ابوبکر البغدادی کون ؟… آصف ناصر

Posted on July 5, 2014



عراق میں حکومت اسلامی عراق و شام کے نام سے موسوم مسلح گروپ کو داعش بھی کہا جاتا ہے اگر چہ اس گروپ کے بارے میں اتنی تفصیل موجود نہیں ہے لیکن اس گروپ کا حاکم مطلق ” ابوبکر البغدادی” ہے ۔
داعش کے اسٹریکچر کے بارے میں جاننے سے پہلے جس کی تعداد 18ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے اس کے قائد اور لیڈر ابراہیم عواد ابراہیم البدری السامرائی معروف ابوبکر بغدادی کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ وہ کون ہے اور اس کے اہداف کیا ہیں ؟
ابو بکر البغدادی 1971 میں عراق کے شہر سامراء میں ایسے سلفی گھرانے میں پیدا ہوا ور پھر بغداد اسلامی یونیورسٹی سے بیچلر ، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شروع میں پڑھانے لکھانے کے شعبے سے منسلک ہوا اور پھر بعد میں چھوٹی چھوٹی جہادی تنظیموں کے ذریعہ سے مختلف دہشت گردی کی کاروائیوں میں مشغول ہوتے ہوتے شدت پسند گروپ داعش میں شامل ہوگیا کہا جاتا ہے کہ وہ ابو مصعب الزرقاوی کا شاگرد بھی ہے ۔
ابوبکر بغدادی کو حکومت اسلامی عراق و شام کے نام سے موسوم شدت پسند گروپ داعش کا اوامر و نواہی کا اصلی محور اور حاکم مطلق کہا جاتا ہے اس شدت پسند گروپ کی بنیاد ابو مصعب الزرقاوی نے رکھی اور اس کی ہلاکت کے بعد ابوعمر البغدادی نے آکر اس کو منظم کیا اور اس کے اہداف کو معین کیا ۔
ابوبکر بغدادی کے نمایاں کارنامے
ابوبکر البغدادی کو 19 اپریل 2010 میں اس شدت پسند گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا اس نے آتے ہی اس میں جو تبدیلیاں کیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی بنیادی عہدوں کا حذف کرنا تھا جیسے وزیر دفاع کے عہدے کو ختم کر کے فوجی نظام کی بنیاد رکھی اسی طرح صوبہ دیالی اور بغداد کے حکام کو معذول کرکے ریٹائر فوجی افسروں کو ان عہدوں پر مقرر کیا ۔
جنگی کمیٹی کی تشکیل
حکومت اسلامی عراق و شام کے نام سے موسوم شدت پسند گروپ داعش کی طاقت جنگی کمیٹی کی تشکیل میں تھی جس کے ممبران ولید جاسم محمد معروف ابو احمد العلوانی اور تین سابقہ حکومت کے افسر ہیں جو 2006 میں اس گروپ میں شامل ہوئے تھے اس کمیٹی کے سربراہ کا انتخاب ہمیشہ ابوبکر بغدادی کے توسط سے ہوتا ہے ۔
مشاورت کمیٹی کی تشکیل
اس مشاورت کمیٹی کا سربراہ ابو ارکان العامری ہے جس کا کام ابوبکر البغدادی ، جنگی کمیٹی اور ولایت کمیٹی کے درمیان ارتباط قائم کرنا ہے اس کمیٹی کے ارکان کی تعداد 9 سے 11 افراد ہیں اور ان کا انتخاب بھی ابوبکر بغدادی کے ذریعے ہی ہوتا ہے ۔
سیکیورٹی اور اطلاعاتی کمیٹی کی تشکیل
سیکیورٹی اور اطلاعاتی کمیٹی کا سربراہ بھی سابقہ حکومت کا ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ابو علی الانباری ہے جس کا کام ابوبکر بغدادی کیلئے سیکیورٹی اور اس کی رفت وآمد کے انتظامات کرنا ہے اورالبغدادی کے ان پروگراموں کے بارے میں جو ولایت کمیٹی کی طرف سے جاری ہوتے ہیں تفتیش کرنا ہے اس کمیٹی کے ممبران کی تعداد بھی 3 ہے جن کا انتخاب بھی البغدای کے ذریعے ہی ہوتا ہے اس کمیٹی کا کام عدالتی فیصلوں اور جس کیلئے حد مقرر کی گئی ہے کو جاری کرنا ہے سیاسی دہشت گردوں اور پیسے جمع کرنے والوں کی ایک ٹیم کی نگرانی بھی اسی کمیٹی کے ذمے ہے اسی طرح عہدوں سے مربوط کام ، داعش کے ارکان کے درمیان تعاون اور ارتباط بھی اسی کمیٹی کے ذمے ہے ۔
