کیسا انقلاب کیسے لیڈر؟ آصف ناصر

Posted on June 29, 2014



آجکل ہر طرف انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں جس کو اور کوئی کام نہ ہو وہ بھی انقلاب ہی کے نعرے لگاتا ہوا نظر آتا ہے انقلاب اور انقلابیوں کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اگر گذشتہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے اور ہر الیکشن کے دور کا تجزیہ کیا جائے تو واضح اور روشن پتا چلتا ہے کہ ہر مخالف پارٹی یہی نعرہ لگاتی ہے کہ ہم ملک میں انقلاب لے کے آئیں گے اور پھر گذشتہ حکومتوں کے نقائص ،انکی نا انصافیاں اور انکے دور میں انجام دئیے گئے سارے جرائم کھول کھول کر بیان کئےجاتے ہیں اور کہا یہی جاتا ہے کہ ہم انقلاب لائیں گے ہم ان مظلوم لوگوں کو ظلم اور بربریت سے نجات دیں گےلیکن جونہی کوئی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے تو پھر ساری کہی ہوئی باتیں اور کئے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے جیسے بھی ہو اس اقتدار اور حکومت کو قابو میں رکھا جائے چاہے اس حکومت کیلئے کسی کی جان لینا پڑی لے لیں گے کسی کی آبرو ریزی کرنا پڑی کر لیں گے کسی کا مال لوٹنا پڑا لوٹ لیں گے پھر یہی سب ہوتا ہے ۔
ادارہ منہاج القرآن پر پولیس کا حملہ بھی اسی قسم کی ایک کاروائی ہے جس کے ذریعے حکومت نے اپنے اقتدار کی بقا کیلئے شیخ الاسلام طاہر القادری کے گھر ، مدرسے اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی نہ صرف یہ کہ کوشش کی بلکہ تیرہ چودہ انسانوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا اور ۱۰۰ کے نزدیک زخمی بھی کر ڈالے اور پھر یہاں تک کہہ دیا کہ یہ کاروائی پنجاب حکومت کے مشورہ کے بغیر ہوئی ہے اور وزیر اعلی پنجاب کو اس کی خبر تک نہیں تھی ایک دن یہی طاہر القادری تھا جسے نواز شریف کاندھوں پر اٹھا کر طواف کرواتے نہ تھکتے تھے اور شہباز شریف ان کے جوتوں کے تسمے باندھنا اپنا وظیفہ سمجھتے تھے اب یہ تو حال ہے نواز انقلاب کا ایسا انقلاب ” پئی ھک دن موڈیاں تے ، تے دوجے دن گوڈے تھلے” ۔
اب ایک اور انقلاب کی بات بھی سن لیں شیخ الاسلام طاہر القادری جو اپنے آپ کو ایک مذہبی لیڈر اور انقلاب کے داعی سمجھتے ہیں ذرا ان کے انقلاب کا حال بھی ملاحظہ ہو ہمارے ہاں ایک مثال دی جاتی ہے کہ خدا کرے کبھی کسی احمق کا پالا احمق سے نہ پڑے ورنہ اس سے جو نقصان ہوگا اس کا جبران کبھی نہیں کیا جا سکتا ۔
کہنے کو تو علامہ طاہر القادری ایک مذہبی لیڈر ہیں لیکن ان کی آمریت کا اندازہ اس سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ کچھ دن پہلے 23 جون 2014کو انقلاب کا نعرہ بلند کرتے ہوئے دبئی سے لاہور پہنچے تو انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے جہاز میں موجود مسافروں کو یرغمال بنایا تاکہ اگر حکومت ان کے خلاف کوئی کاروائی کرے تو ان کے پاس اپنی حفاظت کا کوئی نہ کوئی انتظام ہو اب آپ اس کو انقلاب کہیں یا غنڈہ گردی لیکن جہاں تک میری سمجھ میں آتا ہے انقلاب انقلاب کی رٹ لگانے والوں کے اندر انقلاب لانے کی ایک بھی کسوٹی موجود نہیں ہے انقلاب لانے والے جہازوں کے اندر بیٹھ کر سیکیورٹی اور بکتر بند گاڑیاں نہیں مانگا کرتے بلکہ عوام کے شانہ بشانہ میدان میں ہوتے ہیں ۔
