کیا اللہ اور اسکے رسول کا قانون مسلمان ملک میں مسلمانوں کے لیے ناقابل عمل ہے؟

Posted on May 25, 2014



اللہ جل جلا لہ کا نظام کامل اور ہر نقص سے پاک ہے، اس نے اپنے نظام کے نفاذ کے لیے اپنے ایسے خاص نورانی بندوں کو چنا جو ہر نقص سے پاک اور معصوم ہیں یعنی اس کے پیارے محبوب انبیا کرام اور رسل عظام سلام علیھم اجمعین۔ اللہ جل جلالہ نے قران مجید میں ہر جگہ ان کی تعریف کی ہے اور ان پے سلام بھیجھا ہے اور ان کے کاموں کو اور ان کی زندگی کے حالات کو اس طرح بیان کیا ہے جیسے وہ واقعات ماضی قریب مین وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ اللہ جل شانہ کا سلام ہو ان کے انبیا اور رسل پے جنہوں نے ہر تکلیف کو برداشت کیا، لیکن اپنا کام بلکل اس طرح انجام دیا جس طرح ان کو اللہ جل شانہ نے حکم دیا۔ کوئی نمرود سے نبرد آزما ہوا، کسے نے فرعوں کو اللہ کی مدد سے غرق آب کیا اور آج تلک عبرت کا نشان بنا ڈالا۔ کئی انبیا کو ناحق قتل یعنی شھید کیا گیا۔ اور اس کے نتیجے میں کئی ظالم اقوام پے اللہ جل شانہ نے اپنا عذاب نازل کیا اور ان زمین سے نیست و نابود کردیا۔
سارے انبیاء کرام سلام اللہ علیھم اجمعں آئے اور اپنا اپنا کام احسن طریقے سے سر انجام دیا اور اس فانی دنیا کو چھوڑ کر دارالبقا میں چلے گئے اور اپنے اللہ کے حضور میں حاضر ہیں۔ ہمارے پیارے آقا ختم رسل سردار و سید الانبیاء و رسل رحمت دو جہاں، نور مجسم ہر طرح سے کامل و اکمل۔ اللہ جل شانہ نے دنیا والوں پے احسان کیا اور اس کو مبعوث کیا۔ اس کے صدقے میں اپنے عذاب کو جو دوسرے انبیاء و رسل کے دور میں آیا کرتا تھا موقوف کردیا ۔ اس کو پوری انسانیت کے لیے رول ماڈل بنا دیا اور اس کی اطاعت کو واجب کردیا اور اسکی اطاعت کو اپنی اطاعت کردیا۔ اور حکم دے دیا کے َاللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں تمھارے لیے بھترین نمونہ ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ جو کچھ رسول ﷺ تمہیں دیں وہ لے لو یعنی اس پے عمل کرو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جائو۔ قرآن مجید فرقان حمید میں فرمان خدا وندی ہے دین اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا گیا ہے۔ اور ایک جگہ فرمان ہے کہ دین اسلام ہے پے اللہ جل شانہ راضی ہے۔ یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ آیات قرانی کا مفھوم ہے باقی اگر کہیں کوئی غلطی ہوجائے تو میں اس کے لیے پیشگی معذرت کر لیتا ہوں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلبگار ہوں، اللہ غفور و رحمان و رحیم ہے۔
اوپر دیے گئے حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کے اس زمیں پے اللہ ہی کا قانون چلے گا اور خصوصن ھم جو کلمہ پڑھتے ہیں ان پے تو فرض ہے کے اپنے آپ پے اللہ کا قانون نافذ کریں اور جب تلک اس کو نافذ نہیں کرینگے تب تلک رسوائی اور خواری ھمارا مقدر بنی رہے گی۔ اللہ جل شانہ کا دیا ہوا نظام عین انسانی فطرت کے مطابق ہے اور اس پے عمل کرنے سے آسانی پیدا ہوتی ہے۔ میرے اس کالم سے یہ نہ سمجھا جائے کے میں اس نظام کی بات کر رہا ہوں جو نام نہاد ملاں اور طالبان لانا چاہتے ہیں اس کا تو رحمت العالمینﷺ کے دین محبت سے تو کوئی تعلق ہی نہیں وہ جس اسلام کی بات کرتے ہیں وہ تو اسلام کی ضد ہے، اسلام کے ایک معنی امن اور سلامتی ہے اور طالبان کے اسلام میں تو یزیدیت ہے۔ ظلم اور بر بریت ہے۔ چلو خیر میں اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے اس کالم کے آخر میں یہ ہی اپیل کرونگا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا نظام ہی ہمارے لیے ایسا روشن راستہ ہے جس پے چل کر ہم اس دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ یہ جو اندرونی اور بیرونی فرعون ہیں ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں ورنہ یہ ہمارے مسلمان حاکم جو ہیں تو مسلمان ہی لیکن غلام ہیں اغیار کے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی غلامی قبول کرنے کو جو تیار نہیں وہ ہم کو کونسا امن اور سلامتی، شانتی اور چین دینگے، ان کا محاسبہ کرنا ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن ان کے ساتھ اس ملک کی عوام کو بھی حساب دینا پڑے گا کہ جب حاکم وقت نے ظلم کیا تو تم کیوں ان کے حمایتی بنے رہے اور کیوں ان کو اپنے ووٹ سے اقتدار میں لاتے رہے، ذرا سوچیے پھر کیا ہوگا؟ جس ملک میں ایک چینل آزادی اظہار کی آڑ میں پیسہ بنانے کے لیے اسلامی اشعار کی بی حرمتی کرتا ہے، میرا سلطان ڈرامہ دیکھتا ہے اور اس میں اللہ کی آیات کو ٹیمپر کیا جاتا ہے اور پھر بھی حکومت وقت اس بات پے بضد ہو کے اس کو رعایت دی جائے اگر رعایت دی گئی کسی عبرتناک سزا کے بغیر اور اس ملک کے علماء خاموش رہے یا عوام تو پھر قیامت کے دن یاد رکھو ہر چیز کا محاسبہ ہوگا، پھر کیا ہوگا؟