داعشی اور اسلامی خلافت کا موازنہ۔ ۔اے ۔این

Posted on July 3, 2014



عراقی شدت پسند گروپ داعش کے بارے میں بہت کچھ سننے میں آرہا ہے کوئی انہیں تکفیری کہتا ہے تو کوئی مسلمان اور رہی بات یہ کہ وہ خود کیا کہتے ہیں اس شدت پسند گروپ کے لیڈر اور خلفاء اسے حکومت اسلامی عراق اور شام کا نام دیتے ہیں لیکن حقیقت کیا ہے کیا واقعا یہ گروپ “حکومت اسلامی عراق اور شام “کے نام کیساتھ مطابقت رکھتا ہے یا صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے ۔
اس شدت پسند گروپ داعش کے بارے میں جاننے کیلئے کہ یہ کون ہیں اور ان کے اہداف کیا ہیں مختصر طور پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پہلے یہ بیان کیا جائے کہ اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا ، داعش یا “الدولہ الاسلامیہ فی العراق و الشام” ایک تکفیری دہشت گرد گروپ ہے جو عراق پر امریکی اور برطانوی فوجی قبضے کے آغاز میں ہی امریکہ اور برطانیہ کی ایما پر معرض وجود میں لایا گیا۔ اس گروہ نے 2004ء میں القاعدہ کی حمایت اور اس کے ساتھ اپنی وابستگی کا باضابطہ اعلان کیا۔ جو کچھ عرصہ القاعدہ عراق کے نام سے معروف ہوا ۔ اور پھر15 اکتوبر 2006ء کو اس دہشت گرد گروپ نے امارت اسلامی عراق کے تحت تمام چھوٹے چھوٹے دہشت گرد گروہوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کیا جو رفتہ رفتہ ایک بڑا گروپ شمار ہونے لگا اسی طرح عراق کے سابق آمر صدام حسین کے دور میں بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدام حسین کے مخصوص فوجی دستے جو “فدائیان صدام” کے نام سے جانے جاتے تھے بھی داعش میں شامل ہونا شروع ہو گئے ۔ اس دہشت گرد گروپ کا مقصد عراق کے ایسے علاقوں میں خلافت اسلامی کا قیام تھا جہاں اہلسنت مسلمانوں کی اکثریت موجود تھی اور اسی طرح شام میں سرگرم حکومت مخالف دہشت گرد گروہوں کو انسانی قوت فراہم کرنا تھا۔
یہ تو تھا اس دہشت گرد گروپ کا مختصر سا تعارف اب اس شدت پسند گروپ کی کاروائیوں کے بارے بھی تھوڑی سی وضاحت ہو جائے تو مقصد تک پہنچنے میں آسانی ہو جائے گی اس دہشت گرد گروپ داعش نے 2013ء کے وسط تک عراق میں تقریبا 1400 خاندان تباہ کئے ۔ داعش کی جانب سےمیں انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات میں تقریبا 2000عام شہری جاں بحق جبکہ 3500افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ 2014ء کے شروع میں عراق کے دو شہروں فلوجہ اور رمادی میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران داعش کو دوبارہ موقع ملا اور انہوں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شدید کرتے ہوئے شروع کیں لیکن عراق کی سیکورٹی فورسز نے فلوجہ اور رمادی میں اس دہشت گرد گروپ کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے شکست سے دوچار کیا اور اس لڑائی میں داعش کا سربراہ بھی ہلاک ہو گیا۔
اس دہشت گرد گروپ داعش کے مالی تعاون کے بارے میں بھی کچھ ذکر کرتے چلیں کیوں کہ کوئی بھی تنظیم یا گروپ مالی تعاون کے بغیر مستحکم نہیں رہ سکتا اور اس شدت پسند گروپ کا اتنے سالوں تک باقی رہنا اس کی واضح دلیل ہے کہ اس کیساتھ مالی تعاون کرنے والے کوئی عام نہیں بلکہ خاص افراد ہیں اس حقیقت کو آشکار کرنے کیلئے اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ کبھی ان دہشت گرد گروہوں کی تربیت کیلئے امریکی صدر باراک اوباما کانگریس پارٹی سے 50کروڑ ڈالر مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی سعودی بادشاہ ماہ رمضان کی مناسبت سے اقوام متحدہ کو واسطہ قرار دے کر عراق کی مظلوم عوام کے نام پر دہشت گردوں سے تعاون کرتے ہیں بات لمبی نہ ہو جائے کہتے ہیں عقلمند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے بس اتنا ہی کافی ہے ۔
اس دہشت گرد تکفیری گروپ کے مظالم اور انسانیت کے ساتھ ان کے بھیانک سلوک کو دیکھتے ہوئے ان کے بارے میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ نہ صرف یہ کہ ان کا اسلام کیساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ کسی بھی خدائی دین کے ساتھ بھی ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ایسے لوگ انسانیت اور اسلام کے نام پر بدنامی کا دھبہ ہیں جو خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی جان ، مال آبرو سب کچھ داؤ پر لگا نے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام اور حکومت اسلامی کے نام پر لوگوں کی عزت سے کھیلتے ہیں جب تک ان کو حرام کھانے کو ملتا رہے گا اس وقت تک یہ اسلام اور مسلمانوں کی آبرو کا مذاق اڑاتے رہیں گے اگر آج ان کی مالی امداد بند کردی جائے تو اسی وقت ان کا سارا اسلام اور اسلامی حکومت کی تشکیل کے منصوبے کھل کر سامنے آ جائیں گے ۔