” اگر اتنی گرمی میں پولیس مارے گی تو انقلاب کیسے آئے گا “

Posted on June 29, 2014



ہر طرف ایک شور مچا ہے . سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا ہر طرف ایک پروپیگنڈہ کا توفان بَپا ہے . قادری آخر چاہتا کیا ہے ؟ اس کے خواب دیکھیں ، اس کے تضاد دیکھیں ، کہاں سے آیا ؟ ، پیچھے کون ہے ؟ ، آگے کون ہے ؟ ، ہے کون یہ ؟ . کینیڈا کیں رہتا رہا ؟ . انقلاب کو لے کہ کارٹون اور لطیفے بنائے جا رہے ہیں . اِس سب شور میں کوئی یہ نہیں سوچ رہا کے بھائی قادری نے آخر ہمارا بگاڑا کیا ہے ؟ اس نے ہمیں کیا نقصان پہنچا دیا جو ہم اس کی جان کے درپے ہوئے ہیں ؟ کیا اس نے ملک کی دولت لوٹی ؟ کیا اس نے عوام کو بےروزگار کیا ؟ کیا اس کی وجہ سے آج دہشت گردی ہے ؟ کیا اس کی وجہ سے ملک قرضوں میں ڈوب گیا ؟ . تو اِس کا جواب شاید سب ہی جانتے ہیں کے اس نے تو کچھ نہیں کیا مگر ہاں وہ ان کے خلاف ضرور کھڑا ہے جنہوں نے یہ سب کیا . اِس قسم کا پروپیگنڈہ تو ہونا ہی تھا . قادری ساحب کی جگہ ان کے خلاف کوئی اور بھی کھڑا ہوتا تو یہی سب کچھ ہوتا کیوںکہ نون لیگ کو شرم آئے نا آئے پروپیگنڈہ ضرور آتا ہے . یہاں پروپیگنڈہ کرنے والوں کی بھی کئی اقسام ہیں جو چاہتے نا چاہتے نون لیگ کے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں . ایک تو وہ ہیں جو نون لیگ کے ہارڈ کور سپوٹرہیں اور کئی کئی سال سے ان کو ووٹ دیتے چلے آئے ہیں جن میں سے ایک میرے تایا جی بھی ہیں .جب 17‬ جون کو ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ہُوا تو تایا جی کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی مگر جیسے ہی 23 جون کو منہاج ال قرآن کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں پولیس کو مار پڑی اور پولیس والے زخمی ہوئے تو ساتھ ہی تایا جی کا پارہ بھی چڑھ گیا . بس پِھر کیا تھا انہوں نے عوامی تحریک کو وہ وہ گالیاں دیں کہ گالیوں کی لغت بھی شرما گئی ہوگی . اور میں یہ سوچتا رہ گیا کہہ پولیس والوں کے زخمی ہونےپہ اتنا ہنگامہ اور عورتوں کے منہ پہ جب فائر مارے گۓ تب فقط خاموشی کیوں ؟. یہ تو ہو گۓ نون لیگ کے سپوٹران۔ ان کے علاوہ جو لوگ قادری صاحب کے خلاف پروپیگنڈہ میں پیش پیش ہیں وہ اپرمڈل کلاس کے نوجوان ہیں ، یہ لوگ فیس بک اور ٹویٹر پہ پاۓ جاتے ہیں . ان کی کل کائنات لائک سے شروع ہو کہ پوک پہ ختم ہو جاتی ہے ، ان کا المیہ یہ ہے کے نا تو انقلاب ان کی ضرورت ہے نا ہی ان کو اِس کی سمجھ ہے ، بس چلتے چلتے قادری صاحب پہ کوئی لطیفہ اچھا لگا تو شیئر کر کے اپنے فیس بک فرینڈز سے داد حاصل کی اور چلتے بنے . اور قادری صاحب پہ لگے کسی الزام کی تحقیق کرنے کا نا ان کے پاس ٹائم ہے نا ہی یہ تحقیق پہ یقین رکھتے ہیں . یہ لوگ ہر اس شخص کو بیوقوف اور جاہل سمجھتے ہیں جو انقلاب کے لئے نکلے یا اِس کی بات کرے . مثلاً میرے کئی اسلام آباد کے دوستوں کو یہ شکایت تھی کے بھائی انقلاب لاؤ مگر سگنل تو نا بند کرو ہم نے نائٹ پیکج کروایا ہے ، کچھ کہنے لگے انقلاب کے لئے سڑکوں پہ آنا ضروری ہے ؟ ، ان کی باتیں سن کہ مجھے زوھیر تورو یاد آجاتا ہے جن کا کہنا تھا کہ ” اگر اتنی گرمی میں پولیس مارے گی تو انقلاب کیسے آئے گا ” . یہ بات حقیقت ہے کہ زوھیر تورو ہماری یوتھ کہ ایک طبقے کی نمائندگی کرتا ہے . یہ لوگ برگر پیزا تو کھا سکتے ہیں مگر پولیس کی لاٹھیاں اور گولیاں نہیں . میرے خیال میں پاکستان جیسے ملک میں انقلاب لانا دُنیا کا مشکل ترین کام ہے جس کا بیڑا قادری صاحب نے اٹھایا ہے . پہلی بات تو یہ کے برصغیر کہ لوگوں کے جینز میں ہی انقلاب اور بغاوت نہیں ہے ، یے لوگ ہمیشہ سے ہی خوشامد اور جی حضوری کی اسٹریٹجی پہ چلتے آئے ہیں ، یہ شاید دُنیا کا وہ واحد ختہ ہے جس نے ہر آنے والے قابض اور جابر حکمران کو باہیں کھول کر خوش آمدید کہا . انقلاب ہمیشہ غیرت مند قوموں کا مقدر بنتا ہے . میں اللہ کی ذات سے مایوس تو نہیں ہوں مگر ایک بات سوچ کہ ڈر بھی لگتا ہے اللہ فرماتا ہے جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران ان پہ مسلت کیے جائیں گے . تو الغرص شاید ابھی ہم نواز شریف کے ہی حقدار ہیں