ان تمام کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کے سربراہی سابقہ فوجی افسروں کے حوالے کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس شدت پسند گروپ کی سربراہی اور اس میں تبدیلی خود البغدادی کے اپنے ہاتھ میں رہے تاکہ جس وقت جسے چاہے معزول کرے اور جسے چاہے انتخاب کرے اور کوئی بھی اس کے حکم کی مخالفت نہ کرے ۔
اس شدت پسند گروپ داعش کے ساتھ مربوط تمام افراد کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلے وہ لوگ ہیں جو دولت اور ثروت کے طلبگار ہیں ،دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جن کاتعلق سابقہ حکومت کے افسروں سے ہے یہی وہ لوگ ہیں جو البغدادی کے ساتھ زیادہ وفادار ہیں اور تیسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو جو کسی نہ کسی مشکل کی وجہ سے اس گروپ میں شامل ہو گئے ہیں لیکن اب وہ ان سے جدا ہونا چاہتے ہیں ۔
واضح رہے کہ ان کا اندرونی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم طالبان کی طرح نہایت مضبوط ہے اور انہیں شکست دینا آسان نہیں۔پاکستان میں عراق جیسے حالات کا سامنا صرف پاکستان کی عسکری قوت ہے ورنہ اگر عراقی فوج کی طرح ہماری فوج ہوتی تو اسلام آباد کب کا فتح ہوچکا ہوتا۔
داعش کی تمام کمیٹیوں میں بعث پارٹی کے سابقہ فوجی افسروں کی موجودگی سے ایک نکتہ واضح ہے کہ داعش کی اصلی طاقت کا راز یہی افسر اور بعث پارٹی ہےجو خم ٹھونک کر اسکے ساتھ کھڑی ہے۔یہ وہی علاقہ ہےجہاں امریکہ کی موجودگی میں بھی ہر روز بم دھماکے اور فوجی آپریشن ہوتے رہے ہیں لیکن پھر بھی امریکہ وہاں مکمل طور پر امن قائم کرنے میں ناکام رہا۔یہاں یہ کہنا کہ سنی اقلیت کو کنارے لگا دیا گیا تھا اس لیے سنی اپنے دفاع کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں یہ بے وقت کی راگنی ہے کیونکہ وہاں سنی اس سے قبل صدام کے دور میں بھی اتنے آسودہ خاطر نہیں تھے اس وقت بھی صرف صدامی ور بعثیوں کیلئے ہی تمام آسائشوں سے لطف لینے کے مواقع فراہم تھے تو سوال یہ ہے کہ صدام کے دور میں اور جب امریکی آپریشنوں میں سنی پس رہے تھے تو اس وقت انۂں نے کیوں ہتھیار نہ اٹھا ئے؟؟ اب ہی کیوں ؟؟معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنی نہیں جو خود مظلوم ہیں بلکہ یہ خارجی اور امریکی کتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں پر بھونک رہے ہیں اور سنی شیعہ کے اختلاف کا نام دے رہے ہیں اگر سنی لڑنے پر آمادہ تھے تو کیوں پانچ لاکھ سے زائد سنی جہاد سے منہ موڑ کر اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں ہجرت کرگئے؟؟ سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی ڈوریاں کن خفیہ ہاتھوں میں ہیں۔