نواز شریف ھم پر رحم کرو!

Posted on June 15, 2014



وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے واعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر نا کرپشن کرینگے نا ہی کسی کو کرنے دینگے اور جو پی پی پی کی گورنمینٹ نے لوٹ مار کی ہے ان سے سختی سے حساب لیا جائےگا لیکن جب اقتدار میں آئے تو وہ ہی پالیسی اپنائی کہ نا کسی کا احتساب کرنا ہے نا کسی کو احتساب کرنے دینا ہے۔ اور صرف اپنی حکومت کو بچانے کے لیے بندر بانٹ کا بازار لگا دیا۔ میرے پیارے وزیر اعظم صاحب ایسا کرنے سے حکومت نہیں بچ سکتی اگر ایسا ہوتا تو آپ کی حکومت ۱۹۹۹ میں نا چھینی جاتی لیکن تب بھی کچھ آپ کی غلطیاں تھیں اور اب بھی آپ کچھ غلطیاں کرتے جا رہے ہیں اور یہ ہے سبب ہے کہ آپ اکثریت رکھتے ہوئے بھی لرز رہے ہیں۔ جس زلزلے نے آپ کی حکومت کو آلیا ہے اس کو ٹالنے کا واحد حل اس غریب عوام پے رحم کرنا ہے، کیونکہ تم زمین والوں پے رحم کرو تو اوپر والا تم پے رحم کریگا۔ یہ جو ہم پاکستانی مختلف شدید قسم کی مشکلات اور مصیبتوں میں پڑے ہوئے ہیں ان میں ھمارا اپنا کردار بھی ہے تو آپ جیسی حکمرانوں کا کردار بھی ہے کہ وعدے کچھ کرتے ہو اور اقتدار میں آکر کچھ اور کرنے لگتے ہو اور عوام کو اسی ہی کرپٹ نظام کے سپرد کردیتے ہو۔ تو خداارا اپنے آپ کو بھی بچائو اور اس غریب عوام کو بھی بچائو ورنہ وہ دن دوار نہیں جب تمہاری اور ہم عوام کے کرتوتوں کی وجہ سے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اگر آپ سے حکومت نہیں چل سکتی تو خدارا کسی اھل آدمی کے حوالے کرو اور خود اپنا بزنس کرو۔ آپ اسلام آباد میں شہنشاہ بن کر بیٹھ گئے ہو اورمختلف صوبوں کو ریاستوں میں تبدیل کرکے وہاں کی عوام کو ظالموں کے حوالے کردیا ہے۔ میں اس میں صوبے کے پی کے کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ وہاں کے حالات بلکل الگ ہیں اور وہ صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور اس میں قائم حکومت کو فی الحال کوئی الزام دینا انصاف کی بات نا ھوگی۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ عمراں خان کی طالبان کے ساتھ مکالمے والے بات اب بے معنی ہوگئی ہے اور اس کو اپنی اس بات سے اب کچھ پیچھے ہٹنا چایے، لیکن جو کچھ ھم سے بھارت کر رہا ہے اور ھمارا وزیر اعظم مودی کو پریم پتر لکھ رہا ہے یہ بھی بات سر سے اوپر گذرنے والی ہے۔ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں سب سے زیادہ حصہ بھارت کا ہے جس پے ھمارے حکمران کچھ کر نہیں رہے۔ کراچی میں جو ایئر پورٹ پے واقعہ ہوا اس میں تو بھارت کا اسلحلہ ملا ہے ذرا سوچیے کہ اگر ایسا ہی بھارت میں ہوتا تو پھر کیا ہوتا۔ صوبہ سندہ کے عوام تو بلکل بیچ دیے گئے ہیں یہاں جو کرپشن کا راج ہے اس کا بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہاتھ کے کنگن کو آرسی دکھانا، پورے صوبے میں ایک بادشاھت قائم ہے جس کو کوئی چیلنج ہی نہیں کرسکتا ۔ اور ھماری وفاقی حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے اور صرف اپنی حکومت کو دوام دینے کے لیے کسی بھی ایسے طاقت وار پے ہاتھ اٹھانے کی جسارت نہیں کر سکتے جس کے پاس کچھ میمبر یا کچھ ایسی طاقت ہے جو ان کی حکومت کو کوئی زک پنہچاسکتی ہو اور اس کا راز یہ بھی کہ سینیٹ میں ان کی اکثریت ہے اور حکومت کو وہاں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن خدارا عوام کو رلیف دلائو تو یہ مزاحمت وغیرہ ساری دڈھیلی پڑ جائیگی کیونکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں نا کہ کچھ افراد۔ نواز شریف کے لیے کچھ مفید اور مفت مشورے اگر اس پے آج سے عمل کرنا شروع کردے تو جو آنے والی مشکلات ہیں ان میں کافی کمی ہوسکتی ہے۔ ۱۔ فوج دشمنی ترک کرنا ھوگی۔ ۲۔ پرویز مشرف کو فی الحال جانے دو۔ ۳۔ عوام کو رلیف دو۔ ۴۔ کرپٹ عناصر کے خلاف بے رحم مھم چلائو۔ ۵۔ عمران خان کے مطالبوں کو مان کر الیکشن کمیشن کو تحلیل کرو اور ۴ حلقوں میں انگوٹھے چیک کرواکر اس کا مداوا کرو۔۶۔ دھشت گردی کی خلاف مھم میں فوج کا بھرپور ساتھ دو۔ ۷۔صوبوں پے نظر رکھو ان کے عوام کو ان حکمرانوں کے رحم و کرم پے مت چھوڑو۔ ۸۔ ظاھر القادری کی تحریک کو ہر گز نظرانداز نہ کرنا ورنہ پچھتانا پڑےگا اور اس کے ۱۰ نکاتی ایجنڈے پے کوئی تھنک ٹینک بٹھائو ان میں سے جو قابل عمل ہیں ان میں خود کام شروع کردو ایسا نا ہو کہ کوئی دوسرا آکر اس پے عمل کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عاقل را اشارہ کافی است!