التجا ہے بس کر دو

Posted on June 18, 2014



اسلام علیکم دوستو آج کا موضوع کچھ نیا نہیں ہے آپ سب اس سے بہت اچھی طرح واقف ہیں لکن ایک بات کا دکھ ہے ک ہم سب اس سے واقف ہونے کے باوجود بار بار ووہی غلطی دہراتے جا رہے ہیں .دوستو کا جاتا ہے کے ظلم کا ساتھ دینے والا بے ظالم ہوتا ہے کیا ہم نے کبھی یہ سوچا نہیں ہم ہمیشہ سے اپنے اپنے مفادات کے یچھے بھاگ رہے ہیں کبھی یہ نہیں سوچا کے کل کو یہ میرے ساتھ بے ہو سکتا ہے جو میں دوسروں کے ساتھ کر رہا ہوں ہم اپنے آج کی فکر میں اپنا کل بھول گے ہیں اور اپنے اندر ایسی برائیوں کو جنم دے دیا ہے جن کو اسلام سمجھ کر کرتے ہیں لکن حقیقت میں وہ اسلام نہیں بلکہ ہمارے اپنے ذھن کی اخترا ہے .کہا جاتا ہے فرعون اور قا روں بہت طاقتور تھے جب موسی علیہ ہسلام نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو وہ موسیٰ علیہ سلام کے مخالف ہو گیا وہ یہ سمجھتا تھا کے وہ بہت طاقت والا ہے یہاں تک کے وہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا لکن دیکھے جب الله کی پکڑ میں آیا تو الله پاک نے اسی دریا میں ڈبو کر سری زندگی ک لئے انسانوں کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا یہی حال قرون کا تھا کہا جاتا ہے کے قرون اتنے بڑے خزانوں کا مالک ہے کے اس کے خزانوں کی چابیاں ١٠٠ انتون پر لاد کر لائی جاتی تھیں وہ بے اپنی طاقت کے نشے میں اتنا مست تھا کے یہ بھول بیٹھا تھا کے ایک دن مرنا بی ہے اور اس کے حضور پیش ہونا ہے جو ان سب خزانوں کا مالک ہے دوستو ایک بات بتاتا چلوں کے کب تک بھاگو کے بہت جلد الله کی پکڑ انے والی ہے اور اس کی پاکر ایسی ہے کے کوئی بی اس سے بچ نہیں سکا اور نہ بچ سکے گا دوستو اس آرٹیکل میں میں دو باتوں کی طرف اشارہ کروں گا ایک عوام اور دوسرے حکمران اور اس بات کا تجزیہ کروں گا کے جب دونوں غافل ہو جائیں تو انجام کیا ہوتا ہے اس بات کی وضاحت کے لیا میں آپ کے سامنے بنی اسرایل کی اسی قوم کا ذکر کروں گا جس کو الله رب العزت نے فرعو ن کے قہر سے بچایا اور حضرت موسیٰ علیہ سلام کی رہنمائی میں دے دیا موسیٰ الله کے بہت پیارے نبی تھے الله سے ہم کلام ہونے کا معجزہ بے الله نے اپ کو دیا تھا اور وہ قوم جو آپ کو دی گیی وہ الله کی لاڈلی قوموں میں سے تھی یہ قوم حضرت موسیٰ کے ساتھ دریا کے دوسرے کنارے پر آباد ہووے یہ قوم بارہ قبیلوں میں تھی ان کے پاس پانی کے ایک چشمہ تھا جہاں سے یہ پانی پتے تھے اکثر آپس میں لڑتے اور یہ روز کا معمول بن گیا وجہ پوچھی گیی تو پتا چلا کے پانی پینے کا چشمہ ایک ہے جس کی وجہ سے لڑائی ہوتی ہے تو الله پاک نے ان کو بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ قبیلے دے دیے اسی طرح انہوں نے الله سے پکے ہووے کھانے کی ڈیمانڈ کی تو الله نے انھے من و سلوا دیا