Pheli Raat

Posted on June 30, 2014



ایم۔عباسی۷۸۶
۲۰۱۴ ء میں۱۹۹۰ء کی دہائی پر پھیلی رات:
رات سونے کی اور دن جاگنے کا ہوتا ہے۔ رات گہری، تاریک اور سنسان ہوتی ہے،دن اجلا، روشن اور بلند آواز ہوتا ہے۔ کبھی الٹ ہو جائے تو رات سونے جیسی چمکدار اور قیمتی بھی ہوتی ہے۔آج کی رات بھی سونے کی نہیں سونے جیسی تھی۔ ابتداءِ شب، اے ،آر، وائے کے پروگرام سے ہو کر زیرو پوائینٹ، سماء اور ڈان وغیرہ کے پروگرامز تک پھیلی۔ سید اقرار الحسن کی نئی تحقیقی رپورٹ نئے زایے سے منور مگر حقائق کے لحاظ سے دلدوز، سنسان اور قہر آلود تھی۔
اس پروگرام کے بعد کسی شے کامن نہیں تھا۔ اچانک نیٹ کی دنیا پر جیسے کا ئنات ساری(Rewind) پیچھے جا پڑے۔پاکستان ٹیلی ویژ ن
کے(Visiion) سے معمور 1990ء کی دنیا تھی۔ ماضی کی اس دنیا میں پاکستانیت،انسانیت اور اسلامیت پر مبنی معاشرے کی چند وڈیوز نظر سے گزر گئیں۔یہ پاکستانی دنیا انہی تین قسموں میں بٹی آگے بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان سمٹا ہوا، کم ترقی یافتہ مگر مسلم روایت کا امین تھا۔ اس دور کے اصل سیاسی حقائق کیا تھے اس سے قطع نظر کرتے ہوئے، اتناہی معلوم ہے کہ مجھے شاید اس عمر اتنی ہی خبر تھی۔
بچوں کو روایات سکھاتے ماں باپ ، اساتذہ اور بزرگ نصیحت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ والدین نے بزرگوں کا احترام سکھایا۔ اساتذہ خود بھی محب وطن تھے اور اس کا پرچار بھی کرتے تھے۔ بزرگوں کا اندازِ تنقید نصیحت اور صبر سے مملو تھا۔ سیاسی محاز آرائی بھی تھی، نعرے بھی تھے، مخالفتیں بھی تھیں اور تنقید وکھینچا تانی بھی تھی۔ مگر خوف وہراس اور جبر و استبداد کی کالی رات نہ تھی۔ اندھیرے میں اجالے کا گماں باقی تھا۔ پسماندگی، غربت اور کم پیسوں کے باوجود علمی محبت، علمی وقار اور علم کے وسیلے سے عروج پانے کا شعور باقی تھا۔
کاش یہ جہانِ پاکستان ! آج رات کی وڈیوز پر ہی قائم رہتا ۔ یہ لمحے یونہی رک جاتے،یہ پرواز رک جاتی، یہ جہان ٹھہر جاتا۔احمد فراز، احمد ندیم قاسمی اور امجد اسلام امجد کے شہر ، گاؤں اور مٹی کے کنارے تغزل میں آباد رہتے۔نصرت، نور جہاں اور مہدی حسن کا تغنم قائم رہتا۔یہ نئے سویرے طلوع نہ ہوتے۔عمران خان کا ورلڈکپ صرف پاکستان ہی جیتتا۔ڈاکٹر طاہر القادری کے مناظرے اور مباہلے میں اسلام سربلند ہوتا۔پاکستان امتِ مسلمہ کی رہنمائی اور سربلندی کے لیے پرعزم رہتا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ پرانی وڈیوز مکمل ہوگئیں۔نئے علم و فن کا آغاز ہوا۔یہ کیسی رات ہے کہ جس کی انتہا بھی رات ہے؟ یہ کیسا دن ہے کہ جس کی ابتداء بھی رات ہے۔ میں تیس سال کی عمر میں تیرہ سال کا ماضی پھرولتا ہوں۔ ۱۹۹۰ء والا مزدور کیوں نہیں رہا، جس کا بدن ریت، پسینے اور سیمنٹ کے ملاپ سے معطر تھا۔ جو اولاد کی پڑھائی کا خواہشمند تھا۔ جو لالچی اور کام چور مزدور کے خلاف تھا۔ وہ کسان کیوں نہیں رہا؟ جس کا راشن کم مگر محنت ومشقت اور صبر سے لبریز تھا۔جو زرعی آلات و ادویات کی کمیابی کے باوجود ملکی مفاد کی خاطر جہد مسلسل کا پیکر تھا۔وہ اساتذہ کیوں نہیں رہے؟ جو اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر زہین طلباء کی فیسیں دیا کرتے تھے۔ جو وسائل کی کمی کے باوجود ٹویشن مافیا کے خلاف اور محنت وعظمت کے امین تھے۔ وہ مائیں کیوں نہ رہیں؟ جو شرم وحیا کا پیکر اور عزت وعصمت کی معلمہ تھیں۔ وہ والد کیوں نہ رہے؟جو کلرک ، مالی ، چپڑاسی اور چھوٹے گریڈ پر ہونے کے باوجود وفا شعار اور باوقار تھے۔
دورِ حاضر کی خوفناک صورت حال ذہن میں رکھے میرا دل یہ دعا کر رہا تھا،کہ مالک کسی شاعر کی پکار کی طرح، یہ دولت بھی لے لے ، یہ شہرت بھی لے لے۔
دنیا کی گلوبلائیزیشن فیکٹری نہیں چاہیے۔موبلائیزیشن کی سرعت نہیں چاہیے۔کسٹمرز نہیں چاہیے۔جدید تباہی پلانٹ نہیں چاہیے۔ خوف کی آنکھ نہیں چاہیے۔ درد کا دل نہیں چاہیے۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں نہیں چاہیں۔بپھرے ہوئے جذبے نہیں چاہیے۔آگ کا سمندر، خون کی ہولی نہیں چاہیے۔لفظوں کی معلومات نہیں چاہیے۔علم کے سکندر نہیں چاہیے حَکَم کی تختیاں نہیں چاہیں۔غصب کی سختیاں نہیں چاہیں۔
بس! ہمیں محبت بھری سکون والی سونے جیسی رات دے دے۔ان مظلوموں کو ، دکھیوں کو،بے کسوں کو وہ نہ دے جو انڈیا کی فلموں کے خانز کی طرح ہر بار نئے روپ میں نمودار ہوں۔
سرزمینِ پاکستان سے روٹھا ہوا امن و سکون دہائی دیتا ہے۔ نفرت اور بد امنی پھیلانے والوں کو عدیم ہاشمی کے اشعار کا پیغام ۔۔ ۔
چھن گئی درد کی دولت کیسے
ہو گئی دل کی یہ حالت کیسے
پو چھ ان سے جو بچھٹر جاتے ہیں
ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے