مہنگے امرود ، سستی جان

Posted on June 20, 2014



میں آج جو لکھنے جا رہا ہوں شاید میں کبھی بول کہ یہ باتیں نا کہہ سکوں میری زُبان میرا ساتھ نہیں دے گی اور شاید بات سنانے سے پہلے ہی میرے آواز بھرا جائے اور میری آنکھیں نم ہوں جائیں . 17‬ جون کو ہم سب نے جو اپنی ٹیلیوژن سکرینز پہ دیکھا اس سب کے بعد میرا انسانیت سے اعتبار اٹھ گیا ہے . یہ کون لوگ ہیں ؟ کیسے کسی کو اتنی آسانی سے مار سکتے ہیں؟ کیا یہ نہیں سوچتے کہ انکی ایک گولی ایک ہنستا بستا گھر اجاڑدے گی . ایک بچہ جنم دینے کے لیے ماں کتنی تقالیف سے گزرتی ہے ، جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اس کی دن رات دیکھ بھال کرتی ہے ، اپنی زندگی بھولا کہ ہر وقت اس کا دھیان بچے کی طرف ہوتا ہے کہیں گر نا جائے، ، کہیں کچھ اُلٹا سیدھا نا نگل لے ، خود گیلے پہ سوتی ہے پر بچے کو سوکھے پہ سلاتی ہے ، جب وہ تھوڑا جوان ہوتا ہے تو اس کا كھانا ،اس کے کپڑے ، اسکی پڑھائ، اس کی ہر چیز کا خیال رکھتی ہے . اپنی ساری زندگی اس نام کر دیتی ہے . باپ دن بھر بیل کی طرح کام کر کے ، اپنی سب خواہشات کو صلب کر کے ، ایک ایک پائی جوڑ کے اپنے بیٹے پہ خرچ کرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کے میرا بیٹا میرے حصے کا آرام اور آسائشیں حاصل کرے گا . اور یہ فرعون اور یزید نما لوگ صرف ایک گولی سے وہ سب خواب ، وہ سب محنت چکنا چور کر دیتے ہیں . . . . یہ کیسے لوگ ہیں؟ ، یہ کس خمیر سے بنے ہیں؟ ،درندہ ان کہ لیۓ بہت چھوٹا لفظ ہے اور یہ استعمال کروں تو شاید درندنے بھی برا مان جائیں . . . . جہاں پولیس والے اِس کہ ذمہ دار ہیں وہاں رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف ان سے بڑھ کے ذمہ دار ہیں اور یہ اِس سارے منصوبے کے ماسٹر ماينڈ ہیں . . . . . جہاں ساری قوم نے ان کی ننگی اور سفاق بربریت دیکھی وہاں ان کے جھوٹ اور ان کی مکاری بھی عوام کو صاف نظر آئی . رانا صاحب کہنے لگے کے منہاج ال قرآن نے بیرئر لگا کے نو گو ایریا بنا رکھا تھا اوران کے مرکز میں اسلہ بھی بھاری تعداد میں موجود ہے . . . میرا رانا صاحب سے سوال ہے کے تمہاری طرف سے چلتی ایک ایک گولی کیمرے نے دکھائی پر تم نے میڈیا کو وہ اسلہ کیوں نہیں دکھایا جو تم نے وہاں سے برامد کیا . اور بیرئر اور نو گو ایریہ اِس پہ میں کیا کہوں . . . جہاں دہشت گردی کا یہ عالم ہے کے ملک کے ایئر پورٹ محفوظ نہیں ہیں وہاں بیرئر نا لگیں تو اور کیا گلی کے باہر ” خوش آمدید طالبان ” کا بورڈ لگایا جائے . . طاہرالقادری تو پِھر دہشت گردی کا سب سے بڑا مخالف ہے ان کے گھر کے باہر تو بیرئر سمجھ آتا ہے تم تو ان کے پیٹی بھائ ہو تم کیوں بیرئر لگاۓ بیٹھے ہو ؟ . پاکستان کا یے عالم ہہ کہ شاید یہ دُنیا کا واحد ملک ہو جہاں ہر تیسری گلی میں گیٹ لگا ہے . خود میری گلی میں گیٹ لگا ہے جہاں پرائیویٹ سکیورٹی بیٹھی ہے . . . اور تمہاری درندہ صفت پولیس کہ سہارے بیٹھے ہوتے تو پتا نہیں کب کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے . شہباز صاحب بولےمجھے پتا نہیں چلا . . . یہ بھی کیا خوب کہا آپ نے، آپ نے تو وہ شعر سچ کر دکھایا ” جب اپنے محافظ سوتے ہوں ، تو شورو شکوہ کیسے ہو ؟ ” . لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کے خادم اعلی بے خبر تھے . خادم اعلی کہنے لگے مجھے تو نو بجے پتہ چلا ہے مگر شہباز صاحب ساری ہلاکتیں تو نو بجے کے بعد ہوئیں . جب پتہ چل گیا تھا تو روکا کیوں نہیں شام تک کا انتظار کیوں کیا . کیا وہاں مرنے والوں کی جانیں مریم اور حمزہ سے کم تھیں؟ . مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب کسی بیکری والے نے آپ کی بیٹی کو کیک دینے سے انکار کیا اور کہا کے ابھی دکان بند ہے تو آپ نے اس شخص کا وہ حال کروایا کے خدا کی پناہ۔ یہاں لوگوں کی بیٹیاں مرتی رہیں اور تم معصوم بننے کی اداکاری کرنے شام کو ٹی وی پہ پہنچے اور آرڈر کیا کے انکوائری ہوگی 4 ، 2 پولیس والوں کو معتل کیا ( جو کہ دوبارہ بَحال کر کے او- ایس- ڈی بنا دیئے ) اور یہ جا وہ جا . ابھی کچھ دن پہلے آپ کہ باغیچے سے امرود چرانے والے دو پولیس اھلكاروں کو آپ نے معتل کیا جو اب تک بَحال نہیں ہوئے . میں پوچھتا ہوں کیا ان لوگوں کی جان کی قیمت دو امرود سے بھی کم ہے . اے خادم اعلی آپ کو دیکھ کہ تو اب جنرل ڈائر بھی معصوم لگتا ہے . آپ نے تو یزید اور فرغون کے زمانے کی یاد دلا دی . اور مائیں بہنیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں . ایک میڈیا کی ویڈیو جس میں ایک عورت شہید ہو جاتی ہے اور پاس کھڑا شخص کہتا ہے “ہائے اللہ میری بہن فوت ہوگئی ” یہ ویڈیو دیکھ کہ کوئی پتھر سے پتھر شخص بھی یہ کہے گا کے ظلم کی انتہا ہو گئی ، ماڈل ٹاؤن لاہور ایک قیامت بَپا کر دی آپ نے . اب بھی وقت ہے قوم اب ان مکروہ لوگوں کو پہچان لے اور اِس ظلم کی اندھیر نگری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ختم کر دے اب دعاؤں سے کام نہیں چلنے والا . اِس ذلت کی زندگی سے موت اچھی . میں قوم سے پوچھتا ہوں آخر کب تک کب تک ظلم سہتے رہو گے آج کسی اور کی بیٹی ہے کل تمہاری بیٹی ہوگی آج وہاں کسی اور کی ماں تھی اللہ نا کرے کل وہاں تمہاری ماں بھی ہوسکتی ہے ۔ ان لوگوں کی جُرات کو سلام ہے جو باطل کے سامنے ڈٹ گۓ اور انہیں یہ دکھا دیا کے تم سَر کاٹ تو سکتے ہو پر جھکا نہیں سکتے . ابرار صاحب کہتے ہیں