اگر یہیں پر بات ختم ہو جاتی تو بھی شاید کوئی قبول کر لیتا کہ وہ ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں لیکن ان کا یہ کہنا
i dont relate to myself to Khumeini r.a
” میں خود کو خمینیؒ سے نہیں جوڑتا ”
my slogan is like the slogan of obama & america, he stood for change
” میرا نعرہ اوباما جیسا ہے وہ تبدیلی کے لئے کھڑا ہوا ”
i absolutely in favor of good relationship with america
” میں امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات کے حق میں ہوں ”
جس امریکا کے ساتھ وہ بہترین تعلقات کے دعوے کر رہے ہیں ذرا ان کی تبدیلیوں کے متعلق بھی سن لیں حقوق انسانی کے سلسلے میں امریکا نے جو کام انجام دیئے ان میں ایک افغانستان ہےاس امریکی انقلاب کے بدلے میں افغانستان کے 56 لاکھ لوگوں کو اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنا پڑا اور عراق میں تبدیلی کا ارادہ کیا تو 5 لاکھ لوگوں کو اپنی جانیں دینا پڑیں اور حتی آج تک عراق اور افغانستان میں امنیت نہیں آئی کیا مولانا طاہر القادری بھی یہی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ؟
اب بھی مولانا کے امریکی تفکر کے بارے میں کسی کو شک ہے ؟ اب بھی کسی کو دلیل کی ضرورت ہے؟ اب بھی کسی کو کوئی ثبوت چاہئیے؟ اب بھی کوئی کہے گا وہ پاکستان میں انقلاب لانا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ اگر وہ واقعا پاکستان میں انقلاب لانا چاہتے تھے تو چاہئیے یہ تھا کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کی محبت میں ‘23جون کو یہ اعلان کرتے کہ وہ جنگ سے متاثر ہونے والے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے اپنے جلسوں پر کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کی بجائے چاہے ایک جلسے کا خرچہ ہی سہی،آئی ڈی پیز کے لئے قائم کردہ امدادی فنڈمیں جمع کروائیں گے وطن کے قرض اتاریں گے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی بہادر فوج کا ساتھ دیں گے ہم اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے عظیم اور مشکل مقصد کے لیے صرف کریں گے ۔
چاہئے یہ تھا کہ وہ اپنے پرعزم کارکنوں سے کہتے کہ وہ اپنے مہاجر بھائیوں کی مشکلات دور کرنے میں مصروف عمل ہو جائیں سوچیں کہ اگر سچ مچ ایسا ہو جاتا،تو پھر 23جون کا دن کتنا مختلف ہوتا وہ صرف اپنے کارکنوں کے ہی نہیں،پوری پاکستانی قوم کے لیڈر ہوتے لیکن یہ سب دل بہلانے کی باتیں ہیں ورنہ کیسا انقلاب کیسے لیڈر ہر کوئی اپنے مفادات ، اپنی جاگیرداری اور اپنی آمریت کی بقا کیلئے مظلوم انسانوں کے جذبات سے کھیلنا اپنا مشغلہ سمجھتا ہے اور یہ سلسلہ پتا نہیں کب رکے گا !!!
پتا نہیں وہ دن کب آئے گا جب پاکستانی قوم اس ظلم و بربریت سے نجات حاصل کرے گی پاکستان کی مظلوم عوام آج بھی اس مسیحا کا انتظار کر رہی ہے اس راہنما کو تلاش کر رہی ہے جو آکر اس مظلوم قوم کو ان جھوٹے لیڈروں اور حکمرانوں کےظلم و ستم اور بربریت سے نجات دے ۔