طاہرالقادری بمقابلہ میڈیا

Posted on June 16, 2014



میڈیا کوریاست کا چوتھا ستون کہا جاۓ تو کچھ غلط نا ہو گا بلکہ یہ ریاست کا وہ واحد ستون ہے جس کی پکڑ سب سے کم ہوتی ہے .بس ہم جیسی چھوٹی چھوٹی آوازیں سوشل میڈیا پے ہی کھپ کھوپ ڈال سکتی ہیں . الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں ذیادہ ترایسے لوگ ہیں جن کو چینج یا انقلاب کا لفط برداشت نہیں ہوتا . اور جیسے ہی کوئی انقلاب یا تبدیلی کی بات کرتا ہے تو یہ لوگ اپنی اپنی آستنیں چڑھا کے اس کی وہ درگت بناتے ہیں کہ الامان الحفیظ . عمران خان اتنے عرصے سے میڈیا پہ آ رہے تھے کسی نے کچھ نہیں کہا مگر جیسے ہی ان نام نہاد اینکرز کو محسوس ہُوا کے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔انہوں نے اپنے اپنے خنجر تیز کر لئے اور ایک باقاعدہ آرگنائزڈ کمپین عمران خان کے خلاف لانچ کر دی . وہ عمران خان جو کبھی ہیرو ہُوا کرتا تھا اس کا کردارمشکوک بنا دیا گیا طرح طرح کے طعنے دیے گۓ۔ان کی نجی زندگی کو لے کے جو جو چیزیں اٹھائی گئیں کہ وہ بیان کرنے کے بھی قابل نہیں .اسی طرح دو ہزار بارہ کے آخر میں جب ڈاکٹر طاہرالقادری نے چینج کا نعرہ بلند کیا تو ان لوگوں نے قادری صاحب کے ساتھ جو کیا اس کی مثال بھی تاریخ میں نہیں ملتی . اسلام کے اتنے بڑے اِسْکالَرکا جس طرح ٹرائل کیا گیا ا یسا بھی ان آنکھوں نے پہلی بار دیکھا. یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا جرم کر دیا ڈاکٹر قادری اور خان صاحب نے . ؟
تو اس کا جواب یہ ہے ان کی حرام کی روزی روٹی پر لات مارنا بھی ایک جرم ہی تو ہے .ان اینکرز سے کوئ تو یہ پوچھے کے بھائی جو لوگ تیس تیس سال سے اقتدار پر قابض ہیں ، جن کا پورا پورا کنبہ اسٹیکر کی طرح پارلیمنٹ سے چپکا ہے ، جن لوگوں نے کرپشن کنگ اور کرپشن کوئین کا خطاب پایا ، جن لوگوں نے میرے ملک کے غریب سے روٹی چھین لی ، جن کی وجہ سے آج ملک دوالیہ ہونے کو ہے ان کے خلاف تو آپ کی لمبی سی زبان مبارک سے گستاخی کا ایک لفط نہیں نکلتا اور خان صاحب اور قادری صاحب کوآزمائے بغیر ہی مسترد کیوں کر دیا گیا؟ اور جب کوئی ان کرپٹ اور ظالم حکمرانوں کے خلاف کھڑا ہوتا ہےتو یہ ایسے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جیسے خواجہ سرا دولہے کے باپ کے پیچھے پڑ جاتا ہے . بات کچھ یوں ہے کہ خدا نخواستہ اگر غلطی سے انقلاب آ گیا تو یہ بھوکے مر جائیں گے . ان کی منتھلی اور الیکشن بونس ختم ہو جائیں گے ، ان کے دبئی کے فائیو اسٹار ولاز میں اُلو بولیں گے ، ان کو بی- ایم – ڈبلیو چھوڑ کے ہونڈا سٹی پہ سفر کرنا پڑے گا . اب ظاہر ہے جی آج کل جتنی گرمی پڑ رہی ہے ہونڈا کا آے سی تو پِھر اتنی کولنگ نہیں کرتا نا . قادری صاحب نے جب آواز اٹھائی تو ان لوگوں نے ایک ہنگامہ بَپا کر دیا . کبھی کہا گیا کہ جو کرا رہا ہے امریکا کرا رہا ہے ، کبھی کہا گیا فوج ان کے پیچھے ہے ، کبھی یہ سننے کو ملا کہ یہ سب زرداری کی سازش ہے . لوگوں کو اتنے وسوسوں میں ڈال دیا گیا کہ لوگ کنفیوز ہو گۓ . کسی سیانے انگریز نے کہا ہے کہ ،
(.If you can’t convince them,confuse them )
. اب ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ ہاں بھائی اب بتاؤ کون تھا قادری صاحب کے پیچھے ؟ .خیر قادری صاحب نے واپسی کا علان کر دیا ہے . میں کوئی نجومی تو نہیں ہوں مگر ایک طوفان بدتمیزی کی پہلے سے ہی پیشینگوئی کر رہا ہوں . بلکہ کچھ نے تو یہ کام پہلے ہی شروع کر رکھا ہے . ڈاکٹر طاہر ال قادری کے انقلاب کے راستے کی سب سے پہلی اور سب سے خطرناک رکاوٹ یہ اینکر پرسن ہی ہیں . ایک دو دن پہلے کیپیٹل ٹی وی پہ ایک محترمہ( جو کہ پہلے نیوز کاسٹر تھیں) جب ان کے سامنے قادری صاحب کا ذکر آیا تو انہوں نے خوب ناک منہ چڑھا کے ان کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار نہایت اوچھے اوربھونڈےانداز سے کیا . میرا ان سے سوال ہے کہ
باجی ! !!!! ! اس سے پہلے آپ ٹی . وی پہ خبریں پڑھتی تھیں ، اس کے بعد آپ اسپورٹس اینکر رہی ہیں، ایک پرائیویٹ اور تیسرے درجے کی یونیورسٹی سے آپ نے بی- اے آنر . کیا ہے جس یونیورسٹی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ نمبر ہوں نا ہوں نوٹ ہوں داخلہ مل جائے گا ، عقل کل تو آپ ایسے بن رہی ہیں جیسے
Howard
سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سی-این-این پہ پچیس سال پولیٹیکل اینلسٹ رہی ہوں . جس شخص کا آپ تمصخر اُڑا رہی ہیں اس شخص نے بارہ سو سے زیادہ کتب تحریر کی ہیں جتنی شاید آپ نے پوری زندگی میں نا پڑھی ہوں . ان کی آرگنائزیشن منہاج ال قرآن کا نیٹ ورک نوے ممالک میں پھیلا ہے آپ شاید زبانی بیس ممالک کے نام بھی نا سنا پائین .محترمہ نہایت ادب سے گزارش ہے کہ تجزیہ کریں، تنقید بھی کریں مگر کم ازکم انسان کو انسان تو سمجھیں ۔آخر میں ایک بات ضرور کرنا چاہوں گا کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں میڈیا میں چند ا یسے بھی اینکر ہیں جو اپنا کام نہایت ایمانداری اور لگن سے کرتے ہیں ان لوگوں کی اگر تعریف نا کی جائی تو وہ بھی نا انصافی ہوگی .

By Muhammad Haris Maqsood