Nazir Naji ke Haqeeqat

Posted on June 28, 2014



نذیر ناجی! آسمان صحافت کا درخشندہ ستارہ
تحریر: محمداصغر چوہدری
اردو صحافت میں قدیم ترین صحافیوں کی اگر ایک فہرست مرتب کی جائے تو محترم نذیر ناجی کا نام اس فہرست میں قدماء کے سرخیل کے طور پر نظر آئے گا۔ پاکستانی صحافت میں شائد چند ہی ایسے نام ہوں جو ان کے ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے کی جرأت کر سکیں۔ اگرچہ کچھ احباب اس فہرست میں منبع علم وحکمت محترم خلیفہ ہارون الرشید‘ ادیب بے بدل محترم عطاء الحق قاسمی ‘ اورآسمان صدق وعرفان کے درخشندہ ستارے محترم عرفان صدیقی جیسی نابغہ روزگار ہستیوں کے نام بھی شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن بلاشبہ ان سب کو ناجی صاحب سے وہی نسبت ہے جو چراغ کو سورج سے ہوتی ہے۔ یہاں ایک ضمنی وضاحت کرنا انتہائی ضروری ہے کہ کہیں قارئین میں سے کوئی اپنی کج فہمی اور ہماری کم علمی کی بنیاد پر محترم ناجی صاحب کی قدامت عمری کو ضعف عقلی اورقدامت فکری و نظریاتی سے تعبیر نہ کر بیٹھے ۔ فکر وخیال میں تو آپ انتہائی جدت کے قائل ہیں ۔ ہر لمحہ بہتر سے بہترین کی جستجو میں رہتے ہیں ۔اپنی تحریروں میں کچھ اس تیزی سے نت نئے خیالات اور زاویہ ہائے فکر ونظر متعارف کرواتے ہیں کہ کچھ زبان دراز و عاقبت نااندیش ناقدین سراسر اپنے خبث باطن کی بناء پر ان کے طرز صحافت کو یو ٹرن ‘ مفادپرستی اور زرد صحافت جیسے رذیل عنوانات سے تعبیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ان حاسدیں کے حسد کا پردہ چاک کرنا مقصود نہ ہوتا تو ہم یہ الفاظ بھی تحریر نہ کرتے ۔ لیکن ایسے لوگوں کو آئینہ دکھانا بھی تو ضروری ہے ۔ بھلا یہ کیسا طرز تخاطب ہے کہ کچھ لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ ہمارے ممدوح کو گرگٹ تک سے تشبیہ دینے لگتے ہیں ۔ کہاں گرگٹ اور کہاں ناجی صاحب۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔
اگر ہر دور میں وہ صاحبان اقتدار کی تھوڑی سے تعریف کر دیتے ہیں تو اس میں اتنی برائی ہی کیا ہے ۔اب کوئی بتائے کہ ہر حکمران میں کوئی نہ کوئی خوبی تو پائی ہی جاتی ہے ۔ اور اگر اسی خوبی کو کوئی اپنی تحریروں میں بیان کر دے اور اس کے بدلے میں وہ حکمران ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک آدھ پلاٹ یا نقد وجنس ان کی خدمت میں پیش کر دے تو اس پر ناراضگی کا اظہار کرنا‘ طرح طرح کے الزامات عائد کرنا اور ان کی ذات پر رقیق حملے کرنا کہاں کی شرافت ہے ۔کیا اتنی طویل صحافتی خدمات کے بدلے ان کا اتنا سا بھی حق نہیں بنتا۔ کیا ہوا جو دو چار پلاٹ انہوں نے حاصل کر لئے ۔ یہاں پر تو ایسے سیاست دان بھی ہیں جو ٹی وی کے شوز میں بیٹھ کر کھلم کھلا کرپشن تک پر اپنا حق جتلاتے نظر آتے ہیں اور عوام پھر بھی انہیں ووٹ دے کر بار بار اسمبلیوں میں بھیج دیتے ہیں ۔ تو ایسے میں دو چار پلاٹ اور وہ بھی طویل صحافیانہ خدمات کے اعتراف میں مختلف حکومتوں کے انتہائی اصرار پروہ بھی ان کا دل رکھنے کے لیے اگر قبول کر بھی لئیے تو کونسی قیامت آگئی ۔ کچھ لوگ تو اس حد تک گر جاتے ہیں کہ فون اٹھا کر سیدھے وضاحت طلب کر نے لگتے ہیں کہ آپ نے فلاں حکومت سے فلاں فلاں شہر میں قیمتی پلاٹ کیسے اور کیوں لئے ۔ یہی نہیں گھٹیا پن کی انتہا کہ ساتھ فون ٹیپ بھی کرتے ہیں اور اسے ناس مارے سوشل میڈیا پر بھی عام کر دیتے ہیں ۔ اور اگر اس بدتمیزی پران کی گوشمالی اور محض تربیت کی غرض سے چند ادبی قسم کی گالیاں عطا ہو جائیں تو بجائے احسان مند ہونے کے گھٹیا پراپیگنڈے پر اتر آتے ہیں ۔ ہم نہیں کہتے آپ خود ہی یوٹیوب پر وہ فون کال سن کر فیصلہ کریں کہ ایسی کونسی غلط بات ہے جو آپ نے کہہ دی کہ سب لٹھ لے کر ان کے پیچھے ہی پڑ گئے ۔
