طالبان میں مصالحت

Posted on May 28, 2014 Articles



تحریر: فہد اکرام
پاکستان میں طالبان گروہ میں موجود اختلافات سامنے آگئے ہیں یہ اختلافات تھے یا ڈالے گئے؟ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اختلافات سامنے آنےکے بعد جو خونی منظر نامہ نظر آرہا ہے وہ شام میں جاری خانہ جنگی میں مصروف مختلف جہادی گروہوں کے باہمی اختلاف سے مختلف نہیں ہوگا اور یہی سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس لیے شام میں جاری مختلف گروہوں کے باہمی اختلافات پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور اسی کی روشنی میں مستقبل کا ایک موہوم سا خاکہ دیکھنےکی کوشش کرتے ہیں۔
شامی حکومت کے خلاف جاری محاذ آرائی میں شریک گروہوں نے خطے کے ممالک کی مدد سے بہت سے شامی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا لیکن اقتدار کا نشہ چڑھا تو اپنی اپنی عملداری قائم کرنے کے شوق میں جہادی گروہ آپس ہی میں دست گریبان ہوگئے جس کے نتیجہ میں سینکڑوں کی تعداد میں جہادی مارے گئے لیکن لڑائی کسی طور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ ایمن الظواہری سے لیکر بہت سے سعودی مفتیان کرام سمیت سبھی نے ایڑی چوٹی کا زور لگالیا لیکن جنگ نہ رک سکی۔
مختلف گروہوں کے درمیان مصالحتی کوششیں شروع ہوئیں تو گڑھے مردے نکلنے شروع ہو گئے اور مختلف گروہوں کی طرف سے عجیب و غریب قسم کی شکایات کی جانے لگیں یہاں تک دعوی کیا گیا کہ بعض گروہ مجاہد خواتین کے اغواء میں ملوث ہونے کے علاوہ ایک دوسرے کے ساتھ مجاہدات کے تبادلے میں بھی مصروف ہیں! مخالفوں پر تہمتوں کا سلسلہ شروع ہوا، ایک دوسرے کو اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔
علماء و مفتیان کرام جہادی گروہوں کے درمیان اختلافات کو کم کرنے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ خود آپس میں بھی اختلافات کا شکار ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں اردن کے مفتی ابومحمد المقدسی نے داعش (دولت اسلامیہ فی العراق و الشام) کو گمراہ قرار دیتے ہوئے داعش میں موجود مجاہدین سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد داعش کو چھوڑ کر النصرہ فرنٹ میں شامل ہوجائیں۔ ابومحمد المقدسی سے منسوب بیان میں داعش کو خوارج قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف معروف شامی مفتی اور میڈیا پر سرگرم عالم دین شیخ عرعور نے مختلف گروہوںمیں جاری لڑائی کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے بعد مصالحت کروانے کے لیے ایک عجیب و غریب فتوی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح خلیفہ یزید نے مدینہ کو اپنے لشکر پر حلال قرار دیا تھا اسی طرح میں پورے شام کو النصرہ فرنٹ ، داعش اور دیگر مجاہدین کے لیے حلال قرار دیتا ہوں! شیخ عرعور کے مذکورہ فتوے کی علمائے مصر سمیت بہت سے علماء نے مذمت کی جس کی وجہ سے یہ فتوی زیادہ شہرت حاصل نہ کرسکا۔ خیر شام کے مختلف گروہوں کے درمیان مصالحت کروانے کے اس قسم کے غیرسنجیدہ یا سنجیدہ اقدامات کیے گئے جنمیں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی اور شام مسلسل تباہی و بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
شام کے بعد اب پاکستان میں بھی طالبان میں باہمی اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ماضی میں بھی اکا دکا واقعات میں مختلف طالبان کمانڈروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پاکستان کی حکومت، دانشوروں اور میڈیا میں سرگرم افراد سے ہر وقت بس یہی امید ہے کہ وہ حالات پر کڑی نظر رکھیں اور اگر کوئی مفتی یا عالم دین طالبان کے درمیان مصالحت کروانے کے لیے شامی طریقہ کار اپنانےکی کوشش کرے تو خدارا اسے ایسا اقدام اٹھانیں سے باز رکھیں۔