سَر جلائیں گے روشنی ہوگی
اس اجالے میں فیصلے ہوں گے
روشنی بھی خون کی ہوگی
اور وہ فاقہ کش قلم
جس میں جتنی چیخوں کی داستانیں
لکھنے کی آرزو ہوگی
نا ہی لمحہ قرار کا ہو گا
نا ہی راستہ فرار کا ہو گا
وہ عدالت غریب کی ہوگی
جان اٹکی وزیر کی ہوگی
جس نے بیچی قلم کی طاقت
جس نے اپنا ضمیر بیچا ہے
جو اب دکانیں سجائے بیٹھے ہیں
سچ سے دامن چھڑائے بیٹھے ہیں
جس نے بیچا عذاب بیچا ہے
مفلسوں کو سَراب بیچا ہے
دن کو بے حساب بیچا ہے
اور کچھ نے روٹی کا خواب بیچا ہے
اور کیا کہیں ہم كے قوم کو اس نے
کس طرح بار بار بیچا ہے
فیض و اقبال کا پڑوسی ہوں
اک تڑپ میرے خون میں بھی ہے
آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا
اک مہک میرے چار سو بھی ہے
جھونپڑی كے نصیب بدلیں گے
پِھر کہیں انقلاب آئے گا ،انقلاب آئے گا
انقلاب انقلاب انقلاب انقلاب
، ، ،
لٹے ہوئے ، پسے ہوں کا وقت انتقام ہے
اب تو قاتلوں کا وقت اختتام ہے
عام آدمی كے ہاتھوں میں اقتدار آئے گا
بے قصور کا خون رنگ لائے گا
دیس کی رگوں میں رقص زہر بےشمار ہے
اٹھوبھی دوستو كے تم کو کس کا انتظار ہے
انقلاب انقلاب انقلاب انقلاب
، ، ،