محترم نذیر ناجی صاحب کی کن کن خوبیوں کو بیان کروں۔ آپ کی تحریر کی خوبیوں کا تو ایک زمانہ معترف ہے ہی لیکن ذاتی اعتبار سے بھی آپ اسم بامسمی ہیں ۔ نذیر بھی ہیں اور ناجی بھی ۔ نذیر ڈرانے والے کو کہتے ہیں ۔ یہ خوبی ان کے کالموں میں نمایاں نظر آتی ہے ۔ جس طر ح سے وہ مختلف ادوار میں حکومت مخالف سازشیوں کی سازشوں کے پردے چاک کرتے ہیں اور ان پر اپنی تحریروں کے تیر برساتے ہیں بڑے سے بڑا تیر باز بھی دشمن کے دل میں اپنی دھاک نہیں بٹھا سکتا جتنا خوف ان کی ایک تحریر مخالفوں کی صفوں پر طاری کر دیتی ہے ۔یوں وہ دشمن کے لیے سراپا نذیر اور دوستوں کے لیے سراپا نجات ہیں۔شائد اقبال نے انہیں کی خوبیوں کے اعتراف میں یہ شعر کہا تھا۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم—- رزم حق وباطل ہو توفولاد ہے مومن
اب ایسے میں زبان دراز مخالفین کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق انہیں سرکاری درباری صحافی کے طعنے تو دیں گے ہی ۔ ایک تازہ مثال ہی لیجئے ۔ ماڈل ٹاؤن میں حکومتی سرپرستی میں پولیس کی دہشت گردی کا پردہ جس خوبی سے انہوں نے اپنے کالم بعنوان لاہور میں کیا ہوگیا؟ میں چاک کیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ ہے کوئی صحافی جو اتنی جرأت کا مظاہر ہ کرسکے ۔ آپ نے اس تحریر میں جہاں پاکستان عوامی تحریک کے ورکرز کی امن پسندی کی کھل کر تعریف کی وہیں ماڈل ٹاؤن سانحہ میں ہلاکتوں پر حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ۔ یہی نہیں انہوں نے گلو بٹ چھا گیا کے عنوان سے ایک اور کالم تحریر فرمایا اور حکومت اور پولیس کے چھکے چھڑوا دئیے ۔ حکومت کی اس سازش کا بھی پردہ چاک کر دیا کہ کیسے اس نے دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور قومی اتفاق رائے کو پارہ پارہ کرنے کے لیے یہ انتہائی دہشت گردانہ کاروائی کی ۔
اور دیکھیے بجائے شکر گزار ہونے ‘ ان تحریروں پر تعریف کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر حکومت وقت کی گوشمالی کے عوض ان کو اعزازات سے نوازنے کے ‘ ان کوہی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ وہ بھی فقط اس بات پر کہ انہوں نے اپنے تازہ ترین کالموں میں اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرتے ہوئے حکومتی دہشت گردی کا دفاع کیوں کیا۔ایک صاحب تو اس حد تک چلے گئے کہ اس کو ہاتھی کے سائز کا یوٹرن قرار دے دیا ۔ اور کچھ مخالفین تو ساری حدیں ہی پھلانگ گئے اور انہیں قلمی دہشت گرد تک کہہ ڈلا۔
ارے بھئی اگر وزیر اعلی پنچاب عرصہ دراز کے بعد قدم بوسی کرے گا اورعظمت قلم کے اعتراف میں قلم کی قربان گاہ پر چڑھاوا بھی چڑھا دے گا تو قلمی دیوتا کیا اس کی اس ذرا سی غلطی کو بھی معاف نہیں کر سکتے ۔ انسانی جانوں کا کیا ہے ۔ آخر سب نے ایک دن اس جہان فانی سے کوچ کر جانا ہے ۔ کیا ہوا جو سو یا سوا سو لوگ اپنے ہی محافظین کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ۔کوئی بھارتی فوج کے ہاتھوں تو نہیں مارے گئے۔تنزیلہ اور شازیہ کی اپنی ذمہ داری بھی تو بنتی ہے یا نہیں ۔ یوں بے دھڑک ہو کر بندوق کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے تو انجام کچھ ایسا ہی ہوگا اور پھر یہ تو حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لیے تھا۔ آخر حکومتی رٹ کی بھی تو کوئی توقیر ہوتی ہے یا نہیں اور حکومت بھی ایسی دیالو جو صرف چند کالموں کے عوض پلاٹوں کی بارش کر دے۔ ایسی حکومت کی مخالفت کرنے والے غنڈے اور بدمعاش نہیں تو اور کیا ہونگے ۔ پولیس کیجانب سے آسمان کے رخ چلائی جانے والی گولیوں کے سامنے کوئی خود ہی اڑ کر آجائے تو اس کا تو کوئی علاج نہیں ۔ اس پر حکومت کا کیا قصور۔ شہباز شریف اور نوازشریف کو قاتل اعلی قرار دینا کہاں کا انصاف۔ اب ان شرفاء معصومین کی طرف سے بھی کسی کو کچھ لکھنا ہے یا نہیں۔
نذیر ناجی صاحب کوئی مانے یا نہ مانیں ہم تو آپ کی سچائی کے معترف ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔اور دعاگو ہیں کے اللہ تعالی آپ کو حاسدیں کے حسدسے محفوظ رکھے اور آپ کے قلم کو یونہی حق اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آپ کا اقبال بلند اور بینک بیلنس اس سے بھی زیادہ بلند ہو۔ آمین!