شریعت کا نفاذ ..ابو عمر سواتی

Posted on July 5, 2014



آج کے دور میں جب شریعت کا نفاذ کرنے والے بہت کم نظر آتے ہیں “حکومت اسلامی عراق اور شام” کے نام پر مبنی گروہ داعش نے اس کا م کا بیڑا اٹھایا ہے داعش کے خلاف باتیں کرنے والے اکثر وہ لوگ ہیں جنہیں اصلا یہ بھی نہیں پتا کہ شریعت ہوتی کیا ہے ! اور اگر کسی نے اس کام کا ارادہ کیا ہےتو وہی لوگ ان کی مخالفت کرنے لگے ہیں جنہیں نہ اسلام کے بارے میں کچھ پتا ہے اور نہ ہی شریعت کے بارے میں کوئی خبر ہے ۔
البتہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ شریعت اور خلافت جس کی روح رواں وہ خلافت ہے جس کا آغاز پیغمبر اسلام (ص) کے بعد ہوا ہے اور پھر کتنی مشابہت ہے اُس خلافت اور آج کی اس خلافت کے درمیان کہ اُس کا آغاز بھی ابوبکر ؓسے ہوا اور اس کا آغاز بھی ابوبکر سے ہو رہا ہے۔ داعش کی مخالفت دراصل وہ لوگ کر رہے ہیں جو نہیں چاہتے کہ اسلام اور شریعت اسلامی پوری دنیا میں نافذ ہو ۔داعش کا مقصد شریعت کو پوری دنیا میں پھیلانا اور اسلامی قوانین کا نافذ کرنا ہے ۔
آج جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ داعش شریعت کے نام پر لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور لوگوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر رہے ہیں یہ حقیقت میں اُن لوگوں کی اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے اگر وہ اسلام کے بارے میں تھوڑا سا بھی علم رکھتے ہوتے تو انہیں ایسی باتیں کرنے سے شرم محسوس ہوتی دراصل جو کام اسلامی حکومتوں کو کرنا چاہیئے تھا جب انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو اس غیرت مند گروہ کو جلال آگیا جو جلال الہی بن کر ابھرا اور انہوں نے قسم کھالی کہ جب تک پوری دنیا میں شریعت اسلامی نافذ نہیں ہو گی ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔
اور رہی بات یہ کہ وہ لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں تو اس میں داعش کا کیا قصور ہے ؟وہ تو شریعت کے نفاذ کیلئے پوری دنیا کا دورہ کریں گے اور جو بھی شریعت کے نفاذ میں اُن کی مخالفت کرے گا اس کا یہی حال ہوگا جو عراق اور شام میں ہو رہا ہے مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی اگر اسرائیل لوگوں کا قتل عام کرے امریکہ یہی کام کرے تو کوئی نہیں کہتا کہ لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن اگر شریعت اسلامی کے نفاذ کیلئے داعش یہی کام کرے تو سارے مسلمان ان کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ یاد رہے داعش جن لوگوں کا قتل عام کر رہی ہے حقیقت میں یہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں جونہی شریعت اُن تک پہنچتی ہے تو اسلام کے قوانین کی پیروی کرنے کی بجائے شریعت سے دور بھاگتے ہیں اور یہ مسلمانوں کا نہیں کفار کا شیوہ ہے ۔
لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ شریعت کے نفاذ کیلئے داعش سے تعاون کریں اور جہاں جہاں داعش کا پیغام پہنچ رہا ہے شریعت کے نفاذ کیلئے تیار رہیں اور اسلامی قوانین کی پیروی کریں داعش جو بھی کہہ رہے ہیں وہ اسلامی شیوخ اور مفتیوں کے فتوی کے عین مطابق ہے یہ شریعت ہے جسے مفتیان دین نے داعش کو تعلیم دیا ہے اور جو کوئی بھی داعش کی مخالفت کرے گا وہ داعش کی مخالفت نہیں ہوگی بلکہ مفتیان دین کی مخالفت ہے اور اگر مفتیان دین کے فتوی کی پیروی نہیں کی گئی تو پھر سب کا دین اور سب کا اسلام خطرے میں ہے داعش کی مخالفت کرنے والو اپنے دین کی خیر مناؤ ۔