ڈھائ کلو انقلابی اور رانا صاحب

Posted on June 7, 2014



جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں اس وقت ایم کیو ایم کا دھرنا کراچی میں جاری ہے . یہ دھرنا چار دن سے جاری ہے اور ایم کیو ایم سے تمام اختلافات کے باوجود ان کے کارکنان کو سلام پیش کرنے کو دِل چاہتا ہے . اب یہ دیکھنا بھی کافی دلچسپ ہو گا کے ایم کیو ایم کا کارکن اِس مشکل امتحان سے کیسے نمٹتا ہے . آج کے دور میں ایسے کارکن کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں . اگر کارکنان کی اپنے مقصد کے لیے لگن اور محنت کے حوالے سے بات کی جائی تو آج کل ڈاکٹر قادری کے کارکن ہر جگہ سرگرم نظر اتے ہیں . کچھ عرصہ قبل ان کے چند کارکنان سے میری ملاقات ہوئی جہاں تک میں ان لوگوں کو سمجھا ہوں یہ کوئی اور ہی مخلوق ہیں. ان کو گالیاں دیں یہ جواب میں دلیل پیش کریں گے ،ان کو دھکے پڑین تو جواب میں دعا دیتے ہیں ، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قادری صاحب نےایک ایک کی بذات خود تربیت کی ہو. قادری صاحب کا شمار تو بلاشبہ دنیائے اسلام کے بہترین مقرررین اور خطبا میں ہوتا ہی ہےمگر ان کے کارکن بھی کسی سے کم نہیں ہیں . خلاصہ یہ کہ سلجھے ہوئے، اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہذب اور اعلٰی تربیت یافتہ لوگ ہیں جن کا ایک نظریہ ہے . دوسری جماعت کے کارکن کو تو پِھر بھی کوئی لالچ ہو سکتا ہے کہ پارٹی میں شمولیت کے بعد کبھی نا کبھی تو کوئی عہدہ ملے گا یا کبھی تو باری آئے گی یا پِھر پارٹی کے کسی ایم این اے یا وزیر سے اپنا کوئی سرکاری کام ہی لے لیں گے مگریہ لوگ کسی لالچ کے بغیر قادری صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں . یہ لوگ اِس قدرمخلص ہیں کہ مخالف بھی ان کی تعریف کیے بغیرنہیں رہ سکتا . قادری صاحب سے اختلاف کریں یا ان پہ اعتراض مگر قادری صاحب کے کارکن کی تعریف نہ کرنا زیاتی ہو گی . یہاں میں ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سنانا چاہوں گا . لانگ مارچ اسلام آباد کی سخت سردی میں جب ان لوگوں نے دھرنا دیا تو اسلام آباد کے دوسرے شہریوں کی طرح مجھے بھی یہ تجسس ہُوا کہ جا کر دیکھیں تو سہی کہ آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں سو ہم رات کے ایک دو بجے ڈی چوک کی طرف روانہ ہوئے . وہاں تو خوب رونق تھی خوب ترانے بجاۓ جا رہے تھے۔ کچھ لوگ روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پر بھی بیٹھے تھے . تو ہم ان کے پاس جا کے بیٹھ گۓ باتیں وغیرہ شروع ہوئی۔ اتنے میں وقفے وقفے سے کارکن کچھ نا کچھ کھانے کے لۓ لاتے رہے .وقت جب تھوڑا زیادہ ہُوا تو اس کی ساتھ ساتھ سردی بھی اسی تناسب سے بڑتی گئی اسلام آباد کی سردی اور وہ بھی کھلی سڑک پر، دانت بجنے لگے اور جسم میں سوئی کی طرح سردی چبھنے لگی۔ا یسے میں ایک خدا کے بندےنے ایک تجویز دی کہ کیوں نہ آس پاس کے درختوں سے ٹہنیاں اور پتے توڑے جائیں اور آگ جلا کر کچھ حرارت حاصل کی جائے . . . سب نے اِس پر اتفاق کیا اور دوشخص اِس مقصد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے . ابھی انہوں نے دوہی قدم اٹھاۓ ہوں گے کہ دفعتا ایک بولا ” بابا جی ( ڈاکٹر قادری ) نے زُبان دی ہے کے پتہ بھی نہیں ٹوٹے گا ” . اِس لمحے ایسا لگا جیسے سب پہ سکتا آ گیا ہو اور سب اپنی اپنی جگہ پے ساکت ہو کربیٹھ گۓ. اس وقت مجھے ھسی تو آئی کے بھائی بابا جی کون سا آپ کو دیکھ رہۓ ہیں . مگر جب گھر پہنچا اور اِس بات کو سوچا کے ہُوا کیا ہے تو ایک بات میرے ذہن میں صاف ہو گئی کے قادری صاحب نے کہا تو تھا کے پتہ بھی نہیں ٹوٹے گا انہوں نے یہ اصطلاحا کہا تھا مگریہ لوگ اپنےقاﺋد کی چھوٹی چھوٹی بات کو اتنی سنجیدگی سےلیتے ہیں جان کے تعجب بھی ہُوا اور حیرانگی بھی . رانا ثناء اللہ صاحب اور خواجہ سعد رفیق جو قادری صاحب کا جن نکالنے کی بات کر رہے ہیں ان کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ اِس بار ان کا پالہ کس سے پڑ رہا ہے . اگر یہ لوگ قاﺋد کے کہنے پے پتہ نہیں ٹوٹنے دیتے تو یہ قاﺋد کے ایک اشارے پے کیا کر گزریں گے اِس کا اندازہ لگانا مشکل ہے . مجھے نہیں پتہ کے قادری صاحب کاانقلاب آیے گا یا نہیں مگر یہ لوگ بلاشبہ انقلابی ضرور ہیں . میرا رانا صاحب اور خواجہ صاحب کو پیغام ہے کہ قادری صاحب کا جن نکلے یا نہ نکلے مگر آپ کی گردن سے اتفاق فونڈری کا سریا ضرورنکلے گا