سانحہ منہاج القرآن۔۔اور حکومتی قلابازیاں

Posted on June 18, 2014



گلو بٹ ۔۔۔ اور پنجاب پولیس
کل میں نے جیسے ہی خبریں سننے کے لیے ٹی وی آن کیا تو پولیس کا ایک بڑا ریلا ہاتھوں میں ڈنڈے لیے منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ کے طرف کسی طوفان کی طرح جا رہا تھا اور مجھے جھٹکا اس وقت لگا جب میری نظر ایک بدمعاش نماں آدمی (گلو بٹ) پر گئی جو ھاتھ میں ایک خوفناک ڈنڈا لیکر اس پولیس اٹالے کے سب سے آگے تھا اور اس نے ایک نعرا مارا اور حملہ کا اغاز کردیا اور میں اس حیرتناک لمحے سے نکل ہی نا پایا تھا دیکھا کہ پولیس اٹالے نے بھی اسی ہی بدمعاش کے اسٹائل میں نعرا مارا اور پیش قدمی کردی اور پھر کیا تھا جو کیمرے کے آنکھ نے دکھایا میں نے آج تلک ایسا نہیں ہوتے دیکھا۔ لوگوں کو بے دردی سے مارا جارہا تھا جو بھی ان وحشیوں کے ہتھے چڑھ رہا تھا اس پے ایسے ڈنڈے برسائے جارہے تھے کہ میرا دل کانپ رہا تھا۔ میں سارا دن ٹی وی کے آگے پتھر بن کر بیٹھا ہی رہ گیا اور اس جمہوریت پے ماتم کرتا رہا۔ میں نے یہ نظارا بھی دیکھا کہ ایک پولیس والا گئس کے گولے سیدھے فائر کر رہا تھا اگر اس کی زد میں کوئی بھی آجاتا تو اس کے جان بحق ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری ہوچکا ہوتا۔ میں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک پولیس اھلکار ایک کونی میں کھڑا اپنی رائیفل سی بلکل نشانہ باندھ کر گولیاں چلا رہا تھا اور اس کو دوسرے پولیس والے کوور دیکر کھڑے تھاے۔ اور حکومت اور پولیس یہ دعوا کر رہی تھی کہ وہ غیر قانونی رکاوٹیں ہٹا رہی ہے، لیکن غیر قانونی رکاوٹیں تو راستے پے تھٰیں تو میں نے یہ نظارا کیسے دیکھا کہ کچھ پولیس اھلکار طاہر القادری کی چھت پر کھڑے تھے اور نیچے لوگوں پر نشانے بازی کر رہے تھے۔ اور میں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ گلو بٹ گاڑیوں کے شیشے ایسے توڑ رہا تھا جیسے کوئی پاگل ہاتھی ہو اور پولیس اھلکار ایسے اس کی نگرانی کر رہی تھی جس وہ کسی نیک کام میں مصروف ہو۔ جو کچھ ہوا وہ تو ہوا لیکن حادثے سے بڑہ کر حادثہ یہ ہوا کہ رکا نہیں کوئی دیکھ کر۔ جو اس کلیش میں پولیس اھلکار معمولی بھی زخمی ہورہا تھا اس کو ۱۱۲۲ والے ایمبولنس میں بڑے احترام سے لٹا کر اسپتال لیکر جا رہے تھے اور میں یہ دیکھر حیرت میں ڈوبتا چلا گیا کہ جو مظاھرین میں سے زخمی ہوتا جار رہا تھا اس کو بیدردی سے ڈنڈے مار مار کر پولیس کی گاڑیوں ٹھونسا جا رہا تھا اور وہ ادھر ہی سسک اور بلک رہے تھے۔
میرے پاکستانی بھائیو! مجھے پاکستانی کہلانے میں شرم محسوس ہو رہی کہ میں ایک ایسی قوم کا حصہ ہوں جو بلکل بے حس ہے اور ظالم ہے، اور اتنا بڑا ظلم دیکھتے ہوئے بھی سڑکوں پے نا نکل سکی۔ اگر کوئی دوسرا ملک ہوتا تو وہاں اب تلک حکومت مستعفی ہوچکی ہوتی اور جنہوں نے یہ کالا دھندہ کیا ہے وہ جیل میں پڑے ہوتے، لیکں یہ پاکستان ایک ایسا جنگل بن گیا ہے جہاں رہنے والے کچھ وحشی جانور ہیں اور دوسرے بھیڑیں اور بکریاں ہیں جن کو وہ وحشی جانور کھا رہے ہیں۔ پھر شام ہوگئی اور حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آنا شروع ہوئے کہ الامان والحفیظ۔ ۔ پولیس کے بارے جو یہ مشہور ہے کہ وہ رسی سے نانگ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اور اگر چاہے تو ھاتھی کو بھی ہرن بنا کر پیش کر سکتی ہے، کہ مرکز سے اسلحہ ملا ہے۔ پولیس پے پہلے فائرنگ ہوئی ہے۔ پولیس پے پئٹرول بم پھینکے گئے ہیں۔ اور دوسرے کئی ایسے جھوٹ کہ میں حیران ہوں کہ یہ حکمران اب تک عذاب الاھی سے کیونکر بچے ہوئے ہیں! اللہ کا قھر ان پر کب ٹوٹیگا! اور یہ کہ یہ قوم کب جاگے گی! اس میں کب یہ طاقت آئے گی کے ان گلو بٹ والوں کے آگے کھڑے ہوجائیں!
میں سارا دن ٹی وی چینلز دیکھتا رہا، مجھے تو کوئی پئٹرول بم نظر نا آیا، مجھے مظاہرین کے ہاتھوں میں سوا لاٹھی وہ بھی کچھ افراد کے پاس نظر آرہی تھی باقی لوگ تو صرف پتھر مار رہے تھے۔ کیا یہ جمہوریت ہے کہ پتھر کے بدلے گولی مارو وہ بھی نشانا باندھ کر؟ کیا جمہوریت یہ ہے کہ جھوٹ پے جھوٹ بولو؟ مجھے کوئی بتائے کہ جو میڈیا پے پولیس دعویٰ کر رہی تھی کہ ایک پولیس آفیسر یا کانسٹیبل مارا گیا ہے ہو مارگیا پولیس مین کدھر ہے اس کی جنازہ نماز کہاں پڑہی گئی؟ کوئی ہے جو مجھے بتائے کہ یہ خون کی جو ھولی کھیلی گئی اس کے محرکات کیا تھے؟ حکمرانوں شرم کرو اللہ کے قھر سے ڈرو! وہ وقت قریب ہے جب تم کو جواب دینا پڑیگا! وہاں تمہاری عدالت نہیں ہوگی۔ اللہ کی عدالت ہوگی! اللہ کی عدالت ہوگی! اللہ کی عدالت ہوگی! اور تم کو حساب دینا پڑے گا! حساب دینا پڑیگا! کوئی جھوٹ نہیں چلے گا۔ تم سے ۲۰ کروڑ عوام کا حساب لیا جائے گا پھر کدھر جائوگے؟ ہاں بتائو اللہ کی عدالت میں کیا جواب دوگے؟ نہیں دے سکوگے۔ اے اللہ تو بڑا ہی انصاف کرنے والا ہے! اے اللہ ھم لوگ ان ظالموں سے نہیں لڑسکتے تو ھماری رھنمائی فرما اور ھم کو ھدایت و قوت عطا فرما (آمین)۔