Dr. Tahir ul Qadri’s Revolution

Posted on June 6, 2014



ڈاکٹر طاہرالقادری کا انقلاب اور رکاوٹیں (سید جواد حیدر)

صحافت،شرافت، عدل اور انسانیت

ہمارےملک میں جس طرح شرافت اور عدل کا جنازہ صحافی برادری باںخصوص کالم نویسوں اور ٹی وی اینکرز نے نکالا ہے الحفیظ و الاماں۔ دنیا بھر میں تجزیہ نگاری اور کالم نویسی کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔
پیسے لےکر پلاٹ لے کر یا کسی قسم کی مراعات لیکریا عہدہ ہی لیکر کوئ کالم لکھنا تو دور کی بات ہےخبر تک لگانے کا تصور نہیں اگر خدانخواستہ کوئ ایسا کرنے کی کوشش کرے تو ادارے اور عدلیہ ثابت ہونے پر ایسی سزا دیتے ہیں کہ اس کا کریر تو ختم ہوا ہی پھر کبھی کوئ اور ایسا کرنے کی جراءت نہ کرے۔

تجزیہ نگا اور کالم نویس اگرچہ ان کا تعلق ذاتی طور پر کسی جماعت سے ہو یا نہ ہو وہ چاہے کسی جماعت کے ایجنڈے سے متفق نہ بھی ہوں اگر وہ ملکی سیاست پر کالم لکھیں یا ٹی وی پر تجزیہ دیں کم از کم ہر اس جماعت کو جس کی فالوئنگ ملک میں ہو کو ڈسکس کرتے ہیں اسکے منشور کو بیان کرتے ہیں پھر اپنا تجزیہ بیان کرتے اور منشورسے اپنے اختلاف کی وجوہات بیان کرتے ہیں ۔
اب آ جائیے اپنے ملک میں یہاں نچلے درجے کے صحافی لفافہ لیکر لکھتے ہیں منتھلی لفافہ لیکر لکھنے والوں سے جو چاہے جیسا چاہے لکھوا لے پھر باری آتی ہے ان کی جو ہر حکمران کی تعریفیں کرنا ہی صحافت سمجھتے ہیں کیوںکہ ٹھیکےاور عہدے صرف حکومت وقت ہی دے سکتی ہے۔ان دونوں طبقت سے عوام اب کچھ کچھ آشنا ہو رہی ہے ۔

مجھے دکھ اس تیسرے طبقے کے صحافی کا ہے جو وطن سے محبت بھی کرتا ہے مانند طواءیف بکتا بھی نہی لیکن کسی خاص جماعت سے تعلق کی بنا پر یا ذاتی بغض و حسد اور عناد کی بنا پر کبھی تو دامن عدل کو چھوڑ کر صحافت کیلیے بدنما داغ بن جاتا ہے اور کبھی شرافت اور عدل دونوں کو چھوڑ کر انسانیت کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ پھر وہ صوفیاء کی باتیں کرنے کے باوجود عبدالله ابن ابئ کا پیروکار ہی لگتا ہے۔

مثال کے طور پر مجھے اگر ڈاکٹر طاہر القادری اچھے نہیں بھی لگتے لیکن ان کی بہت بڑی فالوئنگ ہے اور جو کچھ انہوں نے پچھلے سال کہا سب حرف بحرف سچ ثابت ہوا جس کی وجہ سے اب لاکھوں لوگ ایک سال میں ان کے ساتھ شامل ہوے اور بلاشبہ ساٹھ شہروں میں بیک وقت ہونے والی انکی ریلیاں پاکستان کا تاریخ کی سب سے بڑی ریلیاں تھیں لیکن بظاہر بڑے پارسا اور حق کہنے لکھنے والے ہارون الرشید صاحب ڈنڈی مارنے سے باز نہ رہ سکے انہیں نہ تو ساٹھ شہروں میں نکلنے والے لاکھوں لوگ نظر آئے کہ ان کا ذکر کرتے اگر کسی اینکر نے پوچھا بھی تو سادگی میں لپٹی چالاکی سے سوال گول کر گئے۔اور نہ ہی ملک و عوام کی فلاح کے لئے ڈاکٹر قادری صاحب کادس نکاتی ایجنڈا ۔

ہارون الرشید صاحب نے تو شرافت کی ساری حدیں پھلانگتے ہوے اپن ے ٢ جون کے کالم میں ڈاکٹر صاحب پر بھتان باندھ دئے-محترم ہارون الرشید صاحب خدا کا کچھ تو خوف کریں ڈاکٹر طاہرالقادری سے اختلاف اپنی جگہ بہتان تراشی تو نہ کریں بیشک یہ ایک بڑا گناہ ہے۔

اسی طرح طلعت حسین کو بھی ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے خدا واسطے کا بیر ہے۔