نواز شریف کی بھارت یاترا، پر تپاک استقبال کیا معنی رکھتا ہے؟

Posted on May 28, 2014 Articles



ھمارے پردھان منتری نواز شریف بھارت کے نئے الیکٹیڈ پردھان منتری نریندر مودی کی حلف برداری میں شرکت کے لیے بھارت کو چل پڑے، اور اس کا جو استقبال کیا گیا وہ بھی قابل رشک ہے اور ھمارے لیے قابل فخر بھی کے وہی نریندر موودی جس کو صرف پاکستان دشمنی اور اس سے بڑھ کر مسلمان دشمنی کی وجھہ سے بھارت کا پردھان منتری بنایا گیا ہے اور جب وہ بن گیا تو ھمارے پردھان منتری کو دعوت دے ڈالی اور وہ قبول کر لی گئی اور شاندار استقبال کیا گیا۔ اگر نریندر موودی کی انتخابی مھم کو دیکھا جائے تو اس کا فوکس سارے کا سارا پاکستان دشمنی پے رہا، ایک سوال یمیرے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ جب نریندر موودی پاکستان کے خلاف اپنی انتخابی مھم چلا رہا تھا ،اگر بھارتی قوم اس کو اھمیت نا دیتی تو اس کو اتنا بھاری مینڈٹ کیوں دیتی؟ جواب ھمارے سامنے ہے۔ تو ھمارے پردھان منتری کو اتنا پروٹوکول کیوں دیا گیا؟ یہ بھی قابل ذکر بات ہے میں اس کی چند وجوہات بیان کرتا ہوں، ۱۔ موودی کی حلف برداری میں اس کی کلائیںٹ ریاستوں کے رھنما آئے ہوئے تھے اور پاکستان وہ واحد ملک تھا جو آج تلک بھارت کے سامنے اڑا ہوا ہے اور نواز شریف کا ادھر جانا اور مسلمان دشمن ھندو کٹر کے حلف برداری میں شرکت کرنا ایسا تھا جیسے کسی کے آگے سرینڈر کیا جا رہا ہو اور یہ اصول ہے کو جو دشمن سرینڈر کرتا ہے اس کو زیادہ پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ ۲۔ نواز شریف ھمارے واحد پردھان منتری ہیں جو اب اپنی فوج کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا لیکن اب تو عیاں ہوگیا ہے جو پاکستانی فوج کے خلاف بات کرتا ہے اس کو آشرواد دینے میں ھمارا پردھان منتری دیر نہیں لگاتا ہے، جیو گروپ کا مثال ھمارے سامنے ہے، اور بھارتی پنڈتوں پے یہ لازمی بنتا تھا کے پاکستان کے فوج خلاف جس کے دل میں کچھ بھی خلش ہو اس کا شاندار استقبال کیا جائے۔ ۳۔ ھمارے یہ پردھان منتری کچھ زیادہ ہی بھارت کی طرف جھکا ہوا ہے اور اس کے حق میں بہت سی باتیں ماضی میں بھی کرتا رہا ہے اور اب تو اس نے ثابت کردیا کہ مان نہ مان میں تیرا مھمان، تو اس استقبال تو کیا جانا تھا۔ ۴۔ بھارت کے پنڈتوں کو یقین تھا کہ ماضی میں جیسے کا بھارت کا کوئی بھی لیڈر کسی بھی پاکستانی رہنما کی تقریب حلف برداری میں شریک نہیں ہوا تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئی پاکستانی رہنما بھی کچھ غیرت کا مظاہرا کریگا ، اور شرکت نہیں کریگا لیکن اس نے حلف برداری میں جاکر جس چھوٹے پن کا مظاہرا کیا تو پھر بھارت کا حق تھا کہ وہ بڑے پن کا مظاہرا کرتے ہوئے ھمارے پردھان منتری کا شاندار استقبال کیا جاتا۔ ۵۔ تقریب حلف برداری میں بھارتی ترانہ بندہ ماترم تو ضرور پڑھا گیا ہوگا اور ھمارے تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان رہنمائوں کو اس پے اعتراض تھا، لیکن ھمارا پردھان منتری ضرور اس کے استقبال کے لیے کھڑا ہوا ہوگا، تو جو بندہ ماترم کا استقبال کرے اس کا حق بنتا ہے کے اس کا بھی استقبال کیا جائے۔ ۶۔ ھمارے پردھان منترے نے پرویز مشرف پے غداری کا مقدمہ قائم کیا ہوا ہے اور یہ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارتی جنتا پرویز مشرف کو اپنا دشمن مانتی ہے، اور پرویز مشرف نے بھارتی میڈیا پے ان کی جو درگت بناتا رہا ہو بھی ڈھکی چھپی بات نہیں تو یہ بات سمجھنے میں دیر کیوں لگائی جاتی ہے کے جو پرویز مشرف کا دشمن ہے وہ بھارت کا سجنا ہے تو سجنا کا تو استقبال کرنا بھارت پے لازمی تھا۔
آخر میں یہ کہونگا کہ ھمارا میڈیا جو بھی کہتا پھرے لیکن نواز شریف نے مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کے کٹر دشمن کی تقریب حلف برداری میں جاکر کوئی دانش مندی کا کام نہیں کیا لیکن اس نے تو کشمیریوں اور پاکستانیوں کا دل دکھایا ہے جس کا اس کو جواب دینا پڑے گا۔