Pegham e Mohabbat

Posted on June 16, 2014



پیارے دوستو آج ایک اور نۓ موضوع کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں . ہر طرف سے آوازیں آ رہی ہیں بہت سی صدائیں بلند ہو رہی ہیں . واویلا ہو رہا ہے ڈھونڈو ڈھونڈو کسی نے پوچھا کیا ڈھونڈو کیا ہوا کیا کھو گیا کیا ڈھونڈو کس کو ڈھونڈو آواز آئی کسی نے میرا بٹوا چھین لیا اس کو ڈھونڈو ادھر بھاگو ادھر بھاگوپھرآوازآی میرا بچا اغوا ہو گیا کوئی اس کو ڈھونڈو میرا گھر بار لوٹ گیا میرا سب کچھ لوٹ گیا کوئی اس کو ڈھونڈو کہیں سے آواز آئی کسی کی بیٹی نے پسند کی شادی کر لی گھر نہیں آئی اس کو ڈھونڈو کوئی ہسپتال میں بیٹھا ڈاکٹر کا انتظار کر رہا ہے اور کہ رہا ک ڈاکٹر کو ڈھونڈو کہاں ہیں ڈاکٹر اس کو ڈھونڈو آیا آیا ڈاکٹر آیا دوائی لکھ دی اور اب اس دوائی کو ڈھونڈو دوائی لینی ہے تو پیسا ڈھونڈو پھر آواز اتی ہے کسی کو کسی نے قتل کر دیا ہے کوئی امبولنس ڈھونڈو اس کو کون قتل کر گیا اس کو ڈھونڈو پولیس کہاں ہے اس کو ڈھونڈو پولیس ائی کہان ہے قاتل ڈھونڈو کسی کو پولیس نے بیگناہ پکڑلیا اب وکیل کو ڈھونڈو بچے اسکول میں اکیلے بیٹھے ہیں کوئی استاد جی کو ڈھونڈو آیا آیا استاد آیا اب کتابیں ڈھونڈو ڈھونڈو ڈھونڈو دنیا کا نقشہ ڈھونڈو الیکشن آ گے ہر طرف جلسےاور عوام ہے ڈھونڈو ڈھونڈو لیڈر ڈھونڈو ہوا الیکشن کوئی جیتا کوئی ہارا کوئی جیتا جیتنے والا ڈھونڈو ڈھونڈو وزیر ڈھونڈو ہارنے والا کس کا ووٹ کون ڈال گیا ڈھونڈو ڈھونڈو دھاندلی ڈھونڈو ہو رہا ہے شور ایسا لگ رہا ہے کوئی بمب پھٹا ہے اس کا بازو اس کا سر اس کی دوکان اس کی کا سماں ڈھونڈو ڈھونڈو وزیرداخلہ ڈھونڈو کہاں ہے صوبائی حکومت کہاں ہے وفاق اس کو ڈھونڈو ہر طرف ہیں اندھیرے چھائےکہان ہے بجلی کہاں ہے واپڈا کہاں ہیں وزیر پانی اور بجلی اس کو ڈھونڈو دے رہا ہے دوہائی کوی کھڑا عدالت میں کہاں ہے جج اس کو ڈھونڈو مل گیا جج اب انصاف ڈھونڈو ٹوٹ رہا ہے ملک کہاں ہے گورنمنٹ اس کو ڈھونڈو ہے پارلیمنٹ یہین وہ کہ رہے ہیں وزیر اعظم ڈھونڈو دے رہے ہیں سب دہائی اور کہ راہیں ہیں فوج سے تم ہی ہو سہارا تم ہی کچھ ڈھونڈو ہے میڈیا بڑا تیز وہ بی کھ رہا ہے کوئی بریکنگ نیوز ڈھونڈو ہیں پروگرامز چینل بہت کوئی کمرشل بی ساتھ میں ڈھونڈو ملک رہے نہ رہے تم کافروں سے بے پیسا ڈھونڈو ہیں مساجد بی خالی امام کہ رہا ہے کوئی مقتدی ڈھونڈو مقتدی کہ رہا ہے امام ڈھونڈو مر گیا ہے وہاں کوئی جنازہ اٹھانے والا ڈھونڈو لے آے ہیں قبرستان میں اب جنازہ پڑھانے والا ڈھونڈو ہر آنکھ نم ہے یہاں ہر دل سسکیوں سے بھرا ہے ہے بیچینی اور ماتم ہر طرف کوئی تو سکوں ڈھونڈو لکن نہ مل سکا تھک گے ڈھونڈ ڈونڈھ کر مگر ہے ایک راستہ اگر بات میری مانو ڈھونڈنا ہے تو خود کو ڈھونڈو اس مسلمان کو ڈھونڈو جو کھو گیا ہے کہیں شور مچانے سے کچھ نہیں ہو گا ہمیں ڈھونڈنا ہے اس کو جس کو ڈھونڈ لیا تھا ابوبکر نے جس ڈھونڈ لیا عمر خطاب نے جس کو ڈھونڈھ لیا عثمان نے جس کو ڈھونڈھ لیا حیدر کرار نے دوستو یہ سب مشکلیں ہماری اپنی پھیلائی ہوئی ہیں اور ہم سب کو مل کر ان کو ڈھونڈنا ہے اور ان کو ختم کرنا ہے ابھی بی وقت ہے وقت ہے اپنے آپ کو پہچان لو اور اس عذاب سے بچ جاو ورنہ بہت دیر ہو جاے گی پھر کہنا پڑے گا —-اب پچھتاے کیا ہوت جپ چڑیاں چگ گیں کھیت اللہ ہم سب کو اپنے آپ کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے آمین