وہ دریا سے مچھلی کا شکار کرتے تھے الله نے انھیں ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے منع فرمایا انہوں نے کیا کیا ہفتے کے دن شکار چھوڑ دیا لکن دریا سے نالے بنا لیے دریا کے پانی کو ہفتے کے روز روک کر ان نالوں کے ذریعے حوضوں میں جما کر لیتے اور اگلے روز مچھلی پکڑ لّیتے الله نے اس سے بی منع فرمایا لکن وہ باز نہ آے پھر الله رب العزت نے اپنے عزاب کو ان پر مسلط کر دیا اور ان کی شکلوں کو بگھاژ دیا الله نے ان کو کیا کچھ نہیں دیا لکن الله کی نہ فرمانی کی وجھہ سے الله نے ان کی شکلوں کو بگھار دیا دوستو ہم سب الله کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کیا آج ہم الله کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں میرا سوال پاکستان کے تمام اداروں سے ہے کیا تم اسی مخلوق کا حصہ نہیں ہو کیا تم سب الله کی پکڑ سے باہر ہو کیا تمہارے اوپر الله کا عذاب نہیں آسکتا اگر الله کے عذاب سے نبیوں کی اولادیں بیویاں تک نہیں بچیں تم ہم لوگ کیا ہیں یہ ظلم جو ہم دوسروں پر کرتے ہیں در حقیقت ہم اپنے اوپر ہی کر رہے ہیں رشوت کے پیسے قبضے کی زمین افسر ہونے کے مزے کب تک لوٹو گے آخر ایک دن حساب تو دینا ہے یہی سوال حکمرانوں سے ہے کب تب اوم کے خون سے ہولی کھیلو گے گیا تم الله کے نبی سے زیادہ بڑے حکمران ہو کیا حضرت عمر حضرت علی اور حضرت معاویہ سے بڑے حکمران ہو اکھڑ ایسی کون سی بات ہے جس پر اتنا اتراتے ہو یاد رکھو اگر آج یہ چند سال کی حکمرانی کا نشہ ہے تو بھول جاؤ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ان غریب لوگوں کی حکمرانی ہو گی جن کو آج تنگ کرتے ہو ظلم کرتے ہو قتل کرتے ہو کل ان کا وقت ہو ان کا ہاتھ ہو گا اور تمہارا گریباں ہو گا اور یہ جان لو یہ لوگ کامیاب ہوں گے اور تم ناکام یہ دولت ڈگریاں وہاں کام نہیں انے والی میں زیادہ دور کی بات نہیں کرتا کدافی کا واقعیا تمہارے سامنے ہے اتنا ظلم نہ کرو کے کل تمہارا حساب الله پاک اسی دنیا میں تمام کر دے بے گناہ لوگوں کو قتل کر کے شرمندہ بے نہیں ہوتے بلکے الٹا انہی پر الزام لگا دیتے ہو ووہی لوگ جو یوم کو حکمران بناتے ہیں انہی پیسا لوٹ کر اپنے خزانے بھرتے ہو اور انہی لوگوں پر ظلم کرتے ہو جب بڑے بڑے طاقور لوگ نہیں رہے تو تمہاری کیا اوقات ہے خون غریب کا ہو یا امیر کا رنگ لال ہے ہوتا ہے ابھی بھی وقت ہے اپنے آپ کو حساب کے لیا پیش کر دو ورنہ بہت دائر ہو جائے گے تم زمین کے کسی بے کونے میں چپ جو کتنے ہے حصار بنا لو وقت تمہیں نہیں چھوڑے گا اور پھر الله کی طرف سے ہے پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ ہو گا میری التجا ہے الله سے معافی مانگ لو اور لوگوں پر ظلم نہ کرو پھر یہ نہ ہو مظلوموں کی اہیں الله کے عذاب کی شکل اختیار کر لیں الله پاک ہم سب کو