میں تھا سلام اور خیروعافیت پوچھنے کے بعد انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا لیکن کیا کہوں اس کی باتیں سن کر مجھے اتنا افسوس ہوا کہ شاید آج تک ایسا بہت کم ہوا ہے میں سلمان صاحب کو ہمیشہ ایک علمی شخصیت سمجھتا تھا کیوں کہ انہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہوئی ہے شاید ان کے سکوت اور سادگی کی وجہ سے میں ایسے سمجھتا رہا۔ اچھا خیر چھوڑیئے! میں چاہتا ہوں کہ ان باتوں کو قارئین سے شیئر کروں جنہوں نے مجھے ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ۔
سلمان مشہود صاحب نے ” شریعت کے نفاذ” کے عنوان سے کچھ دن پہلے لکھے گئے کے میرے آرٹیکل کےبارے میں گفتگو کی اور کہا کہ میں نے آپ کا آرٹیکل پڑھا اور آپ نے بہت اچھا لکھا ہے لیکن شریعت کے نفاذ کا مطلب یہ تو نہیں ہے لوگوں کا قتل عام کیا جائے۔ پیغمبر اسلام (ص)جو شریعت کے بانی تھے ۔انہوں نے نہ تو لوگوں کا قتل عام کیا اور نہ ہی ان کو گھروں سے نکالا تھا تو یہ کون سی شریعت ہے جس میں لوگوں کا قتل عام بھی کیا جا رہا ہے اور انہیں اپنے گھروں سے بھی نکالا جا رہا ہے پہلے میں نے ارادہ کیا کہ انہیں جواب دوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ دوبارہ شریعت کے نفاذ کے عنوان سے ایک آرٹیکل لکھا جائے اور سلمان مشہود صاحب کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کے اعتراضات کے بھی جواب دیے جائیں ۔
سب سے پہلے میں سلمان مشہود صاحب سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اولا کسی بھی کام کو انجام دینے کیلئے اس کے زمان اور مکان کو دیکھنا پڑتا ہے پیغمبر اسلام (ص) نے جس زمانے میں شریعت کو نافذ کرنے کا اعلان کیا اس زمانے میں لوگ طاغوت اور ظلم و بربریت سے تنگ آ چکے تھے جونہی پیغمبر اکرم (ص) نے اسلام کا اعلان کیا لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اسلام قبول کیا اور جو لوگ شریعت کو قبول کر لیں اور شریعت کی پیروی کریں انہیں اسلام کوئی تکلیف نہیں دیتا داعش بھی یہی کہتے ہیں کہ بھائی آپ شریعت کی پیروی کریں ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے لیکن یہ بات کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش کا زمانہ خلفاء کے زمانے کی طرح ہے درست ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اسلام پھیلانے کیلئے لوگوں کا قتل عام نہیں کیا لیکن آپ خلفاء کے زمانے کو دیکھیں جب خلفاء نے شریعت نافذ کرنے کیلئے روم ، ایران اور شام پر حملے کئے تو کتنے لوگوں کو اپنی جان ، مال ، ناموس کی قربانیاں دینا پڑیں کیوں کہ وہ لوگ شریعت اسلامی سے فرار کرنا چاہتے تھے جس کے نتیجے میں انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔
یہی حال آج عراق اور شام کا ہے جو لوگ شریعت سے فرار کرنا چاہتے ہیں اب آپ کیا کہتے ہیں داعش ان کے ساتھ کیسا سلوک کرے کیا داعش خلفاء کی سنت کو چھوڑ کر نئی بدعات شروع کردے ؟ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ہر صاحب عقل یہی کہے گا خلفاء کی پیروی ضروری ہے ۔
ایک اعتراض ندیم صاحب نے کمنٹ میں لکھا تھا کہ “آپ سب کو اپنا خلیفہ مبارک ہو مگر ایک بات یاد رکھو خلیفہ، اللہ بناتا ہے جو دلوں کو جیتتا ہے اسلام کا مطلب ہے امان اور خلیفہ اتنا ظالم خدا کا خوف کرو اس طرح کے کئی خلیفہ آئے اور گئے ” ؟
ندیم صاحب واقعا مجھے آپ کی بات سے بچپن کا زمانہ یاد آ گیا جب جاہل لوگ کہا کرتے تھے
پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب
مجھے ایسا لگا جیسے آپ بھی ان نوابوں میں سے ہیں جناب یہ فقط ہمارا خلیفہ نہیں ہے بلکہ سب مسلمانوں کا خلیفہ ہے وہ دن دور نہیں جب سارے مسلمان اس کی بیعت کریں گے اور رہی بات آپ نے کہا ہے کہ خلیفہ بنانا اللہ کا کام ہے تو انصاف سے بتائیں حضرت ابوبکر ؓ کو اللہ نے خلیفہ بنایا ہے ؟ حضرت عمر ؓ کو اللہ نے خلیفہ بنایا ہے ؟ اسی طرح آخر تک چلتے جائیں کیا بنو امیہ اور بنو عباس والوں کو بھی اللہ نے خلیفہ بنایا ہے ؟
یہ درست ہے کہ خدا کی مدد کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا لیکن یاد رکھو جو شخص شریعت اسلامی کو نافذ کرنے کیلئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں آیا ہے وہ اللہ کی مدد کے بغیر نہیں آیا اگر خدا نا چاہے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا مجھے یقین ہے جس دن خلیفہ ابوبکر بغدادی پاکستان کی سرزمین پر اپنی خلافت اور شریعت اسلامی کو نافذ کرے گا اس دن کسی کو جرأت نہیں ہوگی کہ وہ اسلام کی مخالفت کرے اور رہی بات کہ آپ نے کہا خلیفہ لوگوں کے دلوں کو جیتتا ہے وہ ظالم نہیں ہوتا یہ تو آپ کہہ رہے ہیں ناں اگر ابوبکر بغدادی صاحب کے بارے میں لوگوں کی رائے لی جائے تو اکثریت یہی کہے گی کہ وہ ظالم نہیں ہے پتا نہیں آپ کو کس نے کہہ دیا کہ وہ ظالم ہیں خدا وند آپ کی ہدایت فرمائے ۔
لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ شریعت اسلامی کے نفاذ کیلئے داعش سے تعاون کریں اور جہاں جہاں داعش کا پیغام پہنچ رہا ہے شریعت اسلامی کے نفاذ کیلئے تیار رہیں ۔