مکمل ادھوری کہانی

Posted on May 22, 2014



مکمل ادھوری کہانی!!
کہانی تو کہانی ہوتی ہے ادھوری ہویا پوری! کہتے ہیں ایک کھاتے پیتے گھر سے تعلق رکھنے والے صاحب کو اللہ تعالی نے بیٹا عطا کیا یہ بچہ جب چند سال کا ہوا تو اس کے باپ نے سالگرہ کے موقع پر بچے سے پوچھا تمہیں کیا تحفہ چاہیے تو بیٹے نے معصومیت کے عالم میں باپ سے ایک گیند کا تقاضا کیا تو باپ نے کہا بیٹا جو بھی کہو لے دوں گا لیکن بچے کی ضد تھی ایک گیند لے دیں خیر بچے کی محبت سے مجبور باپ نے گیند لے دی۔
جوں جوں بچہ بڑا ہوتا گیا ہر سالگرہ پہ فرمائش کر دیتا ایک گیند چاہیے، اب یہ بچہ مزید بڑا ہو تو سکول میں بھی ذہین ہونے کی وجہ سے ہر کلاس میں پہلے نمبر پر آنے لگا ہر بار باپ کہتا بیٹا یہ لے دوں وہ لے دوں لیکن وہ ہر موقعہ پر یہ ہی کہتا ایک گیند لے دیں
رفتہ رفتہ بچہ بڑا ہوا سکول سے کالج اور کالج سے یورسٹی پہلی پوزیشن کے ساتھ تعلیم مکمل کی۔ باپ بھی اپنی طرف سے دل کھول کر تحفوں کی پیشکش کرتا رہا موٹر سائیکل لے دوں گاڑی لے دوں لیکن یہ شیر کا بچہ کہتا ایک گیند لے دیں ہر بار باپ پوچھتا بیٹا گیند کا کرنا کیا ہے نہ تو تم اس سے کھیلتے ہو نہ تم کسی کو دیتے ہو اتنی گیندوں کا کرنا کیا ہے ؟ بیٹا ہر بار یہ کہہ کر ٹال دیتا ایک دن ضرور بتاؤں گا۔
بیٹے کی شادی رچائی گئی تو شادی میں بھی باپ سے ایک گیند تحفہ مانگی باپ تو جیسے پاگل ہونے والا تھا بیٹا بتا تو دے ان کا کرنا کیا ہے لیکن بیٹے کی طرف سے یونہی ٹال مٹول کے عالم میں دن گزرتے گئے خیر ایک دن ایسا آیا جب باپ بیماری کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا ،ہسپتال سے بیٹے کو باپ نے فون کر کے کہا بیٹا زندگی موت کا کچھ پتہ نہیں شاید اب میں ہسپتال سےگھر نہ آسکوں اب تو بتا دو تم ہمیشہ گیند ہی تحفے میں کیوں لیتے تھے بیٹے نے کہا فون پہ نہیں میں ابھی آپ کے پاس آکے بتاتا ہوں کہ ماجرا کیا ہے خیر بیٹا جیسے ہی تیزی میں گھر سے نکلا روڈ ایکڈ ننٹ میں مارا گیا اور یہ راز ہمیشہ کے لیے راز ہی رہ گیا!
میں معزز قارئین سے معذرت خواہ ہوں اس راز کا مجھے بھی کو ئی علم نہیں یہاں تک جس نے بھی پڑھا ہوگا یقینا وہ اس وقت دل ہی دل میں مجھے کیا کچھ ہے جو نہیں کہہ رہا ہوگا جب کا کہانی کا اینڈ نہیں ملتا تو میں سمجھ سکتا ہوں کتنی تکلیف ہوتی ہے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہمیں تو عادت سی ہوگئی ہے ایسی کہانیاں سننے کی اب ہمیں مزہ بھی ایسی ہی کہانیوں میں آتا ہے ہم اگر گذشتہ چند سالوں کی طرف نگاہیں مرکوز کریں تو صاف نظر آئے گا کہ کہانی شروع تو بڑے جوش و خروش سے ہوتی ہے لیکن نتیجہ کسی کا بھی نہیں ملتا مثال کے طور پر ملاحظہ کیجئے:
میمو گیٹ کہانی جو ہر شخص کا ورد زبان تھی کسی اختتام کے بغیر ختم ہوگئی؟!
حج کرپشن قصہ جسے اسلام پر حملے کے مترادف جانا گیا کبھی ختم نہ ہوسکا؟!
سوئس بینکوں سے اربوں ڈالر واپس لائے جانے کی داستان سن سن کر کان پک چکے ہیں لیکن یہ کہانی کہاں ختم ہوگی کسی کو کچھ پتہ نہیں!
بارہ اکتوبر کہانی میں جمہوریت پر حملے میں کون ہیرو کون زیرو کا نتیجہ کہاں دفن ہوگیا کسی کو کچھ پتہ نہیں!
چھ مہینے میں بجلی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو نام بدل دینا سٹوری کا نتیجہ کیا ہوا؟!
شہزادے کی شہ خرچیاں مگر پرائی جیب سے نتیجہ ؟
مذکورہ چند کہانیاں وہ ہیں جو تقریبا ہر پاکستانی کو زبانی یاد ہیں لیکن کسی مہذب انسان کے سامنے پیش کرنے کے لائق نہیں۔ عدلیہ کے پاس ایسی ساٹھ ہزار یا ساٹھ لاکھ کہانیاں ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں ادھوری کہانیاں ہی پسندہیں اور ہم ہمیشہ ادھوری کہانیوں کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ مکمل ادھوری کہانیاں پیش کرنا ہمارا طرہ امتیاز ہےیہ عظیم کام ہم لوگ ہی کر سکتے ہیں جو کوئی نہ کرسکے وہ ہم کرسکتے ہیں ۔