Responsibilities

Posted on June 16, 2014



اسلام علیکم : پیارے دوستو یہ میرا دوسرا آرٹیکل ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں . پیارے دوستو اپنے بچپن سے اب تک ایک چیز دیکھتے آ رہا ہوں ہم سب بشمول ہمارے سیاست دان ہم کوئی بی کام کریں خوا وہ ہماری ڈیوٹی ہو یا ہماری ذمداری ہم ہمیشہ اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں . مثال کے طور پرہم ووت ڈالتے ہیں یہ ہماری ذمداری ہے .ہم پارلیمنٹ چنتے ہیں اچھا کرتے ہیں .ہم نے ووٹ ڈالا اپنی ذمداری پوری کی شاباش . اب پارلیمنٹ منتخب ہو گی.اب کچھ ذمداریاں شروع ہو گئیں کس کی کچھ ہماری اور کچھ گورنمنٹ کی لکن جس ٹاپک کی طرف میں آپ کو لے کر جانا چاہتا ہوں وہ ہے کریڈٹ جو ہم سب کوشس کرتے ہیں لینے کی . آپ پوچھے گیں وہ کیسے ووٹ ڈالنا ذمداری، ڈیوٹی ،ok انڈرستود کوئی پارٹی جیت جائے تو ہم سب کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں میں نے ووٹ ڈالا تھا ہم نے یہ کیا وہ کیا عزیزو اسی طرح ہمارے چنے ہووے پارلیمنٹرین کرتے ہیں جب جیت جاتے ہیں تو ان کا انداز کیا ہوتا ہے دیکھیں پیسا ہمارا ٹیکس ہم دیں کریڈٹ کس کا اور وہ کیسے جب بی کوئی ترقیاتی کام کروائیں پیسا کس کا عوام کا اور نام کس کا ان امرا اور حکمرانوں کا جن کو ہم چنتے ہیں جس کی مصال مختلف راہوں اسکولوں میں آویزاں تختیاں ہیں پیارے دوستو آخر ایسا کیوں ہوتا ہے . جیسے ووٹ ڈالنا ہماری ذمداری ہے کیا عوام کے کام کرنا ہماری ہی چنی ہوئی حکومت کی ذمداری نہیں ہے اگر یہ ان کی ذمداری ہے اور عوام کا پیسا ہی ان پر خرچ کر رہے ہیں تو یہ تختیاں اور کریڈٹ کس بات کا کیا کبھی اس آدمی کا نام بی لکھا جس نے سب سے زیادہ ٹیکس دیا یا جس نے اپنی ذمداری کو پوری طرح نبھایا . نہیں دوستو ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا تو پیارے دوستو اس کا حل کیا ہے کے ہم سب کو اپنی اپنی ذمداری کا احساس ہو جائے دوستو اگر ہم چاہیں تو اس معاشرے کو ٹھیک کر سکتے ہیں کیوں کے وہ لوگ جو حکومت ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے جب تک ہم کچھ نہ کریں اگر ہم آج سے ارادہ کر لیں ک جھوٹ نہیں بولیں گے کسی کا حق نہیں ماریں گے رشوت نہیں لیں گے کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالیں گے کسی کو ناجائز تنگ نہیں کریں گے ہر ایک کی عزت کو اپنی عزت سمجیں گے ہمسایوں ک حقوق کا خیال رکھیں گے مشکل میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اپنے گلی محلے شہر اور ملک کو صاف رکھیں گے تو دوستو ہم اپنی ڈیوٹی اور ذمداری کو پورا کریں گے اسی طرح ہم اپنے حکمرانو کو بے راہ راست پر بی لے آئیں گے کیوں کے جب ہم خود غلط نہیں کریں گے تو کسی کو کرنے بی نہیں دیں گے خوا وہ کوئی اعلی افسر ہو یا ہمارا حکمران کیوں ک ذمدار اماندر اور سچے لوگوں کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا نہ ظلم کرتے ہیں نہ ظلم کو برداشت کرتے ہیں تو دوستو آج سے یہ ارادہ کر لیں ک خود کو سنوارنا ہیں اپنے ملک کو سنوارنا ہے اور اپنے اداروں اور حکمرانوں سو سنوارنا ہے دوستو یہ تب ممکن ہو گا جب ہم خود کو سنوار لیں گے .وہ اقبال نے کہا ہے کہ…… خودی کو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے . دوستو مجھے امید ہے کہ ہم سب مل کر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں میں انشا الله ابھی سے اپنے آپ کو درست کرنے کا ارادہ کرتا ہوں آپ سب بی ارادہ کر لیں انشا الله ہم بہت جلد اپنے ملک کو سنوار لیں گے انشا الله . الله آپ سب کا حامی و ناصر ہو اسلام علیکم